امان زرگر — نومبر 8، 2017 2:45 شام
راہ چلتے نہ ہستی فنا کیجئے
سوچ کر عشق کی ابتدا کیجئے
خوفِ رسوائی بھٹکا نہ دے آپ کو
راہبر قیس کا نقشِ پا کیجئے
موسمِ وصل کا راز کھل جائے گا
نکہتِ گل نہ وقفِ صبا کیجئے
ایک پل کو بھی تخفیفِ دورِ ستم
کچھ تردد نہ خوفِ خدا کیجئے
راستہ ہے جنوں خیز ایسا ، تو پھر
منزلوں کا تصور ذرا کیجئے
عینی مروت — نومبر 8، 2017 2:52 شام
راہ چلتے نہ ہستی فنا کیجئے
سوچ کر عشق کی ابتدا کیجئے
خوفِ رسوائی بھٹکا نہ دے آپ کو
راہبر قیس کا نقشِ پا کیجئے
موسمِ وصل کا راز کھل جائے گا
نکہتِ گل نہ وقفِ صبا کیجئے
ایک پل کو بھی تخفیفِ دورِ ستم
کچھ تردد نہ خوفِ خدا کیجئے
راستہ ہے جنوں خیز ایسا ، تو پھر
منزلوں کا تصور ذرا کیجئے
بہت اچھے جناب
لیکن ایک سوال ہے مطلع کے مصرع ثانی کے حوالے سے۔۔۔
عشق کی ابتداء سوچ سمجھ کر؟
کیسے ممکن ہے
امان زرگر — نومبر 8، 2017 3:01 شام
بہت اچھے جناب
لیکن ایک سوال ہے مطلع کے مصرع ثانی کے حوالے سے۔۔۔
عشق کی ابتداء سوچ سمجھ کر؟
کیسے ممکن ہے
یوں بے مقصد نہ ہستی فنا کیجئے
آج سے عشق کی ابتدا کیجئے
شاید بے مقصد میں ے گرانے کی اجازت نہ ملے
عینی مروت — نومبر 8، 2017 3:31 شام
یوں بے مقصد نہ ہستی فنا کیجئے
آج سے عشق کی ابتدا کیجئے
شاید بے مقصد میں ے گرانے کی اجازت نہ ملے
بےمقصد کی دلکشی اسطرح باقی نہیں رہتی میرے خیال سے۔۔۔
اگر یوں کہیں۔۔؟مرکے بھی پھر نہ فکر بقا کیجیے
عشق میں اپنی ہستی فنا کیجیے
(لیکن یہ محض ایک مشورہ ہے)
امان زرگر — نومبر 8، 2017 4:39 شام
سر
الف عین شفقت فرمائیں تو کام بن جائے۔۔۔۔
امان زرگر — نومبر 8، 2017 4:42 شام
بےمقصد کی دلکشی اسطرح باقی نہیں رہتی میرے خیال سے۔۔۔اگر یوں کہیں۔۔؟
مرکے بھی پھر نہ فکر بقا کیجیے
عشق میں اپنی ہستی فنا کیجیے
(لیکن یہ محض ایک مشورہ ہے)
شکر گزار ہوں۔۔۔۔ آپ کاعطا کردہ مطلع مجھے تو بھا گیا،
امان زرگر — نومبر 8، 2017 4:49 شام
سر الف عین ، میم عینی مروت
مر کے بھی پھر نہ فکرِ بقا کیجئے
عشق میں اپنی ہستی فنا کیجئے
خوفِ رسوائی بھٹکا نہ دے آپ کو
راہبر قیس کا نقشِ پا کیجئے
موسمِ وصل کا راز کھل جائے گا
نکہتِ گل نہ وقفِ صبا کیجئے
ایک پل کو بھی تخفیفِ دورِ ستم
کچھ تردد نہ خوفِ خدا کیجئے
راستہ ہے جنوں خیز ایسا ، تو پھر
منزلوں کا تصور ذرا کیجئے
امان زرگر — نومبر 8، 2017 4:52 شام
امان زرگر — نومبر 8، 2017 5:00 شام
الف عین — نومبر 9، 2017 5:35 صبح
اس غزل میں مجھے تو کوئی خامی نظر نہیں آئی۔ ترکیبیں بھی درست ہیں۔ ماشاء اللہ
امان زرگر — نومبر 9، 2017 5:37 صبح
اس غزل میں مجھے تو کوئی خامی نظر نہیں آئی۔ ترکیبیں بھی درست ہیں۔ ماشاء اللہ
جزاک اللہ سر
امان زرگر — نومبر 9، 2017 9:02 صبح
اسی غزل کے کچھ مزید اشعار بھی برائے اصلاح پیشِ خدمت ہیں۔
آپ کو دل لگی کا بہت شوق تھا
چاکِ دل بیٹھ کر اب سیا کیجئے
چاندنی لاکھ نعمت سہی ہم نفس!
تیرگی دل میں گر ہو تو کیا کیجئے
جب عذابِ سفر کا ہو شکوہ کبھی
رختِ دل راہ میں خاکِ پا کیجئے
امان زرگر — نومبر 9، 2017 9:12 صبح
امان زرگر — نومبر 10، 2017 12:37 شام
یا
جب ہو درپیش جاں کو عذابِ سفر
راہ میں رختِ دل خاکِ پا کیجئے
یا
لاکھ درپیشِ جاں ہو عذابِ سفر
رختِ دل کو نہ واں خاکِ پا کیجئے
امان زرگر — نومبر 10، 2017 2:03 شام
الف عین — نومبر 10، 2017 2:19 شام
پہلے دونوں اشعار تو درست ہیں، لیکن رخت دل ہی کچھ رخنہ کر رہا ہے!!
امان زرگر — نومبر 10، 2017 2:24 شام
پہلے دونوں اشعار تو درست ہیں، لیکن رخت دل ہی کچھ رخنہ کر رہا ہے!!
رخت دل کا متبادل لانے کی کوشش کرتا ہوں سر۔۔۔۔ مدد کا طالب بھی ہوں۔۔۔
امان زرگر — نومبر 10، 2017 3:20 شام
پہلے دونوں اشعار تو درست ہیں، لیکن رخت دل ہی کچھ رخنہ کر رہا ہے!!
اک عذابِ سفر ہی تو درپیش ہے!
گر قیامت بھی ہو زیرِ پا کیجئے
چوتھے شعر کا متبادل۔۔۔
کوئی پل کو ہو تخفیفِ دورِ ستم
سہل اب شوق کا مرحلہ کیجئے
عینی مروت — نومبر 10، 2017 6:46 شام
سر الف عین ، میم عینی مروت
مر کے بھی پھر نہ فکرِ بقا کیجئے
عشق میں اپنی ہستی فنا کیجئے
خوفِ رسوائی بھٹکا نہ دے آپ کو
راہبر قیس کا نقشِ پا کیجئے
موسمِ وصل کا راز کھل جائے گا
نکہتِ گل نہ وقفِ صبا کیجئے
ایک پل کو بھی تخفیفِ دورِ ستم
کچھ تردد نہ خوفِ خدا کیجئے
راستہ ہے جنوں خیز ایسا ، تو پھر
منزلوں کا تصور ذرا کیجئے
استاد محترم اور کچھ دیگر سینئر اراکین کی موجودگی میں آپ میم کہہ کر شرمندہ کر رہے ہیں جی۔۔۔ادب کی ایک ادنی طالبہ ہوں
ناقص سی رائے پیش کرسکتی ہوں۔۔۔۔اور اکثر خود بھی اصلاح کے لیے اپنا کلام شریک کرتی رہتی ہوں یہاں۔۔۔۔
امان زرگر — نومبر 11، 2017 2:03 صبح
استاد محترم اور کچھ دیگر سینئر اراکین کی موجودگی میں آپ میم کہہ کر شرمندہ کر رہے ہیں جی۔۔۔ادب کی ایک ادنی طالبہ ہوں
ناقص سی رائے پیش کرسکتی ہوں۔۔۔۔اور اکثر خود بھی اصلاح کے لیے اپنا کلام شریک کرتی رہتی ہوں یہاں۔۔۔۔
اللہ آپ کو خیر و برکت سے نوازے، امید ہے آپ کی طرف سے ''رائے'' دینے کا سلسلہ تعطل کا شکار نہیں ہو گا،