۔۔۔
حال اربابِ اثر تک پہنچے
بھیک پھر کاسۂِ سر تک پہنچے
عشق جب ہاتھ میں تیشہ پکڑے
بات اعجازِ ہنر تک پہنچے
چار تنکے ہیں مرا سرمایہ
یہ صدا برق و شرر تک پہنچے
چشمِ تر کے جو صدف سے ٹپکے
رتبہ قطرے کا گہر تک پہنچے
بجھ گیا دیکھ چراغِ سحری
قافلے شب کے سحر تک پہنچے
حال اربابِ اثر تک پہنچے
بھیک پھر کاسۂِ سر تک پہنچے
عشق جب ہاتھ میں تیشہ پکڑے
بات اعجازِ ہنر تک پہنچے
چار تنکے ہیں مرا سرمایہ
یہ صدا برق و شرر تک پہنچے
چشمِ تر کے جو صدف سے ٹپکے
رتبہ قطرے کا گہر تک پہنچے
بجھ گیا دیکھ چراغِ سحری
قافلے شب کے سحر تک پہنچے