امان زرگر — اکتوبر 12، 2017 5:22 صبح
پہلا دن
پھول نرم و نازک سا
شبنمی قَبا اوڑھے
دشتِ دل میں کِھلتا ہے
جب سمیٹ کر چاہت
کتنے سارے ارماں بھی
جب سجائے ماتھے پر
اک کرن اجالے کی
خواب بُن کےآنکھوں میں
اک سنہرے سے کل کا
جب اٹھائے کاندھے پر
خواہشوں کا اک بستہ
پھول نرم و نازک سا
مدرسے کو چلتا ہے
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 12، 2017 6:13 صبح
اچھی نظم ہے، مگر عنوان ہونا چاہیے۔
امان زرگر — اکتوبر 12، 2017 6:30 صبح
اچھی نظم ہے، مگر عنوان ہونا چاہیے۔
پسندیدگی پر مشکور ہوں۔ عنوان تجویز کر دیجئے ناں۔۔۔۔
امان زرگر — اکتوبر 12، 2017 6:31 صبح
۔
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 12، 2017 6:36 صبح
مجھے تو بیٹی کے سکول کا پہلا دن یاد آ گیا۔

امان زرگر — اکتوبر 12، 2017 7:27 صبح
فرحان محمد خان — اکتوبر 12، 2017 11:16 صبح
خوبصورت واہ
امان زرگر — اکتوبر 12، 2017 1:41 شام
الف عین — اکتوبر 13، 2017 4:35 شام
اچھی نظم ہے۔ اگرچہ مصرع نمبر ٬4 5٬ 6٬ 7 مکمل نہیں لگتے۔ شاید چل جائیں لیکن بدل دیں تو بہتر ہے
امان زرگر — اکتوبر 13، 2017 4:57 شام
اچھی نظم ہے۔ اگرچہ مصرع نمبر ٬4 5٬ 6٬ 7 مکمل نہیں لگتے۔ شاید چل جائیں لیکن بدل دیں تو بہتر ہے
تھوڑی سی وضاحت کر دیں تو احسان ہو گا اور میری مشکل بھی آسان ہو جائے گی۔۔۔
الف عین — اکتوبر 15، 2017 4:34 صبح
جب سمیٹ کر چاہت
کتنے سارے ارماں بھی
جب سجائے ماتھے پر
اک کرن اجالے کی
///یہ پتہ نہیں چلتا کہ پھول چاہت اور ادماں سمیٹ کر کیا کر رہا ہے۔ جس طرح 'ماتھے پر اجالے کی کرن ' سے انگلی سطروں سے مربوط ہے۔ اس طرح یہ سطریں مربوط نہیں