برائے اصلاح و تنقید (غزل 39)

امان زرگر — نومبر 18، 2017 4:57 صبح

وہ پردۂِ شرم کے تقاضے، ہر اہتمامِ حجاب ہو گا
چھپے گا نظروں سے کیسے لیکن، جو اک رخِ لاجواب ہو گا
یہ شب گزیدہ سحر ترستی رہے گی صدیوں ہی روشنی کو
شفق میں اتریں گی شوخ کرنیں نہ جلوۂِ آفتاب ہو گا
میں جو دیارِ جنوں میں تیرے ہی آسرے پہ نکل پڑا ہوں
وصالِ منزل اے چارہ گر اب مرے ہی نام انتساب ہو گا
مقامِ حسن و جمالِ کمسن کہ دیدہ و دل نہ تاب لائیں
بپا قیامت چہار اطراف، ان کا عہدِ شباب ہو گا
بیانِ غم اور فسانۂِ جاں، متاعِ شعر و سخن کی صورت
ضرور پڑھنا، کتابِ ہجراں میں ایک شہرت کا باب ہو گا
ندائے منصور کا بیاں بھی رقم جو مجنوں کی داستاں بھی
ورق ورق پر فسانۂِ غم ہر اک سخن واں کتاب ہو گا
امان زرگر — نومبر 18، 2017 6:12 صبح
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
الف عین — نومبر 18، 2017 7:06 صبح
پہلے دونوں ٹھیک ہیں۔ تیسرا شعر سمجھ میں نہیں آیا۔ پہلے مصرع میں ’جو‘ کی معنویت، دوسرے مصرع میں وصال منزل کی معنویت سمجھ میں نہیں آتی۔
چوتھے میں۔ دونوں مصرعوں میں فاعل الگ الگ ہیں، ربط محسوس نہیں ہوتا۔
پانچویں میں متاع شعر و سخن اور شہرت کا باب کی معنویت سمجھ میں نہیں آتی۔
آخری شعر تو سمجھ ہی نہیں سکا۔
یاں واں متروک ہو چکے ہیں، ان کا استعمال اچھا نہیں لگتا
امان زرگر — نومبر 18، 2017 2:02 شام

وہ پردۂِ شرم کے تقاضے، ہر اہتمامِ حجاب ہو گا
چھپے گا نظروں سے کیسے لیکن، جو اک رخِ لاجواب ہو گا
یہ شب گزیدہ سحر ترستی رہے گی صدیوں ہی روشنی کو
شفق میں اتریں گی شوخ کرنیں نہ جلوۂِ آفتاب ہو گا
میں اس دیارِ جنوں میں تیرے ہی آسرے پہ نکل پڑا ہوں
وصالِ منزل اے چارہ گر ہر قدم مرا
انتساب ہو گا

مقامِ حسن و جمالِ کمسن کہ دیدہ و دل نہ تاب لائیں
بپا قیامت چہار اطراف، اسی کا عہدِ شباب ہو گا
بیانِ غم اور فسانۂِ جاں، متاعِ شعر و سخن کی صورت
ضرور پڑھنا، کتابِ ہجراں میں حسرتوں کا جو باب ہو گا
ندائے منصور کا بیاں ہے رقم جو مجنوں کی داستاں ہے
ورق ورق پر فسانۂِ غم تو ہر سخن اک کتاب ہو گا
امان زرگر — نومبر 18، 2017 2:07 شام
سر الف عین
امان زرگر — نومبر 18، 2017 3:07 شام
میں خود فریبی کے آسرے پر جنوں کے رستے پہ چل پڑا ہوں
وصالِ منزل تلک بھلا کب یہ چارہ گر ہم رکاب ہو گا

یا

میں اس دیارِ جنوں میں تیرے ہی آسرے پہ نکل پڑا ہوں
وصالِ منزل تلک مرا تو اے چارہ گر ہم رکاب ہو گا
یا
سفر دیارِ جنوں کی جانب ہے جوشِ ہستی کے آسرے پر
وصالِ منزل تلک بھلا کیا یہ چارہ گر ہم رکاب ہو گا؟
امان زرگر — نومبر 19، 2017 4:06 صبح

سر الف عین
وہ پردۂِ شرم کے تقاضے، ہر اہتمامِ حجاب ہو گا
چھپے گا نظروں سے کیسے لیکن، جو اک رخِ لاجواب ہو گا
یہ شب گزیدہ سحر ترستی رہے گی صدیوں ہی روشنی کو
شفق میں اتریں گی شوخ کرنیں نہ جلوۂِ آفتاب ہو گا
میں خود فریبی کے آسرے پر جنوں کے رستے پہ چل پڑا ہوں
وصالِ منزل تلک بھلا کب یہ چارہ گر ہم رکاب ہو گا
مقامِ حسن و جمالِ کمسن کہ دیدہ و دل نہ تاب لائیں
بپا قیامت چہار اطراف، اسی کا عہدِ شباب ہو گا
بیانِ غم اور فسانۂِ جاں، متاعِ شعر و سخن کی صورت
ضرور پڑھنا، کتابِ ہجراں میں حسرتوں کا جو باب ہو گا
ندائے منصور کا بیاں ہے رقم جو مجنوں کی داستاں ہے
ورق ورق پر فسانۂِ غم تو ہر سخن اک کتاب ہو گا
الف عین — نومبر 19، 2017 6:46 صبح
ان چاروں اشعار پر میں وہی دہراؤں گا جو اوپر لکھا ہے۔
منزل، سفر، چلنے کے ساتھ چارہ گر کا تلازمہ کیوں؟
اس کے علاوہ شباب ہو گا والے شعر میں محض قیامت تو کہا جا سکتا ہے شباب کو، ’بپا قیامت‘ نہیں۔ ’قیامت بپا کرے گا‘ ہونا تھا۔
متاع کی جگہ شاید بیاض ہو تو قابل قبول ہو جائے۔
امان زرگر — نومبر 19، 2017 7:32 صبح
ان چاروں اشعار پر میں وہی دہراؤں گا جو اوپر لکھا ہے۔
منزل، سفر، چلنے کے ساتھ چارہ گر کا تلازمہ کیوں؟
اس کے علاوہ شباب ہو گا والے شعر میں محض قیامت تو کہا جا سکتا ہے شباب کو، ’بپا قیامت‘ نہیں۔ ’قیامت بپا کرے گا‘ ہونا تھا۔
متاع کی جگہ شاید بیاض ہو تو قابل قبول ہو جائے۔
مقامِ حسن و جمالِ کمسن کہ دیدہ و دل نہ تاب لائیں
چہار سو ہو گا شورِ محشر جب اس پہ عہدِ شباب ہو گا​

بیانِ غم اور فسانۂِ جاں، بیاضِ شعر و سخن کی صورت
ضرور پڑھنا، کتابِ ہجراں میں حسرتوں کا جو باب ہو گا​

رکاوٹیں لاکھ ہوں گی درپیش ، پر خطر ہے جنوں کا رستہ
وصالِ منزل تلک مرا یہ دریدہ دل ہم رکاب ہو گا​
امان زرگر — نومبر 20، 2017 12:37 شام
سر الف عین
الف عین — نومبر 21، 2017 6:47 صبح
ہاں اب یہ تینوں بہتر ہو گئے ہیں۔
امان زرگر — نومبر 21، 2017 5:37 شام

وہ پردۂِ شرم کے تقاضے، ہر اہتمامِ حجاب ہو گا
چھپے گا نظروں سے کیسے لیکن، جو اک رخِ لاجواب ہو گا
یہ شب گزیدہ سحر ترستی رہے گی صدیوں ہی روشنی کو
شفق میں اتریں گی شوخ کرنیں نہ جلوۂِ آفتاب ہو گا
رکاوٹیں لاکھ ہوں گی درپیش ، پر خطر ہے جنوں کا رستہ
وصالِ منزل تلک مرا یہ دریدہ دل ہم رکاب ہو گا
مقامِ حسن و جمالِ کمسن کہ دیدہ و دل نہ تاب لائیں
چہار سو ہو گا شورِ محشر جب اس پہ عہدِ شباب ہو گا
بیانِ غم اور فسانۂِ جاں، بیاضِ شعر و سخن کی صورت
ضرور پڑھنا، کتابِ ہجراں میں حسرتوں کا جو باب ہو گا
ندائے منصور کا بیاں ہے رقم جو مجنوں کی داستاں ہے
ورق ورق پر فسانۂِ غم تو ہر سخن اک کتاب ہو گا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D8%BA%D8%B2%D9%84-39.99144/