برائے اصلاح و تنقید (غزل 54)

امان زرگر — جون 20، 2018 12:26 شام
۔۔۔
کس آس پہ آیا ہوں سرِ راہ گزر آج
کچھ بھی تو نہیں پاس مرے زادِ سفر آج
اک تا بہ افق زرد سی رنگت کا دھواں ہے
پھیلا ہوا ہے ایک فلک حدِ نظر آج


احساس نہ ہو سجدہ کناں تیری جبیں سے

بے کار ہے تسبیح بھی اور دیدۂِ تر آج
یہ ظلم فقط تیری ہی بستی میں روا ہے
ملتا ہے بدل میں جو ہر اک گل کے شرر آج
پابندِ قفس تھا یہ اداس اتنا بھلا کب
طائر کہ جو بیٹھا ہے سرِ شاخِ شجر آج
اس شہر کے باسی ہیں جبینوں کے شناسا
دیکھے ہے ترا کون یہاں قلب و جگر آج


یہ چار ہی تنکے ہیں مری عمر کا حاصل

گر برق و شرر بھول گئے اپنا ہنر آج
امان زرگر — جون 20، 2018 12:29 شام
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
سر محمد تابش صدیقی
محمد تابش صدیقی — جون 20، 2018 12:33 شام
پابندِ قفس تھا تو اداس اتنا بھلا کب تھا
یہ مصرع بحر میں نہیں
امان زرگر — جون 20، 2018 12:37 شام
یہ مصرع بحر میں نہیں
اتنا کے دونوں الف گرائے نہیں جا سکتے کیا؟
محمد تابش صدیقی — جون 20، 2018 12:39 شام
اتنا کے دونوں الف گرائے نہیں جا سکتے کیا؟
دونوں گرانے کے باوجود
محمد تابش صدیقی — جون 20، 2018 12:41 شام
اتنا کے دونوں الف گرائے نہیں جا سکتے کیا؟
آخر سے تھا نکالیں تو وزن پورا ہے
امان زرگر — جون 20، 2018 12:48 شام
آخر سے تھا نکالیں تو وزن پورا ہے

۔۔۔
پابندِ قفس تھا یہ اداس اتنا بھلا کب
طائر کہ جو بیٹھا ہے سرِ شاخِ شجر آج
امان زرگر — جون 20، 2018 3:54 شام
سر محمد ریحان قریشی
الف عین — جون 20، 2018 7:34 شام
اک تا بہ افق زرد سی رنگت کا دھواں ہے
۔۔اک بہت دور جا پڑا۔ یوں کہو
ہے تا بہ افق زرد سی رنگت کا دھواں سا/کچھ
پھیلا ہوا ہے ایک فلک حدِ نظر آج
۔۔۔اس مصرع میں'ہوا ہے ' صوتی طور پر اچھا نہیں۔
احساس نہ ہو سجدہ کناں تیری جبیں سے
بے کار ہے تسبیح بھی اور دیدۂِ تر آج
۔۔ابلاغ نہیں ہوتا ۔ دوسرے مصرع میں 'بھی' کا درست محل 'تر' کے بعد ہے۔ یا 'بھی' کے بغیر کہا جائے الفاظ بدل کر۔
پابندِ قفس تھا یہ اداس اتنا بھلا کب
۔۔کہنا یہ ہے کہ یہ جب یہ طائر پابند قفس تھا، تب اتنا اداس نہیں تھا۔ لیکن یہ مطلب مکمل ظاہر نہیں ہوتا۔
امان زرگر — جون 21، 2018 3:29 صبح
اک تا بہ افق زرد سی رنگت کا دھواں ہے
۔۔اک بہت دور جا پڑا۔ یوں کہو
ہے تا بہ افق زرد سی رنگت کا دھواں سا/کچھ
پھیلا ہوا ہے ایک فلک حدِ نظر آج
۔۔۔اس مصرع میں'ہوا ہے ' صوتی طور پر اچھا نہیں۔
احساس نہ ہو سجدہ کناں تیری جبیں سے
بے کار ہے تسبیح بھی اور دیدۂِ تر آج
۔۔ابلاغ نہیں ہوتا ۔ دوسرے مصرع میں 'بھی' کا درست محل 'تر' کے بعد ہے۔ یا 'بھی' کے بغیر کہا جائے الفاظ بدل کر۔
پابندِ قفس تھا یہ اداس اتنا بھلا کب
۔۔کہنا یہ ہے کہ یہ جب یہ طائر پابند قفس تھا، تب اتنا اداس نہیں تھا۔ لیکن یہ مطلب مکمل ظاہر نہیں ہوتا۔
۔۔۔
ہے تا بہ افق زرد سی رنگت کا دھواں سا
یہ پھیلا ہے جو ایک فلک حدِ نظر آج
احساس نہیں سجدہ کناں تیری جبیں سے
بے کار ہے تسبیح تری، دیدۂِ تر آج
پابندِ قفس تھا، تو اداس اتنا بھلا کب تھا
طائر کہ جو بیٹھا ہے سرِ شاخِ شجر آج
الف عین — جون 21، 2018 12:22 شام
پابندِ قفس تھا، تو اداس اتنا بھلا کب تھا
طائر کہ جو بیٹھا ہے سرِ شاخِ شجر آج
پہلا مصرع 'کب تھا' وزن میں درست نہیں آتا۔ 'کب ت' بھی تب تقطیع ہوتا ہے جب آخری افاعیل کو فعولان کیا جائے۔ مگر الف خخا اسقاط صحیح نہیں
امان زرگر — جون 21، 2018 1:15 شام
پہلا مصرع 'کب تھا' وزن میں درست نہیں آتا۔ 'کب ت' بھی تب تقطیع ہوتا ہے جب آخری افاعیل کو فعولان کیا جائے۔ مگر الف خخا اسقاط صحیح نہیں

۔۔۔۔
وہ کنجِ قفس میں تھا اداس اتنا بھلا کب
طائر کہ جو بیٹھا ہے سرِ شاخِ شجر آج
یا
کب تھا وہ اداس اتنا بھلا کنجِ قفس میں
طائر کہ جو بیٹھا ہے سرِ شاخِ شجر آج
''وہ'' بہتر رہے گا یا ''یہ''
الف عین — جون 21، 2018 6:08 شام
کب تھا وہ اداس اتنا بھلا کنجِ قفس میں
طائر کہ جو بیٹھا ہے سرِ شاخِ شجر آج
بہترین ہے
محمد ریحان قریشی — جون 21، 2018 6:15 شام
طائر کہ جو بیٹھا ہے سرِ شاخِ شجر آج
یہ کیسا رہے گا:
طائر کہ جو گریاں ہے سرِ شاخِ شجر آج
امان زرگر — جون 22، 2018 3:34 صبح
۔۔۔
کس آس پہ آیا ہوں سرِ راہ گزر آج
کچھ بھی تو نہیں پاس مرے زادِ سفر آج
ہے تا بہ افق زرد سی رنگت کا دھواں سا
یہ پھیلا ہے جو ایک فلک حدِ نظر آج
احساس نہیں سجدہ کناں تیری جبیں سے
بے کار ہے تسبیح تری، دیدۂِ تر آج
یہ ظلم فقط تیری ہی بستی میں روا ہے
ملتا ہے بدل میں جو ہر اک گل کے شرر آج
اس شہر کے باسی ہیں جبینوں کے شناسا
دیکھے ہے ترا کون یہاں قلب و جگر آج
یہ چار ہی تنکے ہیں مری عمر کا حاصل
گر برق و شرر بھول گئے اپنا ہنر آج
کب تھا وہ اداس اتنا بھلا کنجِ قفس میں
طائر کہ جو بیٹھا ہے سرِ شاخِ شجر آج
امان زرگر — جون 22، 2018 7:29 صبح
یہ کیسا رہے گا:
طائر کہ جو گریاں ہے سرِ شاخِ شجر آج
اچھا ہے لیکن میرے خیال میں اداسی کا اظہار گریہ و آہ و زاری کی بنسبت خاموش بیٹھنے سے زیادہ ہوتا ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D8%BA%D8%B2%D9%84-54.101932/