برائے اصلاح و تنقید (غزل33)

امان زرگر — جون 15، 2017 1:20 شام
دل درد کے انوار سے پرنور بہت ہے
افسردہ روی پر بھی جو مسرور بہت ہے
افسوس کہے وعدہ خلاف اس کو زمانہ
دنیا کے رواجوں سے جو مجبور بہت ہے
بڑھ جائے گا غم صبحِ منور کی جھلک سے
قسمت میں ہماری شبِ دیجور بہت ہے
اٹھلا کے چلے بادِ صبا صحنِ چمن میں
نسبت میں گلابوں کی وہ مغرور بہت ہے
آئینِ عنایات بھلا حسن نہ مانے
عشاق کو دیدار کا دستور بہت ہے
وہ پاس رہے اتنا کہیں دل کا مکیں سب
نظروں سے وہ اوجھل سا، لگے دور بہت ہے
اب عشق ترا وار چلے کیسے جہاں میں
دیوانہ سرِ دار وہ منصور بہت ہے
امان زرگر — جون 15، 2017 1:23 شام
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
بھائی عاطف ملک
محمد ریحان قریشی — جون 15، 2017 2:56 شام
افسردہ روی پر بھی جو مسرور بہت ہے
جو یہاں بھرتی کا ہے.
دیدار کا دستور بہت ہے
یہ سمجھ نہیں آیا.
اب عشق ترا وار چلے کیسے جہاں میں
دیوانہ سرِ دار وہ منصور بہت ہے
یہ بھی سمجھ نہیں آیا.
امان زرگر — جون 15، 2017 3:05 شام
جو یہاں بھرتی کا ہے.
یہ سمجھ نہیں آیا.
یہ بھی سمجھ نہیں آیا.
شکر گزار ہوں، کچھ لائق ہو گیا ہوں غلطیاں کم ہیں. :) بہتر کرتا ہوں سر
امان زرگر — جون 17، 2017 3:09 صبح
دل درد کے انوار سے پرنور بہت ہے
افسردہ روی پر تبھی مسرور بہت ہے
آئینِ عنایات اگر حسن نہ مانے
عشاق کو پھر درد کا دستور بہت ہے
پہنچے نہ اب اس حد پہ کوئی عشق کا مارا
دیوانہ سرِ دار وہ منصور بہت ہے
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
الف عین — جون 17، 2017 6:54 صبح
باقی تو درست ہو گئے ہیں۔ مجھے اس شعر کا بیانیہ سمجھ میں نہیں آیا
وہ پاس رہے اتنا کہیں دل کا مکیں سب
نظروں سے وہ اوجھل سا، لگے دور بہت ہے
۔۔کہیں کی ’ی‘ کا چھوٹی ی کا ہے یا بڑی ے کا؟ محل تو ’ے‘ کا ہے۔ لیکن کوئی مجھ جیسا ناقص العقل چھوٹی ی سے کہیں پڑھے تو؟؟
امان زرگر — جون 17، 2017 1:53 شام
باقی تو درست ہو گئے ہیں۔ مجھے اس شعر کا بیانیہ سمجھ میں نہیں آیا
وہ پاس رہے اتنا کہیں دل کا مکیں سب
نظروں سے وہ اوجھل سا، لگے دور بہت ہے
۔۔کہیں کی ’ی‘ کا چھوٹی ی کا ہے یا بڑی ے کا؟ محل تو ’ے‘ کا ہے۔ لیکن کوئی مجھ جیسا ناقص العقل چھوٹی ی سے کہیں پڑھے تو؟؟
جی سر آپ نے درست فرمایا، اس کا بیانیہ بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہوں
امان زرگر — جون 17، 2017 3:47 شام
باقی تو درست ہو گئے ہیں۔ مجھے اس شعر کا بیانیہ سمجھ میں نہیں آیا
وہ پاس رہے اتنا کہیں دل کا مکیں سب
نظروں سے وہ اوجھل سا، لگے دور بہت ہے
۔۔کہیں کی ’ی‘ کا چھوٹی ی کا ہے یا بڑی ے کا؟ محل تو ’ے‘ کا ہے۔ لیکن کوئی مجھ جیسا ناقص العقل چھوٹی ی سے کہیں پڑھے تو؟؟
کہلائے مکیں دل کا رہے پاس وہ اتنا
نظروں سے وہ اوجھل سا لگے دور بہت ہے
پہنچے جنوں کی حد پہ کوئی عشق کا مارا
دیوانہ سرِ دار وہ منصور بہت ہے
الف عین — جون 18، 2017 10:44 صبح
کہلائے مکیں دل کا رہے پاس وہ اتنا
نظروں سے وہ اوجھل سا لگے دور بہت ہے
÷÷÷بات بنی نہیں
پہنچے جنوں کی حد پہ کوئی عشق کا مارا
دیوانہ سرِ دار وہ منصور بہت ہے
۔۔۔نہیں، پہلا مصرع تو وہی بہتر ہے
پہنچے نہ اب اس حد پہ کوئی عشق کا مارا
امان زرگر — جون 19، 2017 3:33 صبح
جو دل میں مرے پاس مکیں روز ازل سے
نظروں سے وہ اوجھل سا لگے دور بہت ہے
سر الف عین
اب پہنچے نہ اس حد پہ کوئی عشق کا مارا
دیوانہ سرِ دار وہ منصور بہت ہے
الف عین — جون 20، 2017 6:49 صبح
جو روز ازل سے ہی مرے دل میں مکیں ہے
جیسا صاف مصرع کہنے میں کیا حرج ہے؟
یا ’ہے‘ کا اختتام بدلنا ہو تو
جو روز ازل سے ہی مکیں ہے مرے دل میں
امان زرگر — جون 20، 2017 11:39 صبح
جو روز ازل سے ہی مرے دل میں مکیں ہے
جیسا صاف مصرع کہنے میں کیا حرج ہے؟
یا ’ہے‘ کا اختتام بدلنا ہو تو
جو روز ازل سے ہی مکیں ہے مرے دل میں
اللہ آپ کو جزائے خیر دے، خوش رہیں
امان زرگر — جون 21، 2017 9:38 صبح
اساتذہ کی طرف سے اصلاح کے بعد مکمل غزل پیشِ خدمت ہے۔
دل درد کے انوار سے پرنور بہت ہے
افسردہ روی پر تبھی مسرور بہت ہے
افسوس کہے وعدہ خلاف اس کو زمانہ
دنیا کے رواجوں سے جو مجبور بہت ہے
بڑھ جائے گا غم صبحِ منور کی جھلک سے
قسمت میں ہماری شبِ دیجور بہت ہے
اٹھلا کے چلے بادِ صبا صحنِ چمن میں
نسبت میں گلابوں کی وہ مغرور بہت ہے
آئینِ عنایات اگر حسن نہ مانے
عشاق کو پھر درد کا دستور بہت ہے
جو روزِ ازل سے ہی مکیں ہے مرے دل میں
نظروں سے وہ اوجھل سا لگے دور بہت ہے
اب پہنچے نہ اس حد پہ کوئی عشق کا مارا
دیوانہ سرِ دار وہ منصور بہت ہے
امان زرگر — جون 22، 2017 3:03 صبح
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
سر راحیل فاروق
الف عین — جون 22، 2017 6:22 صبح
اب بہتر ہے غزل

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D8%BA%D8%B2%D9%8433.97173/