امان زرگر — اکتوبر 23، 2017 10:00 صبح
شاعری
فغانِ غمِ دل مری نارسیدہ
ہیں الفاظ بھی گم، بیاں آبدیدہ
مرے درد کا چشمِ نم اک حوالہ
مری لوحِ قسمت بھی دامن دریدہ
سنانِ جنوں پر مری ذات ٹھہری
سو تڑپے گا لاشہ مرا سر بریدہ
مرا حال طائر انھیں جا سنائیں
کہ مخدوش ہے پیڑ، شاخیں بریدہ
ثمر ہے مرے سوز کا اشکِ خونیں
مرا دل مری جاں محبت گزیدہ
نہیں ضبط میں درد کا اب فسانہ
رہے کب تلک یوں جگر غم کشیدہ
(نہیں ضبط میں درد کا اب فسانہ
بڑی مدتوں سے مرا دل رنجیدہ)
میں کچھ تو مداوا کروں دردِ دل کا
سخن دوں میں اب سوزِ جاں کو نمیدہ
(سخن کچھ ملے سوزِ جاں کو نمیدہ)
کروں زیبِ تحریر ادوارِ الفت
لکھوں سوزِ دل، اشکِ جاں کا قصیدہ
ہو اوراق میں ظرف درماندگی کا
تو الفاظ میں وصفِ گریاں تپیدہ
مری وقف ہستی ہو کارِ سخن میں
پہنچ پائے تکمیل کو اک جریدہ!
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
محمد ریحان قریشی — اکتوبر 23، 2017 4:46 شام
بڑی مدتوں سے مرا دل رنجیدہ
وزن درست نہیں معلوم ہو رہا۔
امان زرگر — اکتوبر 23، 2017 5:53 شام
وزن درست نہیں معلوم ہو رہا۔
نشاندہی کے لئے شکر گزار ہوں۔۔۔ درست کرتا ہوں
امان زرگر — اکتوبر 23، 2017 6:14 شام
وزن درست نہیں معلوم ہو رہا۔
نہیں ضبط میں درد کا اب فسانہ
بڑی مدتوں سے مرا دل رنجیدہ
کی بجائے
نہیں ضبط میں درد کا اب فسانہ
رہے کب تلک یوں جگر غم کشیدہ
عینی مروت — اکتوبر 23، 2017 6:20 شام
ثمر ہے مرے سوز کا اشکِ خونیں
مرا دل مری جاں محبت گزیدہ
وااہ بہت اچھے۔۔
پوری غزل خوووب ہے
بہت سی داد۔۔۔۔۔۔
الف عین — اکتوبر 24، 2017 6:34 صبح
میں نے جو عام رائے دی تھی تمہاری شاعری کے بارے میں وہ اس نظم میں بھی درست ہے۔ دوسری بات زبردستی کی ترکیبیں ہیں جو اکثر بے معنی لگتی ہیں۔ جیسے وصف گریاں تپیدہ
امان زرگر — اکتوبر 24، 2017 2:26 شام
میں نے جو عام رائے دی تھی تمہاری شاعری کے بارے میں وہ اس نظم میں بھی درست ہے۔ دوسری بات زبردستی کی ترکیبیں ہیں جو اکثر بے معنی لگتی ہیں۔ جیسے وصف گریاں تپیدہ
سر وضاحت کا طالب ہوں۔۔۔۔ اتنا لکھ لینا آپ کی شفقت کے باعث ہی ہے۔۔۔ کمی کوتاہی بھی اسی در سے اصلاح پائے گی۔۔۔
امان زرگر — اکتوبر 24، 2017 5:28 شام
شاعری
فغانِ غمِ دل مری نارسیدہ
ہیں الفاظ بھی گم، بیاں آبدیدہ
مرے درد کا چشمِ نم اک حوالہ
مری لوحِ قسمت بھی دامن دریدہ
سنانِ جنوں پر مری ذات ٹھہری
سو تڑپے گا لاشہ مرا سر بریدہ
مرا حال طائر انھیں جا سنائیں
کہ مخدوش ہے پیڑ، شاخیں بریدہ
ثمر ہے مرے سوز کا اشکِ خونیں
مرا دل مری جاں محبت گزیدہ
نہیں ضبط میں درد کا اب فسانہ
رہے کب تلک یوں جگر غم کشیدہ
میں کچھ تو مداوا کروں دردِ دل کا
سخن اب ملے سوزِ جاں کو نمیدہ
کروں زیبِ تحریر ادوارِ الفت
لکھوں سوزِ دل، اشکِ جاں کا قصیدہ
ہوں مثلِ غَزالِ خُتَن لفظ سارے
ٹہلتے پھریں دشت میں آرمیدہ
مری وقف ہستی ہو کارِ سخن میں
پہنچ پائے تکمیل کو اک جریدہ!
سر الف عین
الف عین — اکتوبر 25، 2017 7:50 صبح
مثلاً
فغانِ غمِ دل مری نارسیدہ
ہیں الفاظ بھی گم، بیاں آبدیدہ
پہلے مصرع میں واضح نہیں کہ اس وقوعے کا صیغہ کیا ہے۔ ماضی کی بات ہے، حال کی یا مستقبل کی۔
پھر فغان غم دل؟ محض دل کی فغاں تو مشہورترکیب ہے۔غم دل کی فغاں ؟
اگر یوں ہو تو بات واضح ہو جائے۔
مرے دل کی آہیں رہیں نا رسیدہ
الف عین — اکتوبر 25، 2017 7:53 صبح
ایک اور مثال
کروں زیبِ تحریر ادوارِ الفت
لکھوں سوزِ دل، اشکِ جاں کا قصیدہ
داستان الفت تو لکھی جا سکتی ہے۔ ادوار محبت کیسے ممکن ہے؟
اسکے علاوہ ’زیب تحریر‘ سے یوں لگتا ہے کہ جو لکھا جائے گا، اس سے سب کو مسرت کا حصول ہو گا۔ لیکن جو لکھنے کا ارادہ ہے وہ تو غم کی داستان ہے!!
امان زرگر — اکتوبر 25، 2017 8:41 صبح
شاعری
مرے دل کی آہیں رہیں نارسیدہ
ہیں الفاظ بھی گم، بیاں آبدیدہ
مرے درد کا چشمِ نم اک حوالہ
مری لوحِ قسمت بھی دامن دریدہ
سنانِ جنوں پر مری ذات ٹھہری
سو تڑپے گا لاشہ مرا سر بریدہ
مرا حال طائر انھیں جا سنائیں
کہ مخدوش ہے پیڑ، شاخیں بریدہ
ثمر ہے مرے سوز کا اشکِ خونیں
مرا دل مری جاں محبت گزیدہ
نہیں ضبط میں درد کا اب فسانہ
رہے کب تلک یوں جگر غم کشیدہ
میں کچھ تو مداوا کروں دردِ دل کا
سخن اب ملے سوزِ جاں کو نمیدہ
سپردِ قلم داستانِ ستم ہو
رقم سب ہوں احوالِ آفت رسیدہ
ہوں مثلِ غَزالِ خُتَن لفظ سارے
ٹہلتے پھریں دشت میں آرمیدہ
مری وقف ہستی ہو کارِ سخن میں
پہنچ پائے تکمیل کو اک جریدہ!
سر الف عین
الف عین — اکتوبر 26، 2017 5:42 صبح
ہاں اب کافی بہتر ہے۔ کم از کم میرا اصل اعتراض تم درست سمجھ گئے ہو۔ امید ہے آئندہ بھی اس کا خیال رکھو گے۔
احوال آفت رسیدہ عجیب لگ رہا ہے۔
آخری شعر میں جریدہ قافیہ بھی درست لفظ نہیں لگتا۔
بجائے نظم کے اسے غزل ہی کہو۔ جو شاعری سے راست مفہوم کے اشعار ہیں، ان کو مسلسل کا عنوان دے دو
امان زرگر — اکتوبر 26، 2017 9:34 صبح
سپردِ قلم داستانِ ستم ہو
رقم ہوں سب احوالِ دل ناشَنیدہ
مری وقف ہستی ہو کارِ سخن میں
پہنچ پائے تکمیل کو یہ قصیدہ!
سر الف عین
الف عین — اکتوبر 28، 2017 8:05 صبح
ٹھیک ہیں اشعار
امان زرگر — اکتوبر 28، 2017 8:34 صبح
امان زرگر — اکتوبر 28، 2017 8:37 صبح
اساتذہ سے اصلاح کے بعد پیشِ خدمت ہے۔
مرے دل کی آہیں رہیں نارسیدہ
ہیں الفاظ بھی گم، بیاں آبدیدہ
مرے درد کا چشمِ نم اک حوالہ
مری لوحِ قسمت بھی دامن دریدہ
سنانِ جنوں پر مری ذات ٹھہری
سو تڑپے گا لاشہ مرا سر بریدہ
مرا حال طائر انھیں جا سنائیں
کہ مخدوش ہے پیڑ، شاخیں بریدہ
ثمر ہے مرے سوز کا اشکِ خونیں
مرا دل مری جاں محبت گزیدہ
نہیں ضبط میں درد کا اب فسانہ
رہے کب تلک یوں جگر غم کشیدہ
میں کچھ تو مداوا کروں دردِ دل کا
سخن اب ملے سوزِ جاں کو نمیدہ
سپردِ قلم داستانِ ستم ہو
رقم ہوں سب احوالِ دل ناشَنیدہ
ہوں مثلِ غَزالِ خُتَن لفظ سارے
ٹہلتے پھریں دشت میں آرمیدہ
مری وقف ہستی ہو کارِ سخن میں
پہنچ پائے تکمیل کو یہ قصیدہ!