امان زرگر — اپریل 8، 2018 9:33 صبح
۔۔۔
چارہ سازی جو مدعا ہوتی
بندہ پرور! تبھی دوا ہوتی
کون بنتا رقیبِ جاں میرا
عاشقی گر نہ آسرا ہوتی
درد ہوتا یہ رشکِ جاں اپنا
جرأت آموز گر جفا ہوتی
پھیر لیتے نگاہ وہ ہم سے
ایسے ہستی نہ پھر فنا ہوتی
سب ہی الزام دل پہ آیا ہے
کچھ نگاہوں کی بھی خطا ہوتی!
امان زرگر — اپریل 8، 2018 9:34 صبح
محمد تابش صدیقی — اپریل 8، 2018 9:36 صبح
بہت عمدہ امان بھائی
امان زرگر — اپریل 8، 2018 9:38 صبح
بہت شکریہ، لیکن ابھی جب اس غزل کا آپریشن ہو گا تو لگ پتا جائے گا۔۔۔۔۔۔
محمد ریحان قریشی — اپریل 8، 2018 1:52 شام
خوب۔
امان زرگر — اپریل 8، 2018 4:37 شام
آپ کو پسند آئی۔ ہمارے لئے اعزاز۔۔۔۔۔ بہت شکریہ
نوید ناظم — اپریل 8، 2018 5:02 شام
۔۔۔
چارہ سازی جو مدعا ہوتی
بندہ پرور! تبھی دوا ہوتی
کون بنتا رقیبِ جاں میرا
عاشقی گر نہ آسرا ہوتی
درد ہوتا یہ رشکِ جاں اپنا
جرأت آموز گر جفا ہوتی
پھیر لیتے نگاہ وہ ہم سے
ایسے ہستی نہ پھر فنا ہوتی
سب ہی الزام دل پہ آیا ہے
کچھ نگاہوں کی بھی خطا ہوتی!
اگر ایسے ہو تو۔۔۔
سارے الزام دل پہ آئے ہیں
کچھ نگاہوں کی بھی خطا ہوتی!
امان زرگر — اپریل 8، 2018 5:46 شام
سر
الف عین کی آراء دیکھ لیتے ہیں۔ وہ اس بارے کیا حکم صادر فرماتے ہیں۔
اگر ایسے ہو تو۔۔۔
سارے الزام دل پہ آئے ہیں
کچھ نگاہوں کی بھی خطا ہوتی!
الف عین — اپریل 9، 2018 3:20 صبح
ماشاء اللہ اب تمہاری معمول والی لفظیات نظر نہیں آ رہی ہیں۔ اچھی غزل ہے۔ آخری شعر
نوید ناظم نے مزید رواں بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ
جرأت آموز گر جفا ہوتی
کو مکمل
جرأت آموز
اگر جفا ہوتی
کر دیں تو شاید بہتر ہو
امان زرگر — اپریل 9، 2018 5:57 صبح
...
چارہ سازی جو مدعا ہوتی
بندہ پرور! تبھی دوا ہوتی
کون بنتا رقیبِ جاں میرا
عاشقی گر نہ آسرا ہوتی
درد ہوتا یہ رشکِ جاں اپنا
جرأت آموز اگر جفا ہوتی
پھیر لیتے نگاہ وہ ہم سے
ایسے ہستی نہ پھر فنا ہوتی
سارے الزام دل پہ آئے ہیں
کچھ نگاہوں کی بھی خطا ہوتی!