برائے اصلاح: غزل

علی احمد صاحب — اپریل 9، 2020 4:22 شام
دل سنبھلنے لگا ہے تنہا کچھ۔۔۔
تُو بھی لگنے لگا پرایا کچھ۔۔۔
آج مدت کے بعد آمد ہوئی،
آج مدت کے بعد لکھا کچھ۔۔۔
آنکھ چھلکی، اشک بہہ نکلے،
یاد آیا زمانہ کیا کیا کچھ۔۔۔
داستانِ ہجر بیان کرتے وہ،
بیل بوٹے بنا رہا تھا کچھ۔۔۔
ہم کو ہو گی نذر محبت کی،
کس نے سوچا تھا ایسا کچھ۔۔۔
خیر صاحب سے جان تو چھوٹی،
لکھتا رہتا تھا کچھ کا کچھ۔۔۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 9، 2020 4:42 شام
آج مدت کے بعد آمد ہوئی،
آج آمد ہوئی تھی برسوں بعد
آنکھ چھلکی، اشک بہہ نکلے،
آنکھ چھلکی تو اشک بہنے لگے
داستانِ ہجر بیان کرتے وہ،
ہجر کی داستان کہتے، وہ
ہم کو ہو گی نذر محبت کی،
کس نے سوچا تھا ایسا کچھ۔۔۔

دونوں مصرع بحر میں نہیں
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 9، 2020 4:44 شام
خیر صاحب سے جان تو چھوٹی،
لکھتا رہتا تھا کچھ کا کچھ۔۔۔

لکھتا رہتا تھا بھائی کچھ کا کچھ
سید عاطف علی — اپریل 9، 2020 5:16 شام
لکھتا رہتا تھا بھائی کچھ کا کچھ
بھائی سے لگا کہ ایم کیو ایم کا شاعر ہے ۔ :ROFLMAO:
علی احمد صاحب — اپریل 9، 2020 5:30 شام
الف عین
آج آمد ہوئی تھی برسوں بعد
آنکھ چھلکی تو اشک بہنے لگے
ہجر کی داستان کہتے، وہ
دونوں مصرع بحر میں نہیں

بہت شکریہ محترم۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 9، 2020 5:42 شام
بھائی سے لگا کہ ایم کیو ایم کا شاعر ہے ۔ :ROFLMAO:
بعض لوگوں کا تکیہ کلام یہی ہوتا ہے، ’’آپ کا بھائی‘‘۔ فلاں کام آپ کے بھائی نے کروادیا۔ سوچ کر ہنسی آتی ہے کہ ایسے لوگ اپنی بیگم سے بات کرتے ہوئے کیا کہتے ہوں گے۔ نہ خوود کو بیگم کا بھائی کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی سالے صاحب کی تعریف کرسکتے ہیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%BA%D8%B2%D9%84.111192/