معذروت، کچھ تبدیلیوں کے بعد حاضر ہو گا
سر الف عین
دل سے توبہ کرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
آخرت سنورنے میں دیر کتنی لگتی ہے
کتنا وقت ہو گا صبح کاذب اور صادق میں
روشنی بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
دار پر چڑھانا ہے چند بد قماشوں کو
قوم کو سدھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
ایک پل میں کر دیں قتل حسن والے آنکھوں سے
شوق ہو تو مرنے میں ، دیر کتنی لگتی ہے
اک حسیں سے بڑھ کے گر اک حسین ملتا ہو
زندگی گذرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
اک نگہ محبت کی اور مسکراہٹ ایک
زخمِ دل کو بھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
دل کو تو سنبھلنے کا وقت ہی نہیں ملتا
تیر کے گذرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
زندگی تو چلنی ہے تُو نہیں تو اور ہوں گے
دل سے کچھ اُترنے میں دیر کتنی لگتی ہے
بے وفاؤں کے مقبول عہد کچھ نہیں ہوتے
کہہ کے پھر مکرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
یا
ان کے کہہ مکرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
نوٹ: بات سے مکرنے میں دیر کتنیُ لگتی ہے
یہ مصرعہ پہلے ہی کسی کے شعر میںُ موجود ہے
اس لیے میں نے اپنا آخری مصرعہ تبدیلُ کیاُ ہے