خدمت میں ایک بار پھر حاضر ہوا ہوں
اس امید کہ ساتھ کہ احباب اور اساتذہ
اس بار بھی دامن میرا خالی نہ رہنے دیں گے
دل تو ہے جلانے کو
آپ سے لگانے کو
دور نامناسب ہے
حال ِ دل سنانے کو
اشک کا سمندر ہے
یاد میں بہانے کو
مفلسی بھی اچھی ہے
کچھ نہیں گنوانے کو
مختصر سا جیون ہے
حال ِ دل سنانے کو
آنکھ دے خبر ساری
کچھ نہیں چھپانے کو
ہے بہت اکیلا پن
عید پر سجانے کو
رات ہے بڑی گہری
ہم ہیں دل جلانے کو
اس امید کہ ساتھ کہ احباب اور اساتذہ
اس بار بھی دامن میرا خالی نہ رہنے دیں گے
دل تو ہے جلانے کو
آپ سے لگانے کو
دور نامناسب ہے
حال ِ دل سنانے کو
اشک کا سمندر ہے
یاد میں بہانے کو
مفلسی بھی اچھی ہے
کچھ نہیں گنوانے کو
مختصر سا جیون ہے
حال ِ دل سنانے کو
آنکھ دے خبر ساری
کچھ نہیں چھپانے کو
ہے بہت اکیلا پن
عید پر سجانے کو
رات ہے بڑی گہری
ہم ہیں دل جلانے کو