برائے اصلاح و تنقید (غزل 65)

امان زرگر — اکتوبر 5، 2018 2:59 شام
۔۔۔۔
عشق کی انتہا کے کیا کہنے
نیستی اور بقا کے کیا کہنے
ضرب کاری ہر اک رہی اب تک
آبِ تیغِ قضا کے کیا کہنے
آہِ مظلوم بے اثر ٹھہری
دستِ اہلِ جفا کے کیا کہنے
چھین لے دل بس ایک لمحے میں
''دلبروں کی ادا کے کیا کہنے''
چاک سینہ ہے آسمانوں کا
میری آہ و بکا کے کیا کہنے
کوچۂِ یار! جاں بہ لب تھے ہم
تیری خاکِ شفا کے کیا کہنے
دردِ دل دو گھڑی نہ ٹک پایا
دردِ دل کی دوا کے کیا کہنے
عام کرتی پھرے پیامِ گل
موجِ بادِ صبا کے کیا کہنے
وقتِ رخصت کرم پہ مائل ہیں
آہ! خوئے عطا کے کیا کہنے
دردِ دل دے دیا مجھے یا رب!
اس کرم کے، عطا کے کیا کہنے
وسعتِ قلبِ عاشقاں زرگر
یعنی ارض و سما کے کیا کہنے
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
سر محمد تابش صدیقی
الف عین — اکتوبر 6، 2018 6:09 صبح
درست ہے غزل ماشاء اللہ۔ بس مطلع مجھے دو لخت محسوس ہوتا ہے
نیستی اور ہستی، فنا اور بقا کے جوڑ ہیں یوں بھی
امان زرگر — اکتوبر 6، 2018 11:20 صبح
درست ہے غزل ماشاء اللہ۔ بس مطلع مجھے دو لخت محسوس ہوتا ہے
نیستی اور ہستی، فنا اور بقا کے جوڑ ہیں یوں بھی

۔۔
اس فنا و بقا کے کیا کہنے
عشق کی انتہا کے کیا کہنے
الف عین — اکتوبر 7، 2018 11:48 صبح
یہ بہتر ہے لیکن مفہوم کے اعتبار سے اب بھی دو لخت لگتا ہے
فلسفی — اکتوبر 8، 2018 10:53 صبح
چاک سینہ ہے آسمانوں کا
میری آہ و بکا کے کیا کہنے
بہت خوب، داد قبول کیجیے۔
امان زرگر — فروری 9، 2020 2:35 شام
یہ بہتر ہے لیکن مفہوم کے اعتبار سے اب بھی دو لخت لگتا ہے

رزمِ ہست و فنا کے کیا کہنے
عشق کی انتہا کے کیا کہنے
الف عین — فروری 10، 2020 4:51 صبح
رزمِ ہست و فنا کے کیا کہنے
عشق کی انتہا کے کیا کہنے
یہ بہتر ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D8%BA%D8%B2%D9%84-65.103538/