برائے اصلاح و تنقید (غزل۔75)

امان زرگر — مارچ 10، 2019 3:59 شام
۔۔۔۔
اب درد کے ہر باب کی تصریح نئی ہو
یوں قلب و جگر کو مرے ترویح نئی ہو
میں قیس کے ہمراہ پھروں دشت میں کب تک؟
اربابِ جنوں! اب کوئی تلمیح نئی ہو
یہ زہرہ جبیں لوگ مرے دل سے نہ کھیلیں
اب ان کے لئے دنیا میں تفریح نئی ہو
اک زلزلہ برپا ہو جو سر خاک پہ رکھ دیں
ان اہلِ جنوں کے لئے تسبیح نئی ہو
ظاہر ہو مہ و مہر پہ رخسار کا منظر
پھر حسن کی ہر طور سے تشریح نئی ہو
گر ساتھ ہو تیرا تو نہ مطلوب ہوں تارے
آفاق ہتھیلی پہ ہو، ترجیح نئی ہو
آوارہ وطن آج زمانے میں ہے زرگر
اس کارگہِ دہر کی تسطیح نئی ہو
امان زرگر — مارچ 10، 2019 4:00 شام
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
سر محمد تابش صدیقی
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 10، 2019 5:46 شام
۔۔۔۔
اب درد کے ہر باب کی تصریح نئی ہو
یوں قلب و جگر کو مرے ترویح نئی ہو
میں قیس کے ہمراہ پھروں دشت میں کب تک؟
اربابِ جنوں! اب کوئی تلمیح نئی ہو
یہ زہرہ جبیں لوگ مرے دل سے نہ کھیلیں
اب ان کے لئے دنیا میں تفریح نئی ہو
اک زلزلہ برپا ہو جو سر خاک پہ رکھ دیں
ان اہلِ جنوں کے لئے تسبیح نئی ہو
ظاہر ہو مہ و مہر پہ رخسار کا منظر
پھر حسن کی ہر طور سے تشریح نئی ہو
گر ساتھ ہو تیرا تو نہ مطلوب ہوں تارے
آفاق ہتھیلی پہ ہو، ترجیح نئی ہو
آوارہ وطن آج زمانے میں ہے زرگر
اس کارگہِ دہر کی تسطیح نئی ہو
امان زرگر بھائی کی خوبصورت غزل پر ہماری شرارت ملاحظہ فرمائیں۔

اب درد کے ہر باب میں اک چیخ نئی ہو
یوں قلب و جگر کی مرے توبیخ نئی ہو
میں قیس کے ہمراہ پھروں دشت میں کب تک؟
اربابِ جنوں! اب کوئی تاریخ نئی ہو
یہ زہرہ جبیں لوگ مرے دل کو نہ بھونیں
اب ان کی انگیٹھی پہ ذرا سیخ نئی ہو
اک زلزلہ برپا ہو جو سر خاک پہ رکھ دیں
ان اہلِ جنوں کے لئے اک ریخ نئی ہو
ظاہر ہو مہ و مہر پہ رخسار کا منظر
اب جھوٹ کی اس طور سے تنسیخ نئی ہو
گر ساتھ ہو تیرا تو نہ مطلوب ہوں تارے
زہرہ کی سحر اور شبِ مریخ نئی ہو
پہچان لے زرگر کو یہ دنیا ، یہ زمانہ
اس کارگہِ دہر کی تاریخ نئی ہو​
الف عین — مارچ 10، 2019 10:43 شام
مطلع واضح نہیں ہوا۔ ترویح کے معنوں کے لیے لغت دیکھنے پر بھی!
اور یہ بھی
گر ساتھ ہو تیرا تو نہ مطلوب ہوں تارے
آفاق ہتھیلی پہ ہو، ترجیح نئی ہو
باقی اشعار درست ہیں بلکہ بہت اچھے ہیں ماشاء اللہ
امان زرگر — مارچ 11، 2019 4:06 صبح
مطلع واضح نہیں ہوا۔ ترویح کے معنوں کے لیے لغت دیکھنے پر بھی!
اور یہ بھی
گر ساتھ ہو تیرا تو نہ مطلوب ہوں تارے
آفاق ہتھیلی پہ ہو، ترجیح نئی ہو
باقی اشعار درست ہیں بلکہ بہت اچھے ہیں ماشاء اللہ

اب درد کے ہر باب کی تصریح نئی ہو
ہر ایک مسرت پئے ترویح نئی ہو
۔۔۔۔۔۔
گر ساتھ ہو تیرا تو میں لاؤں نہ ستارے
آفاق ہتھیلی پہ ہو ترجیح نئی ہو
الف عین — مارچ 11، 2019 8:26 شام
اب درد کے ہر باب کی تصریح نئی ہو
ہر ایک مسرت پئے ترویح نئی ہو
۔۔۔۔۔۔
گر ساتھ ہو تیرا تو میں لاؤں نہ ستارے
آفاق ہتھیلی پہ ہو ترجیح نئی ہو
یہ اشعار بہتر ہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D8%BA%D8%B2%D9%84%DB%9475.105896/