برائے اصلاح و تنقید (غزل30)

امان زرگر — جون 2، 2017 3:00 شام
جنونِ دیدار آزمانا
حجاب غینی فقط بہانہ
ہماری باتوں پہ تلخ لہجہ
عدو سے ملنا تو مسکرانا
یہ کون ہے جو ادھر سے گزرا
اداس قریہ لگے سہانا
مذاق میں بھی ہمیں نہ بھائے
وہ تیرا پل بھر کو روٹھ جانا
میں کب سے آواز دے رہا ہوں
رکے گا کس بام پر زمانہ
رقم وہ لوحِ جبیں پہ میری
جو درد ہیں رشکِ تازیانہ
کہ لاکھ طوفاں ادھر سے گزرے
ہماری کوشش دیئے جلانا
امان زرگر — جون 2، 2017 3:04 شام
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
بھائی عاطف ملک
سر راحیل فاروق
اور دیگر تمام محترم اساتذہ کرام
عاطف ملک — جون 2، 2017 3:14 شام
مذاق میں بھی ہمیں نہ بھائے
وہ تیرا پل بھر کو روٹھ جانا
بہت اچھے امان بھائی!
عمدہ غزل ہے۔
امان زرگر — جون 2، 2017 3:20 شام
بہت اچھے امان بھائی!
عمدہ غزل ہے۔
نوازش، حوصلہ افزائی باعث فرحت ٹھہری
محمد ریحان قریشی — جون 2، 2017 4:53 شام
رقم وہ لوحِ جبیں پہ میری
جو درد ہیں رشکِ تازیانہ
یہ شعر سر کے اوپر سے گزر گیا۔
کہ لاکھ طوفاں ادھر سے گزرے
ہماری کوشش دیئے جلانا
کہ سے شعر کی ابتدا کرنا قابل گرفت ہے۔ ایسا صرف تب ہی درست مانا جائے گا جب شعر کسی قطعے کا حصہ ہو۔
میں کب سے آواز دے رہا ہوں
رکے گا کس بام پر زمانہ
شعر درست ہے، مگر بام کی زمانے کے ساتھ مناسبت نہیں ہے۔
امان زرگر — جون 2، 2017 6:10 شام
کھلا ہے لوحِ جبیں پہ میری
شقاوتوں کا نگار خانہ
وہ لاکھ طوفاں ادھر سے گزرے
ہماری کوشش دیئے جلانا
یا
گزرنے والے ہوں لاکھ طوفاں
ہماری کوشش دیئے جلانا
محمد ریحان قریشی — جون 2، 2017 6:45 شام
وہ لاکھ طوفاں ادھر سے گزرے
ہماری کوشش دیئے جلانا
یہاں پر "وہ" حشو ہے۔
دوسرا شعر ابھی بھی بعید از فہم ہے۔
محمد خلیل الرحمٰن — جون 2، 2017 6:56 شام
ہماری صلاح
اندھیری راتوں کی آندھیوں میں
ہماری کوشش دیئے جلانا​
محمد خلیل الرحمٰن — جون 2، 2017 7:58 شام
ہماری صلاحِ مزید
میں کب سے آواز دے رہا ہوں
کہیں رُکے گا بھی یہ زمانہ؟​
امان زرگر — جون 2، 2017 10:49 شام
ہماری صلاحِ مزید
میں کب سے آواز دے رہا ہوں
کہیں رُکے گا بھی یہ زمانہ؟​
ہماری صلاح
اندھیری راتوں کی آندھیوں میں
ہماری کوشش دیئے جلانا​
لیں ریحان بھائی اب تو مسئلہ ہی حل ہو گیا، بہت شکریہ سر. مبتدی متبادل الفاظ کے چناؤ میں اپنی کم فہمی کی وجہ سے شدید مشکل کا شکار تھا. سلامت رہیں
امان زرگر — جون 3، 2017 1:30 صبح
رقم وہ لوحِ جبیں پہ میری
جو درد ہیں رشکِ تازیانہ

یہ شعر سر کے اوپر سے گزر گیا۔

کھلا ہے لوحِ جبیں پہ میری
شقاوتوں کا نگار خانہ

دوسرا شعر ابھی بھی بعید از فہم ہے۔
امان زرگر — جون 3، 2017 5:16 صبح
نہ دیکھا دار و رسن کا رسیا
بس ایک منصور تھا دوانہ
امان زرگر — جون 3، 2017 5:47 صبح
سر محمد ریحان قریشی
الف عین — جون 3، 2017 6:36 صبح
یار کیا طوفانوں کی تعداد میں ایک دو صفروں کی کمی گوارا نہیں کی جا سکتی!!
ہزار طوفاں ادھر سے گزرے
تو مجھے بہترین لگ رہا ہے
محمد خلیل الرحمٰن — جون 3، 2017 6:44 صبح
یار کیا طوفانوں کی تعداد میں ایک دو صفروں کی کمی گوارا نہیں کی جا سکتی!!
ہزار طوفاں ادھر سے گزرے
تو مجھے بہترین لگ رہا ہے
پہلے ہم نے بھی یہی سوچا تھا۔ بس گزرے کو گزریں کیا تھا
ہزار طوفاں ادھر سے گزریں
عظیم — جون 3، 2017 8:00 صبح
میرے ذہن میں یہ مصرع آیا تھا ۔
÷÷بہت سے طوفان ادھر سے گزرے
محمد خلیل الرحمٰن — جون 3، 2017 8:02 صبح
میرے ذہن میں یہ مصرع آیا تھا ۔
÷÷بہت سے طوفان ادھر سے گزرے
کہیں تمہاری غزل نہیں تھی
بہت سی غزلیں نظر سے گزریں​
امان زرگر — جون 3، 2017 8:20 صبح
اساتذہ کی شفقت کے بعد غزل کی جو صورت حال ہے وہ پیشِ خدمت ہے.
جنونِ دیدار آزمانا
حجابِ غینی فقط بہانہ
ہماری باتوں پہ تلخ لہجہ
عدو سے ملنا تو مسکرانا
یہ کون ہے جو اِدھر سے گزرا
اداس قریہ لگے سہانا
مذاق میں بھی ہمیں نہ بھائے
وہ تیرا پل بھر کو روٹھ جانا
میں کب سے آواز دے رہا ہوں
کہیں رُکے گا بھی یہ زمانہ؟
نہ دیکھا دار و رسن کا رسیا
بس ایک منصور تھا دوانہ
ہزار طوفاں اِدھر سے گزریں
ہماری کوشش دیئے جلانا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D8%BA%D8%B2%D9%8430.96942/