برائے اصلاح و تنقید (غزل 61)

امان زرگر — جولائی 30، 2018 4:08 صبح
۔۔۔
تجھے بام پر جو صنم دیکھتے ہیں
دل و جاں ہتھیلی پہ ہم دیکھتے ہیں
بیاں خستہ حالی کروں اور کیسے
وہ چہرے پہ آنسو رقم دیکھتے ہیں
کہاں اتنی فرصت دلِ مبتلا کو!
وہ سود و زیاں بیش و کم دیکھتے ہیں
اشاروں میں آنکھوں کے جادو چھپا ہے
بیاں میں بھی اک زیر و بم دیکھتے ہیں
نہیں کچھ کمی جذب و مستی میں زرگر
ضعیفی سے گو پشت خم دیکھتے ہیں
امان زرگر — جولائی 30، 2018 4:09 صبح
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
سر محمد تابش صدیقی
الف عین — جولائی 30، 2018 7:57 صبح
نہیں بھئی، اس کی ردیف پسند نہیں آئی ۔ خاص طور پر مطلع اور اس کے بعد کے شعر میں۔ "دیکھتے ہیں" کا استعمال درست محسوس نہیں ہوتا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D8%BA%D8%B2%D9%84-61.102534/