برائے اصلاح: "سیدھا پہن لیا کبھی الٹا پہن لیا"(پیروڈی)

عاطف ملک — جون 27، 2017 9:51 صبح
"سیدھا پہن لیا کبھی الٹا پہن لیا"
یوں چار ماہ اک ہی سلُوکا پہن لیا
پڑھ کر نماز عید کی، سونے سے پیشتر
ہم نے گزشتہ روز کا کرتا پہن لیا
سلمیٰ سے عید ملنے کو جانا تھا اس کے گھر
جب اور کچھ نہ سوجھا تو برقع پہن لیا
دیکھی جو ہم نے پارہِ جاناں کی رفعتیں
چپکے سے ہم نے ان کا ہی جوتا پہن لیا
ہم کو تو چاہیے تھا بس امپورٹڈ کا ٹیگ
سو ہم نے بے حیائی کا چولا پہن لیا
اپنے ہی گھر کی بیٹیاں غیروں کو بیچ کر
بے غیرتی کا سینے پہ تمغہ پہن لیا
عیاری اور فریب کا رخ پر لیا نقاب
جمہوریت کا ظلم نے چہرہ پہن لیا
جب مر رہے تھے جلتے ہوئے لوگ راہ پر
تب بے حسی کا عینؔ نے چشمہ پہن لیا
الف عین — جون 27، 2017 11:20 صبح
دلچسپ، زبردست عمر سیف کو نہیں ٹیگا؟
مطلع میں ’اک ہی‘ پسند نہیں آیا۔ ‘ایک ہی چغہ‘ کیسا رہے گا؟
عاطف ملک — جون 27، 2017 11:25 صبح
عمر سیف کو نہیں ٹیگا؟
مطلع میں ’اک ہی‘ پسند نہیں آیا۔ ‘ایک ہی چغہ‘ کیسا رہے گا؟
استادِ محترم،
ایک ہی چغہ بھی زبردست ہے۔
"سلُوکا" اس لیے ڈالا ہے کہ سیدھا اور الٹا پہنا جا سکتا ہے اور کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی :p
:redheart:
بہت بہت شکریہ استادِ محترم !
میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے آپ کا یہ تبصرہ :)
محمد عدنان اکبری نقیبی — جون 27، 2017 1:54 شام
واه جناب .تلخ کهلا سچ.سلامت رهو.
محمد ریحان قریشی — جون 27، 2017 3:17 شام
جب مر رہے تھے جلتے ہوئے لوگ سرِ راہ
سر “ر“ مشدد کے ساتھ غالباً کسی شے کے سب سے اہم حصے کے معنی رکھتا ہے.
عاطف ملک — جون 27، 2017 7:15 شام
واه جناب .تلخ کهلا سچ.سلامت رهو.
شکریہ عدنان بھیا :)
سر “ر“ مشدد کے ساتھ غالباً کسی شے کے سب سے اہم حصے کے معنی رکھتا ہے.
ابھی درستی کر لیتا ہوں۔
"راہ پر" شاید بحر میں ہے :)
جزاک اللہ :)
سلامت رہیں :)
عمر سیف — جون 28، 2017 4:12 شام
"سیدھا پہن لیا کبھی الٹا پہن لیا"
یوں چار ماہ اک ہی سلُوکا پہن لیا
پڑھ کر نماز عید کی، سونے سے پیشتر
ہم نے گزشتہ روز کا کرتا پہن لیا
سلمیٰ سے عید ملنے کو جانا تھا اس کے گھر
جب اور کچھ نہ سوجھا تو برقع پہن لیا
دیکھی جو ہم نے پارہِ جاناں کی رفعتیں
چپکے سے ہم نے ان کا ہی جوتا پہن لیا
ہم کو تو چاہیے تھا بس امپورٹڈ کا ٹیگ
سو ہم نے بے حیائی کا چولا پہن لیا
اپنے ہی گھر کی بیٹیاں غیروں کو بیچ کر
بے غیرتی کا سینے پہ تمغہ پہن لیا
عیاری اور فریب کا رخ پر لیا نقاب
جمہوریت کا ظلم نے چہرہ پہن لیا
جب مر رہے تھے جلتے ہوئے لوگ راہ پر
تب بے حسی کا عینؔ نے چشمہ پہن لیا
واہ بھائی عاطف ملک۔ مطلع میں اک ہی کچھ جچا نہیں۔ چاچو نے جو کہا وہ اچھا ہے۔
دلچسپ، زبردست عمر سیف کو نہیں ٹیگا؟
مطلع میں ’اک ہی‘ پسند نہیں آیا۔ ‘ایک ہی چغہ‘ کیسا رہے گا؟
ٹیگنے کا شکریہ۔ کبھی سوچا نہیں تھا چاچو کہ اس غزل کی پیروڈی بھی کوئی کرے گا۔
عاطف ملک — جون 30، 2017 4:17 صبح
واہ بھائی عاطف ملک
شکریہ عمر بھائی :)
مطلع میں اک ہی کچھ جچا نہیں۔ چاچو نے جو کہا وہ اچھا ہے
جی بہت بہتر :)
ٹیگنے کا شکریہ۔ کبھی سوچا نہیں تھا چاچو کہ اس غزل کی پیروڈی بھی کوئی کرے گا۔
ماشااللہ، آپ کی غزل بہت خوبصورت ہے :)
اور خوبصورت چیزوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہمارا مشغلہ :p
امید ہے کہ یہ جسارت معاف فرمائیں گے:)
عمر سیف — جون 30، 2017 12:36 شام
شکریہ عمر بھائی :)
جی بہت بہتر :)
ماشااللہ، آپ کی غزل بہت خوبصورت ہے :)
اور خوبصورت چیزوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہمارا مشغلہ :p
امید ہے کہ یہ جسارت معاف فرمائیں گے:)
بہت شکریہ عاطف ۔۔
محمداحمد — جون 30، 2017 12:45 شام
کیا کہنے!
مزاح سے شروع ہونے والا یہ کلام گہرے طنز والے اشعار پر ختم ہوا۔
بہت سی داد حاضرِ خدمت ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%B3%DB%8C%D8%AF%DA%BE%D8%A7-%D9%BE%DB%81%D9%86-%D9%84%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%A7%D9%84%D9%B9%D8%A7-%D9%BE%DB%81%D9%86-%D9%84%DB%8C%D8%A7-%D9%BE%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%88%DB%8C.97321/