برائے اصلاح و تنقید (غزل 36)

امان زرگر — اکتوبر 14، 2017 6:17 شام
حریمِ دل میں عجب کیف ہے خماری ہے
شرارِ عشق سے ہلکان جاں ہماری ہے
یا
حریمِ دل میں یہ کیسی بے اختیاری ہے
شرارِ عشق سے ہلکان جاں ہماری ہے
فروغِ حسن صنم ساز دیکھ کر حیراں
صنم کدے کا ہر اک بام و در پجاری ہے
سکوتِ لب سے قیامت بپا ہوئی جائے
سماعتوں کو عجب خوئے بے قراری ہے
چراغ راہِ عدم پر جلانے والے سن!
حیات تیرہ شبی میں سبھی گزاری ہے
نہ راستوں سے تعلق نہ منزلوں پہ نگاہ
سفر بے فیض سا صدیوں سے ایسے جاری ہے
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
La Alma — اکتوبر 14، 2017 7:56 شام
حریمِ دل میں عجب کیف ہے خماری ہے
شرارِ عشق سے ہلکان جاں ہماری ہے
یا
حریمِ دل میں یہ کیسی بے اختیاری ہے
شرارِ عشق سے ہلکان جاں ہماری ہے
دوسرے والا شعر صحیح رہے گا۔ اول الذکر کی صورت میں غزل کے دیگر قوافی باطل ٹھریں گے۔
سید ذیشان حیدر — اکتوبر 14، 2017 11:04 شام
چراغ راہِ عدم پر جلانے والے سن!
حیات تیرہ شبی میں سبھی گزاری ہے
کیا حیات کے ساتھ سبھی کا استعمال درست ہے؟
امان زرگر — اکتوبر 15، 2017 2:36 صبح
حریمِ دل میں تڑپ ہے، بے اختیاری ہے
شرارِ عشق سے ہلکان جاں ہماری ہے
فروغِ حسن صنم ساز دیکھ کر حیراں
صنم کدے کا ہر اک بام و در پجاری ہے
سکوتِ لب سے قیامت بپا ہوئی جائے
سماعتوں کو عجب خوئے بے قراری ہے
چرا غ راہِ عدم پر جلانے والے سن!
حیات تیرہ شبی میں ابھی گزاری ہے
نہ راستوں سے تعلق نہ منزلوں پہ نگاہ
سفر بے فیض سا صدیوں سے ایسے جاری ہے
الف عین — اکتوبر 15، 2017 4:54 صبح
'بے' کو محض 'ب' تقطیع نہیں کیا جا سکتا۔ مطلع اور آخری شعر میں یہی غلطی ہے۔ پچھلے مطلع میں لا المی کا درست اعتراض تھا کہ ایطا کی غلطی ہو رہی تھی۔
دوسرا شعر دو لخت لگتا ہے۔
ہوئی جائے' کا بیانیہ بھی پسندیدہ نہیں۔
ابھی یا سبھی گزاری جیسے بھرتی کے الفاظ سے چھٹکارا مل سکتا ہے اگر الفاظ ہی بدل دیے جائیں
امان زرگر — اکتوبر 16، 2017 3:59 شام
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
حریمِ دل میں عجب کیف ہے خماری ہے
شرارِ عشق سے ہلکاں ہوں جاں نزاری ہے
فروغِ عجز صنم ساز دیکھ کر حیراں
صنم کدے کا ہر اک بام و در پجاری ہے
یا
فروغِ حسنِ صنم کا سرور دو آتش
نشاطِ عجز میں ہر بام و در پجاری ہے
یا
فروغِ حسنِ صنم کا سرور دو آتش
نشاطِ دید میں ہر اک نظر پجاری ہے
سکوتِ لب سے قیامت بپا ہے عالم میں
سماعتوں میں عجب خوئے بے قراری ہے
چراغ راہِ عدم پر جلائے جب دیکھا
حیات تیرہ شبی کی فریب کاری ہے
جنوں نے دامِ سفر میں پھنسا لیا مجھ کو
سفر ازل سے بس اک
دائرے میں جاری ہے
الف عین — اکتوبر 16، 2017 5:22 شام
ہلکان ہندی النسل ہے، اس کو شاید ہلکاں نہیں بنایا جا سکتا۔
سکوتِ لب سے قیامت بپا دو عالم میں
÷÷دو عالم کی کیا ضرورت ہے۔
سکوتِ لب سے قیامت بپا ہے عالم میں
کافی ہو گا۔ اور بہتر بھی۔
اسی طرح
سفر ازل سے کسی دائرے میں جاری ہے
کو
سفر ازل سے بس اک دائرے میں جاری ہے
کہیں تو شاید بات زیادہ واضح ہو جائے۔
صنم ساز والے شعر کے دونوں روپ اب بھی میری دل کو نہیں لگے۔
امان زرگر — اکتوبر 16، 2017 5:25 شام
ہلکان ہندی النسل ہے، اس کو شاید ہلکاں نہیں بنایا جا سکتا۔
سکوتِ لب سے قیامت بپا دو عالم میں
÷÷دو عالم کی کیا ضرورت ہے۔
سکوتِ لب سے قیامت بپا ہے عالم میں
کافی ہو گا۔ اور بہتر بھی۔
اسی طرح
سفر ازل سے کسی دائرے میں جاری ہے
کو
سفر ازل سے بس اک دائرے میں جاری ہے
کہیں تو شاید بات زیادہ واضح ہو جائے۔
صنم ساز والے شعر کے دونوں روپ اب بھی میری دل کو نہیں لگے۔
فروغِ حسنِ صنم کا سرور دو آتش
نشاطِ دید میں ہر اک نظر پجاری ہے
یا
فروغِ حسنِ نظر کا سرور دو آتش
نشاطِ دید میں ہر بام و در پجاری ہے
یا
فروغِ حسنِ نظر کا سرور دو آتش
نشاطِ دید میں ہر اک نظر پجاری ہے
امان زرگر — اکتوبر 16، 2017 6:58 شام
ہلکان ہندی النسل ہے، اس کو شاید ہلکاں نہیں بنایا جا سکتا۔
۔
یک بہ یک تو نے یہ کیسا رنگ بدلا اے فلک
تیری گردش سے کہیں کیا سخت جی ہلکاں ہوا
(انتخاب کلام جرأت ۔۔۔ قلندر خان جرأت، جمع و ترتیب: محمد عظیم الدین، اعجاز عبید)
امان زرگر — اکتوبر 17، 2017 10:28 صبح
۔
الف عین — اکتوبر 17، 2017 2:43 شام
نشاط میں پجاری ہونا ہی سمجھ میں نہیں آتا۔ میرے خیال میں پچھلے شعر میں ہی افر یوں کر دیا جائے تو بات واضح ہو سکتی ہے
فروغِ عجز صنم ساز دیکھ
حیراں ہے/ مہر بلب
صنم کدے کا ہر اک بام و در پجاری ہے
ہلکاں کی تو سند لے آئے تو کچھ کہہ نہیں سکتا۔ مگر پسند نہیں مجھے
الف عین — اکتوبر 17، 2017 3:32 شام
نشاط میں پجاری ہونا ہی سمجھ میں نہیں آتا۔ میرے خیال میں پچھلے شعر میں ہی اگر یوں کر دیا جائے تو بات واضح ہو سکتی ہے
فروغِ عجز صنم ساز دیکھ
حیراں ہے/ مہر بلب
صنم کدے کا ہر اک بام و در پجاری ہے
ہلکاں کی تو سند لے آئے تو کچھ کہہ نہیں سکتا۔ مگر پسند نہیں مجھے
امان زرگر — اکتوبر 17، 2017 7:01 شام
نشاط میں پجاری ہونا ہی سمجھ میں نہیں آتا۔ میرے خیال میں پچھلے شعر میں ہی اگر یوں کر دیا جائے تو بات واضح ہو سکتی ہے
فروغِ عجز صنم ساز دیکھ
حیراں ہے/ مہر بلب
صنم کدے کا ہر اک بام و در پجاری ہے
ے

میری کم علمی کہ شعر میں تجویز کردہ تبدیلی سمجھ نہیں پایا۔۔ استادِ محترم سے شفقت کا طالب ہوں۔۔۔
امان زرگر — اکتوبر 17، 2017 7:32 شام
سر الف عین
حریمِ دل میں عجب کیف ہے خماری ہے
شرارِ عشق میں جلتا ہوں جاں نزاری ہے
سکوتِ لب سے قیامت بپا ہے عالم میں
سماعتوں میں عجب خوئے بے قراری ہے
چراغ راہِ عدم پر جلائے جب دیکھا
حیات تیرہ شبی کی فریب کاری ہے
جنوں نے دامِ سفر میں پھنسا لیا مجھ کو
سفر ازل سے بس اک دائرے میں جاری ہے
گراں سرشت محبت ہے پر فغاں''زرگر''
فگار سینہ ہوں فریاد و آہ و زاری ہے
امان زرگر — اکتوبر 18، 2017 7:00 صبح
سر محمد ریحان قریشی
سر راحیل فاروق
امان زرگر — اکتوبر 18، 2017 7:01 صبح
بھائی عاطف ملک
الف عین — اکتوبر 18، 2017 3:16 شام
اب درست لگ رہی ہے غزل
امان زرگر — اکتوبر 18، 2017 4:40 شام
اب درست لگ رہی ہے غزل
یہ سب آپ کا ہی فیض ہے۔۔۔۔۔ اللہ آپ کی عمر میں برکت دے، خوش رہیں۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D8%BA%D8%B2%D9%84-36.98691/