برائے اصلاح و تنقید - یہاں زندگی کا کیا حال ہے

سارہ بشارت گیلانی — اکتوبر 16، 2012 1:24 شام
یہاں زندگی کا کیا حال ہے
ہر آنکھ ہی پر ملال ہے
جسے دیکھیے ہے گهرا ہوا
بچها ظلمتوں کا وہ جال ہے
میرا ہر عمل ہوا بے اثر
تیرے حرف میں وہ کمال ہے
ہمہ وقت سر بہ سجود رہ
دینے والا رب ذوالجلال ہے
محمد بلال اعظم — اکتوبر 16، 2012 1:28 شام
واہ
حسین کاوش ہے۔
سارہ بشارت گیلانی — اکتوبر 16، 2012 6:03 شام
بہت شکریہ! اچها لگتا ہے کمنٹس پڑه کر اپنی شاعری پر. اصلاح ہو جایا کرے تو اور اچها ہو مگر آج کل تو کمنٹس بهی کافی کم ہو گئے ہیں. بہر حال آپ کا بہت شکریہ :)
محمد اظہر نذیر — اکتوبر 16، 2012 6:48 شام
سارہ جی یہ بحر میری سمجھ میں نہیں آ سکی، اس لیے تبصرہ کیا کروں ، مجھے لگتا ہے کہ مصارع مختلف البحر ہیں اُستاد محترم الف عین کا انتظار کر لیجیے
قرۃالعین اعوان — اکتوبر 16، 2012 6:54 شام
واہ!
عسکری — اکتوبر 16، 2012 7:30 شام
یہاں زندگی کا کیا حال ہے
پکتی روزانہ ہمارے یہاں دال ہے
روز کہتے ہین کچھ نیا بنا ہے
یہی ان کے جھوٹ کا کمال ہے
کب تک ایسے ستاؤ کے ہمین پوچھیں تو
کہتے ہی یہی کچھ سرکاری مال ہے
زرداری کے گھر پکیں روز پلاؤ
کیا سارا ملک اس کے باہ کا مال ہے :p
سارہ بشارت گیلانی — اکتوبر 16، 2012 10:28 شام
سارہ جی یہ بحر میری سمجھ میں نہیں آ سکی، اس لیے تبصرہ کیا کروں ، مجھے لگتا ہے کہ مصارع مختلف البحر ہیں اُستاد محترم الف عین کا انتظار کر لیجیے
Thank you for the feedback! Please also read and comment on others that I have shared today
شاہد شاہنواز — اکتوبر 16، 2012 11:21 شام
یہاں زندگی کا کیا حال ہے
ہر آنکھ ہی پر ملال ہے​
جسے دیکھیے ہے گهرا ہوا​
بچها ظلمتوں کا وہ جال ہے​
میرا ہر عمل ہوا بے اثر​
تیرے حرف میں وہ کمال ہے​
ہمہ وقت سر بہ سجود رہ​
دینے والا رب ذوالجلال ہے​
بحر ہے متفاعلن متفاعلن، لیکن یہ ٹھیک طرح سے استعمال نہیں کی گئی۔۔۔پھر متفاعلن دو بار والی بحر ہم نے آج تک نہیں پڑھی۔ تین بار والی پڑھی بھی، لکھی بھی یعنی: یہ جو لطف ہے مرے حال پر، کوئی بات ہے۔۔​
چار بار والی دیکھنی ہو تو اس پر بھی ہم نے لکھا ہے:​
یہ دل شکستہ بتائے کیا، ہوا التفات تو کب ہوا۔۔۔ تری بے رخی میں جو دن کٹے، وہی یادگار گزر گئے۔۔۔​
چلیے کچھ میں کردیتا ہوں آپ کے لیے:​
ہاں زندگی کا کیا حال ہے​
ہر آنکھ ہی پر ملال ہے​
÷÷÷یہاں زندگی کا جو حال ہے، اسے دیکھ کر ہی ملال ہے(ایک مصرع ہوا)​
جسے دیکھیے ہے گهرا ہوا÷÷بچها ظلمتوں کا وہ جال ہے​
÷÷÷یہ دوسرا مصرع سمجھ لیجئے اورٹھیک ہی ہے۔۔۔​
میرا ہر عمل ہوا بے اثر،تیرے حرف میں وہ کمال ہے​
تری زندگی تومثال ہے، مری زندگی پہ زوال ہے (کمزور مصرع جوڑا ہے میں نے)​
۔۔۔دوسرے شعر کا پہلا مصرع ہے جو بالکل درست ہے۔۔​
ہمہ وقت سر بہ سجود رہ، (یہ آدھا مصرع ہوا)​
دینے والا رب ذوالجلال ہے(یہ وہ بات ہے جو شاید آ نہیں سکتی۔ )​
تو آپ کی یہ غزل نامکمل ہوئی۔۔۔ آگے لکھئے تو ہم بھی لکھیں گے۔۔۔​
الف عین — اکتوبر 17، 2012 3:50 صبح
اس کی تو فوری اصلاح کی جا سکتی ہے۔ بحر وہی۔۔ متفاعلن دو بار۔ جو جائز ہے۔ تین رکنی شاذ ہے، دو اور چار رکنی ہی عام ہیں۔ شاہد کی اطلاع کے لئے۔
یہاں زندگی کا کیا حال ہے​
ہر آنکھ ہی پر ملال ہے​
÷÷پر ملال اس بحر میں نہیں آ سکتا۔
یہاں زندگی کا وہ حال ہے​
کہ ہر آنکھ ہی میں ملال ہے​

جسے دیکھیے ہے گهرا ہوا​
بچها ظلمتوں کا وہ جال ہے​
÷÷درست
میرا ہر عمل ہوا بے اثر​
تیرے حرف میں وہ کمال ہے​

مرا ہر عمل ہوا بے اثر​
ترے حرف میں وہ کمال ہے​
مرا اور ترے پر غور کرو۔
ہمہ وقت سر بہ سجود رہ​
دینے والا رب ذوالجلال ہے​
اس کو بدلنے کی ضرورت ہی ہے۔ ذو الجلال یہاں نہین آ سکتا÷​

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%AD%D8%A7%D9%84-%DB%81%DB%92.55439/