برائے اصلاح و تنقید

منذر رضا — جنوری 2، 2019 4:43 شام
السلام علیکم ۔۔۔اساتذہ کرام سے اصلاح کی درخواست ہے
الف عین
یاسر شاہ
محمد تابش صدیقی
سید عاطف علی
ہم کو ترکِ وفا کی اجازت نہیں
گو تغافل بھی کم از قیامت نہیں
اور کیا ہے ہمارا غمِ عاشقی
گر ترے حسن کی اک شہادت نہی
دولتِ حسن تو اس کے دامن میں ہے
ہم نے مانا کہ دل میں محبت نہیں
ہم کو ان کے تصور سے فرصت نہیں
اور انہیں یاد کرنے کی عادت نہیں
وہ یہ سمجھے ہیں مجھ کو محبت نہیں
چاکِ داماں کی مجھ کو جو عادت نہیں
کیسے کھینچوں میں دامن ترا جانِ جاں
مرضِ الفت میں اتنی بھی طاقت نہیں
میری جنت تو ہے پائے جاناں فقط
خلدِ یزداں مجھے مثلِ جنت نہیں
شوق پر خار سی منزلوں سے لے چل
منزلوں پر ٹھہرنے کی طاقت نہیں
دل کے کوچے میں تیرے ہی گھر کے سوا
اور تو کوئی اک بھی عمارت نہیں
اپنے ہاتھوں سے بادہ پلا ساقیا
مجھ میں ساغر اٹھانے کی طاقت نہیں
شکریہ۔۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 2، 2019 4:51 شام
یاد تیری بھی خوب ہے میری جاں مگر

اب تو آغوشِ جاناں کے علاوہ مجھے

بوسہ کی بھی تمنا کا اظہار کر دوں مگر

جب سے روٹھا ہے وہ گل بدن تو

میرے دل میں کوئی بھی راحت نہیں

ان تمام مصرعوں کا وزن دیکھ لیجیے
سید عاطف علی — جنوری 2، 2019 4:52 شام
کئی مصرعے بحر کی حد سے نکل رہے ہیں پہلے انہیں خود ہی درست کیجیئے پھر زبان و بیان کا مرحلہ آنا چاہیئے۔
منذر رضا — جنوری 2، 2019 4:57 شام
جی اب دیکھیے۔۔۔تدوین کر دی
محمد تابش صدیقی — جنوری 2، 2019 4:59 شام
جی اب دیکھیے۔۔۔تدوین کر دی
اولین مراسلہ میں تدوین کے بجائے کمنٹ کیا کیجیے۔
منذر رضا — جنوری 2، 2019 5:01 شام
جی محمد تابش صدیقی صاحب۔۔۔آیندہ خیال کروں گا
محمد تابش صدیقی — جنوری 2، 2019 5:02 شام
جی محمد تابش صدیقی صاحب۔۔۔آیندہ خیال کروں گا
اب اندازہ نہیں ہو رہا کہ کہاں تبدیلی کی گئی ہے۔ پھر بعد میں اساتذہ آئیں گے تو ان کے سامنے مکمل صورتحال نہیں ہو گی۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی متبادل بھی بتا سکیں۔
آپ نے غالباً یہ اشعار ہی نکال دیے ہیں۔
منذر رضا — جنوری 2، 2019 5:05 شام
جی۔میں نے اشعار ہی نکال دیے ہیں
منذر رضا — جنوری 3، 2019 2:17 شام
الف عین
الف عین — جنوری 3، 2019 4:57 شام
دو مطلع عام اشعار میں شامل ہو گئے ہیں!
مرضِ الفت میں اتنی بھی طاقت نہیں
مرض کے درست تلفظ میں م اور ر پر زبر ہے، یہاں درد کے وزن پر فعل باندھا گیا ہے
شوق پر خار سی منزلوں سے لے چل
منزلوں پر ٹھہرنے کی طاقت نہیں
.... لے چل 'لچل' تقطیع ہو رہا ہے، ے کا اسقاط جائز نہیں
شعر بھی واضح نہیں
دل کے کوچے میں تیرے ہی گھر کے سوا
اور تو کوئی اک بھی عمارت نہیں
...' اور کوئی' یا 'اور تو کوئی' تو درست بیانیہ ہے، 'اک بھی' بھرتی کا ہے
باقی اشعار ٹھیک ہیں
الف عین — جنوری 3، 2019 4:58 شام
دو مطلع عام اشعار میں شامل ہو گئے ہیں!
مرضِ الفت میں اتنی بھی طاقت نہیں
مرض کے درست تلفظ میں م اور ر پر زبر ہے، یہاں درد کے وزن پر فعل باندھا گیا ہے
شوق پر خار سی منزلوں سے لے چل
منزلوں پر ٹھہرنے کی طاقت نہیں
.... لے چل 'لچل' تقطیع ہو رہا ہے، ے کا اسقاط جائز نہیں
شعر بھی واضح نہیں
دل کے کوچے میں تیرے ہی گھر کے سوا
اور تو کوئی اک بھی عمارت نہیں
...' اور کوئی' یا 'اور تو کوئی' تو درست بیانیہ ہے، 'اک بھی' بھرتی کا ہے
باقی اشعار ٹھیک ہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF.104917/