برائے اصلاح و تنقید (غزل 64)

امان زرگر — اگست 10، 2018 4:50 صبح
۔۔۔
میں بکھرا ہوں سمیٹے گا مگر آہستہ آہستہ
وہ کچھ ہونٹوں سے بولے گا مگر آہستہ آہستہ
اسے تم دھوتے جاؤ بس ذرا نمکین پانی سے
یہ دل کا زنگ اترے گا مگر آہستہ آہستہ
سبب اس خستہ حالی کا کبھی چاہے تو نام اپنا
مرے چہرے سے پڑھ لے گا مگر آہستہ آہستہ
بس اب ہے ختم ہونے کو شبِ تاریک کا قصہ
شفق میں رنگ بکھرے گا مگر آہستہ آہستہ
پڑی ہے ایسی کیا جلدی، ابھی کچی عمر میں ہے
دلوں سے بھی وہ کھیلے گا مگر آہستہ آہستہ
ذرا سی دیر کو ٹھہرو نکھرنے دو ابھی منظر
تری آنکھوں میں پھیلے گا مگر آہستہ آہستہ
گزرتے ہیں گلی سے اس کی ہم ہر روز ہی زرگر
وہ دروازے سے جھانکے گا مگر آہستہ آہستہ
محمد خلیل الرحمٰن — اگست 10، 2018 5:05 صبح
۔۔۔
میں بکھرا ہوں سمیٹے گا مگر آہستہ آہستہ
وہ کچھ ہونٹوں سے بولے گا مگر آہستہ آہستہ
اسے تم دھو تے جاؤ بس ذرا نمکین پانی سے
یہ دل کا زنگ اترے گا مگر آہستہ آہستہ
سبب اس خستہ حالی کا کبھی چاہے تو نام اپنا
مرے چہرے سے پڑھ لے گا مگر آہستہ آہستہ
بس اب ہے ختم ہونے کو شبِ تاریک کا قصہ
شفق میں رنگ بکھرے گا مگر آہستہ آہستہ
پڑی ہے ایسی کیا جلدی، ابھی کچی عمر میں ہے
دلوں سے بھی وہ کھیلے گا مگر آہستہ آہستہ
ذرا سی دیر کو ٹھہرو نکھرنے دو ابھی منظر
تری آنکھوں میں پھیلے گا مگر آہستہ آہستہ
گزرتے ہیں گلی سے اس کی ہم ہر روز ہی زرگر
وہ دروازے سے جھانکے گا مگر آہستہ آہستہ
خوب صورت۔ خوب صورت
عباد اللہ — اگست 10، 2018 6:18 صبح
ماشا اللہ اچھی غزل ہے بھائی اگر چہ کہیں کہیں کچھ بندشیں مزید چست ہو سکتی ہیں
پڑی ہے ایسی کیا جلدی، ابھی کچی عمر میں ہے
عمر میں م پر سکون ہے بھائی 50 60 غزلیں کہہ لینے کے بعد ایسی غلطی تو نہیں کرنی چاہیے کم از کم!
امان زرگر — اگست 10، 2018 7:03 صبح
ماشا اللہ اچھی غزل ہے بھائی اگر چہ کہیں کہیں کچھ بندشیں مزید چست ہو سکتی ہیں
عمر میں م پر سکون ہے بھائی 50 60 غزلیں کہہ لینے کے بعد ایسی غلطی تو نہیں کرنی چاہیے کم از کم!
نشاندہی پر شکر گزار ہوں ہجے کرنے میں غلطی سرزد ہوئی ۔۔۔۔
اب دیکھیئے
۔۔۔
ابھی نادان و کم سن ہے مہ و انجم کا شیدائی
دلوں سے بھی وہ کھیلے گا مگر آہستہ آہستہ
مزید یہ کہ، غزل میں کمزور بندشوں کی نشاندہی کی درخواست ہے۔
محمد تابش صدیقی — اگست 10، 2018 7:36 صبح
ذرا سی دیر کو ٹھہرو نکھرنے دو ابھی منظر
تری آنکھوں میں پھیلے گا مگر آہستہ آہستہ
شتر گربہ ہے غالباً
پہلے مصرع میں ٹھہرو، دو
دوسرے میں تری
عباد اللہ — اگست 10، 2018 7:39 صبح
نشاندہی پر شکر گزار ہوں ہجے کرنے میں غلطی سرزد ہوئی ۔۔۔۔
اب دیکھیئے
۔۔۔
ابھی نادان و کم سن ہے مہ و انجم کا شیدائی
دلوں سے بھی وہ کھیلے گا مگر آہستہ آہستہ
مزید یہ کہ، غزل میں کمزور بندشوں کی نشاندہی کی درخواست ہے۔
بھائی اس کے لیے اساتذہ کا انتظار فرمائیے کہ ہم تو خود اصلاح لینے والوں کی صف میں آپ سے کافی پیچھے کھڑے ہیں. اساتذہ اگر کچھ نہ کہیں تو اسے ہماری ذاتی رائے سمجھ سمجھ کر درگزر کیجئے گا :):):)
امان زرگر — اگست 10، 2018 7:48 صبح
شتر گربہ ہے غالباً
پہلے مصرع میں ٹھہرو، دو
دوسرے میں تری
۔۔۔۔
ذرا سا ابر چھٹنے سے نکھر جائے گا یہ منظر
تری آنکھوں میں پھیلے گا مگر آہستہ آہستہ
امان زرگر — اگست 10، 2018 7:54 صبح
بھائی اس کے لیے اساتذہ کا انتظار فرمائیے کہ ہم تو خود اصلاح لینے والوں کی صف میں آپ سے کافی پیچھے کھڑے ہیں. اساتذہ اگر کچھ نہ کہیں تو اسے ہماری ذاتی رائے سمجھ سمجھ کر درگزر کیجئے گا :):):)
بھائی عباد! اللہ آپ کو خیر و برکت سے نوازے۔ آپ نے درست نشاندہی کی تب ہی درست بھی کیا اور مصارع کو مزید چست کرنے کی کوشش بھی کی۔۔۔ اگر غزل درست سمجھتا اور قابلیت کچھ ہوتی تو غزلیات پابند بحور شاعری کی لڑی میں پیش کرتا لیکن میں یہاں سیکھنے آتا ہوں اپنا علم جھاڑنے نہیں۔ اللہ استادِ محترم الف عین کو خوش رکھے یہ جو کچھ لکھ لیتا ہوں سب ان کا فیض ہے اور بھائی محمد ریحان قریشی اور جناب محمد تابش صدیقی کے ساتھ کا ثمر ہے۔
محمد تابش صدیقی — اگست 10، 2018 7:54 صبح
۔۔۔۔
ذرا سا ابر چھٹنے سے نکھر جائے گا یہ منظر
تری آنکھوں میں پھیلے گا مگر آہستہ آہستہ
پتہ نہیں کیوں، کچھ الجھن سی ہے۔
ذرا نثر کر کے پڑھیں۔
یہ منظر ذرا سا ابر چھٹنے سے نکھر جائے گا۔ مگر تیری آنکھوں میں آہستہ آہستہ پھیلے گا۔
جب ذرا سا ابر چھٹنے سے نکھر جائے گا۔ تو آہستہ آہستہ پھیلنے کا کیا مطلب؟
امان زرگر — اگست 10، 2018 7:57 صبح
پتہ نہیں کیوں، کچھ الجھن سی ہے۔
ذرا نثر کر کے پڑھیں۔
یہ منظر ذرا سا ابر چھٹنے سے نکھر جائے گا۔ مگر تیری آنکھوں میں آہستہ آہستہ پھیلے گا۔
جب ذرا سا ابر چھٹنے سے نکھر جائے گا۔ تو آہستہ آہستہ پھیلنے کا کیا مطلب؟
پھر یہ منظر کیسا ہونا چاہیے جو آہستہ آہستہ آنکھوں میں پھیلے؟ رہنمائی مطلوب ہے
محمد تابش صدیقی — اگست 10، 2018 8:00 صبح
پھر یہ منظر کیسا ہونا چاہیے جو آہستہ آہستہ آنکھوں میں پھیلے؟ رہنمائی مطلوب ہے
کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔
جبھی کہا کہ
پتہ نہیں کیوں، کچھ الجھن سی ہے۔
اور ہو سکتا ہے کہ شعر درست ہو۔ میری الجھن کا مسئلہ ہو۔ :)
محمد ریحان قریشی — اگست 10، 2018 8:07 صبح
شفق میں رنگ بکھرے گا مگر آہستہ آہستہ
شاید آپ یہ کہنا چاہ رہے تھے:
افق پر رنگ بکھرے گا مگر آہستہ آہستہ
سبب اس خستہ حالی کا کبھی چاہے تو نام اپنا
مرے چہرے سے پڑھ لے گا مگر آہستہ آہستہ
"کبھی" اور "آہستہ آہستہ" جیسے دو عربدہ جو ایک شعر میں خطرناک ہو سکتے ہیں.
امان زرگر — اگست 10، 2018 8:14 صبح
کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔
جبھی کہا کہ
اور ہو سکتا ہے کہ شعر درست ہو۔ میری الجھن کا مسئلہ ہو۔ :)
۔۔۔
ذرا سے ابر کیا چھائے کہ نیلا ہو گیا منظر
مری آنکھوں میں پھیلے گا مگر آہستہ آہستہ
محمد تابش صدیقی — اگست 10، 2018 8:22 صبح
۔۔۔
ذرا سے ابر کیا چھائے کہ نیلا ہو گیا منظر
مری آنکھوں میں پھیلے گا مگر آہستہ آہستہ
بات کچھ اور دور جا پڑی ہے۔ فی الحال رہنے دیں۔ کسی اور وقت غور کیجیے گا۔ :)
امان زرگر — اگست 10، 2018 8:30 صبح
ذرا سی دیر کو ٹھہرو نکھرنے دو ابھی منظر
تری آنکھوں میں پھیلے گا مگر آہستہ آہستہ
شتر گربہ ہے غالباً
پہلے مصرع میں ٹھہرو، دو
دوسرے میں تری

۔۔۔۔
ذرا سا ابر چھٹنے سے نکھر جائے گا یہ منظر
تری آنکھوں میں پھیلے گا مگر آہستہ آہستہ

۔۔۔
ذرا سے ابر کیا چھائے کہ نیلا ہو گیا منظر
مری آنکھوں میں پھیلے گا مگر آہستہ آہستہ
ذرا سی دیر ہے بس اب نکھرنے کو ہے یہ منظر
تری آنکھوں میں پھیلے گا مگر آہستہ آہستہ
محمد ریحان قریشی
محمد ریحان قریشی — اگست 10، 2018 8:49 صبح
ذرا سی دیر ہے بس اب نکھرنے کو ہے یہ منظر
تری آنکھوں میں پھیلے گا مگر آہستہ آہستہ
محمد ریحان قریشی
سچ کہوں تو مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ کسی منظر کا آنکھوں میں پھیلنا کیا معنی رکھتا ہے.
امان زرگر — اگست 10، 2018 12:24 شام
۔۔۔
میں بکھرا ہوں سمیٹے گا مگر آہستہ آہستہ
وہ کچھ ہونٹوں سے بولے گا مگر آہستہ آہستہ
اسے دھوتے رہو گے تم ذرا نمکین پانی سے
تو دل کا زنگ اترے گا مگر آہستہ آہستہ
وہ میری خستہ حالی کا سبب چاہے تو نام اپنا
مرے چہرے سے پڑھ لے گا مگر آہستہ آہستہ
بس اب ہے ختم ہونے کو شبِ تاریک کا قصہ
افق پر رنگ بکھرے گا مگر آہستہ آہستہ
ابھی نادان و کم سن ہے مہ و انجم کا شیدائی
دلوں سے بھی وہ کھیلے گا مگر آہستہ آہستہ
سب اقدارِ کہن زد میں ہیں اب افکارِ تازہ کی
زمانہ رنگ بدلے گا مگر آہستہ آہستہ
گلی سے اس کی گزریں گے کچھ ایسی دھج سے ہم زرگر
وہ دروازے سے جھانکے گا مگر آہستہ آہستہ
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
سر محمد تابش صدیقی
امان زرگر — اگست 11، 2018 2:46 شام
۔۔۔
سب اقدارِ کہن زد میں ہیں اب افکارِ تازہ کی
زمانہ سمت بدلے گا مگر آہستہ آہستہ
الف عین — اگست 12، 2018 10:47 صبح
اب درست ہے غزل

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D8%BA%D8%B2%D9%84-64.102734/