برائے اصلاح و تنقید (رمضان آ رہا ہے)

امان زرگر — مئی 21، 2017 9:12 صبح
پھر برکتیں لٹانے رمضان آ رہا ہے
رب کا مہینہ دیکھو ذیشان آ رہا ہے
پابند ہیں شیاطیں وسواس کے ہنر مند
مٹتی ہیں الجھنیں سب ایمان آ رہا ہے
مانگو جو مانگتے ہو سب کچھ عطا کروں گا
رب کا یہ آسماں سے فرمان آ رہا ہے
ضعفِ عمل پہ اپنے کفِ خاک ملنے والو
لو سب کی مغفرت کا سامان آ رہا ہے
تیرا بھی ہو گا اسودؔ کچھ درد کا مداوا
سب چاک دل کے سینے امکان آ رہا ہے
امان زرگر — مئی 21، 2017 9:16 صبح
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
سر راحیل فاروق
بھائی عاطف ملک
سر محمد تابش صدیقی
الف عین — مئی 22، 2017 6:09 صبح
مزا نہیں آیا مجھے تو کم از کم. تمہارا نیا تخلص بھی ذرا حلق سے نہیں اترتا
امان زرگر — مئی 22، 2017 7:05 صبح
مزا نہیں آیا مجھے تو کم از کم. تمہارا نیا تخلص بھی ذرا حلق سے نہیں اترتا
یہ تخلص ہٹا دیتا ہوں کچھ اور سہی یا نہ سہی
امجد علی راجا — مئی 22، 2017 11:02 صبح
پھر برکتیں لٹانے رمضان آ رہا ہے
رب کا مہینہ دیکھو ذیشان آ رہا ہے
پابند ہیں شیاطیں وسواس کے ہنر مند
مٹتی ہیں الجھنیں سب ایمان آ رہا ہے
مانگو جو مانگتے ہو سب کچھ عطا کروں گا
رب کا یہ آسماں سے فرمان آ رہا ہے
ضعفِ عمل پہ اپنے کفِ خاک ملنے والو
لو سب کی مغفرت کا سامان آ رہا ہے
تیرا بھی ہو گا اسودؔ کچھ درد کا مداوا
سب چاک دل کے سینے امکان آ رہا ہے
مجھے یاد پڑتا ہے کہ یہ غزل آپ پہلے بھی اصلاح کے لئے پیش کر چکے ہیں۔
محمد تابش صدیقی — مئی 22، 2017 11:05 صبح
مجھے یاد پڑتا ہے کہ یہ غزل آپ پہلے بھی اصلاح کے لئے پیش کر چکے ہیں۔
رمضان کے حوالے سے اس سے پہلے ایک اور بھائی نے اصلاح کے لیے نظم پیش کی تھی۔ :)
امجد علی راجا — مئی 22، 2017 11:07 صبح
رمضان سے اپنی ایک ہزل کے کچھ اشعار یاد آگئے
اصلاح سے کوئی تعلق نہیں صرف تفریح کے لئے شیئر کر رہا ہوں
رہ گئی تھی جو کمی شیطان میں
پائی جاتی ہے سیاستدان میں
بوریاں مہنگائی کی لادے ہوئے
آ گیا رمضان پاکستان میں
اختلافِ رائے بیگم کے حضور؟
یوں بھی آتے ہیں کبھی میدان میں؟
اُڑ گئے حوروں کی جانب طالبان
پھٹ کے کب جاتے ہیں قبرستان میں​
اکمل زیدی — مئی 22، 2017 11:09 صبح
رمضان سے اپنی ایک ہزل کے کچھ اشعار یاد آگئے
اصلاح سے کوئی تعلق نہیں صرف تفریح کے لئے شیئر کر رہا ہوں
رہ گئی تھی جو کمی شیطان میں
پائی جاتی ہے سیاستدان میں
بوریاں مہنگائی کی لادے ہوئے
آ گیا رمضان پاکستان میں
اختلافِ رائے بیگم کے حضور؟
یوں بھی آتے ہیں کبھی میدان میں؟
اُڑ گئے حوروں کی جانب طالبان
پھٹ کے کب جاتے ہیں قبرستان میں​
اعلٰی ۔ ۔
امجد علی راجا — مئی 22، 2017 11:12 صبح
پھر برکتیں لٹانے رمضان آ رہا ہے

رب کا مہینہ دیکھو ذیشان آ رہا ہے
یوں کیسا رہے گا؟
بخشش کا لے کے اپنی سامان آ رہا ہے
اللہ کے کرم سے رمضان آ رہا ہے
پابند ہیں شیاطیں وسواس کے ہنر مند

مٹتی ہیں الجھنیں سب ایمان آ رہا ہے
اس طرح ایمان آنا درست نہیں لگ رہا

مانگو جو مانگتے ہو سب کچھ عطا کروں گا

رب کا یہ آسماں سے فرمان آ رہا ہے

درست ہے لیکن مزید بہتر ہونے کی بہت گنجائش ہے

ضعفِ عمل پہ اپنے کفِ خاک ملنے والو

لو سب کی مغفرت کا سامان آ رہا ہے

درست

تیرا بھی ہو گا اسودؔ کچھ درد کا مداوا

سب چاک دل کے سینے امکان آ رہا ہے
بدلیں
امجد علی راجا — مئی 22، 2017 11:15 صبح
۔
پھر برکتیں لٹانے رمضان آ رہا ہے
رب کا مہینہ دیکھو ذیشان آ رہا ہے

یوں کیسا رہے گا؟
بخشش کا لے کے اپنی سامان آ رہا ہے
اللہ کے کرم سے رمضان آ رہا ہے
پابند ہیں شیاطیں وسواس کے ہنر مند
مٹتی ہیں الجھنیں سب ایمان آ رہا ہے

اس طرح ایمان آنا درست نہیں لگ رہا

مانگو جو مانگتے ہو سب کچھ عطا کروں گا
رب کا یہ آسماں سے فرمان آ رہا ہے

درست ہے لیکن مزید بہتر ہونے کی بہت گنجائش ہے

ضعفِ عمل پہ اپنے کفِ خاک ملنے والو
لو سب کی مغفرت کا سامان آ رہا ہے

درست

تیرا بھی ہو گا اسودؔ کچھ درد کا مداوا
سب چاک دل کے سینے امکان آ رہا ہے
بدلیں
امجد علی راجا — مئی 22، 2017 11:17 صبح
شکریہ زیدی بھیا
محمد ریحان قریشی — مئی 22، 2017 4:49 شام
یہاں بحر بدل گئی ہے۔
انتہا — مئی 23، 2017 5:16 صبح
بہت اچھے!
انتہا — مئی 23، 2017 5:42 صبح
مجھے یاد پڑتا ہے کہ یہ غزل آپ پہلے بھی اصلاح کے لئے پیش کر چکے ہیں۔
رمضان کے حوالے سے اس سے پہلے ایک اور بھائی نے اصلاح کے لیے نظم پیش کی تھی۔ :)
@رمضان آ گیا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D8%B1%D9%85%D8%B6%D8%A7%D9%86-%D8%A2-%D8%B1%DB%81%D8%A7-%DB%81%DB%92.96604/