محترم
الف عین صاحب
میں آپ سے بہت سیکھ رہا ہوں ۔ شُکریہ
کچھ درستکی، کچھ وضاحت اور مزید رہنمائی کی درخواست کے ساتھ پیش کرتا ہوں
فیصلہ میرے یار نے کتنا عجیب کر دیا
شہر سے ہی نکال کر مجھ کو غریب کر دیا
.... شہر کی جگہ وطن کا محل ہے، پھر سے کہو مصرع
فیصلہ میرے یار نے کتنا عجیب کر دیا
مجھ کو نکال کر وطن سے ہی غریب کر دیا
یا
چھڑوا دیا مرا وطن مجھ کو غریب کر دیا
یا
کر کے وطن سے بے وطن مجھ کو غریب کر دیا
اچھے دنوں جسے نہ تھا میرا سلام بھی روا
ضرب نے وقت کی اُسے میرے قریب کر دیا
... اچھے دنوں یا اچھے دنوں میں؟ ورنہ محاورہ درست نہیں
اچھے دنوں میں شخص جو لیتا نہ تھا مرا سلام
ضرب کی وقت نے اسے میرے قریب کر دیا
وصل کی ایک گفتگو، ہجر کے ایک نامہ نے
عام سے ایک شخص کو شاعر،ادیب کر دیا
... گفتگو کے بعد بھی 'نے' ہونا تھا، ہجر کا نامہ کیا ہوتا ہے؟
چند گھڑی کے وصل اور ہجر کی ایک رات نے
عام سے ایک شخص کو شاعر، ادیب کر دیا
اگرچہ عیسیٰ میں نہیں تھا پھربھی دنیا نے مجھے
فقہ کے اختلاف پر نذرِ صلیب کر دیا
.. پہلا مصرع بحر سے خارج ہے
سر، اردو ویب پر جناب بسمل صاحب نے بحور کی جو فہرست مہیا کی ہے ، اس میں انہوں نے بحر رجز کے اوزان میں یہ تحریر فرمایا ہے
“مثمن مطوی، مطوی مخبون اور مخبون مطوی در اصل ایک ہی وزن ہے۔ مخبون اور مطوی کو ایک دوسرے کی جگہ لانے کی عروض میں اجازت ہے اس لیے یہ تینوں اوزان ایک نظم میں جمع کرنا بھی ”
میری غزل کے سب مصرعے مطوی مخبون کے وزن پر ہیں سوائے اس مصرعہ کے جسے آپ نے بحر سے خارج ہونے کا فرمایا ۔ یہ مصرع مخبون مطوی وزن پر ہے۔ میں نے خیال کیا کہ بسمل صاحب کی تحریر کے مطابق درست ہو گا
مزید رہنمائی آپ فرمائیے
حُسن نے وُہ دکھائیں مقبول کرشمہ سازیاں
جو تھے عزیز باہمی ان کو رقیب کر دیا
. یہ خیال رکھو کہ جو بحر دو حصوں میں منقسم ہو رہی ہو، اس کے ہر حصے میں جملہ، فقرہ یا لفظ خود تقسیم نہ ہو۔
حسن نے وہ دکھائیں مق....... بول الخ
ہو رہا ہے یہاں
جی میں سمجھ گیا ہوں۔ اپنا نام ڈالنے کی واحد جگہ یہی میسّر تھی۔ نام شاید نکالنا ہو گا
اس مصرع کو درست کرنے کے لیے آپ سے رہنمائی کی درخواست ہے
نوازش ہو گی