برائے اصلاح: وہ جفا پر پھر سے مائل ہو رہا ہے

عاطف ملک — نومبر 6، 2016 10:32 صبح
محترم اساتذہ کرام بالخصوص محترم الف عین اور راحیل فاروق بھائی سے اصلاح کی درخواست کے ساتھ پیشِ نظر ہے....:)
شوق اب وحشت میں داخل ہو رہا ہے
خستگی میں لطف حاصل ہو رہا ہے
مسکرا کر اس نے مجھ سے بات کیا کی
شہر سارا یوں ہی پاگل ہو رہا ہے
اک قیامت ٹوٹنے والی ہے سر پر
وہ جفا پر پھر سے مائل ہو رہا ہے
زخم کھا ئے دل کی طاقت ہی عجب ہے
سینہِ خنجر بھی گھائل ہو رہا ہے
کار دنیا بھی برابر چل رہے ہیں
عشق بھی دیکھو مسلسل ہو رہا ہے
عاطف ملک — نومبر 6، 2016 12:14 شام
محمد ریحان قریشی ..... کچھ ارشاد ہی کیجیے!
محمد ریحان قریشی — نومبر 6، 2016 12:30 شام
اچھی غزل ہے۔
پاگل اور مسلسل حاصل، داخل وغیرہ کے ساتھ قوافی نہیں ہو سکتے کیونکہ ان میں اختلافِ توجیہہ موجود ہے۔
توجیہہ حرفِ روی سے قبل آنے والی حرکت کا نام ہے۔ پاگل اور مسلسل میں توجیہہ زبر ہے اور حاصل ، داخل وغیرہ میں زیر۔
عاطف ملک — نومبر 6، 2016 12:37 شام
پاگل اور مسلسل میں توجیہہ زبر ہے اور حاصل ، داخل وغیرہ میں زیر۔
بہتر جناب!
قوافی کی اس غلطی کا مجھے قطعاً احساس نہ تھا......اب انشا اللہ بہتر کرتا ہوں اس کو....اور آپ کی رائے کیلیے نہایت ممنون ہوں جناب
کاشف اسرار احمد — نومبر 6، 2016 1:42 شام
ایک اور نکتہ........ کہکشاں خوبصورتی, وسعت جیسے معنی میں مستعمل ہے.... ٹوٹنے کے لئے یہاں قیامت کا محل ہے.......
عاطف ملک — نومبر 6، 2016 1:52 شام
ایک اور نکتہ........ کہکشاں خوبصورتی, وسعت جیسے معنی میں مستعمل ہے.... ٹوٹنے کے لئے یہاں قیامت کا محل ہے.......
ستارے ٹوٹ کر گر نا بھی تو مصیبت ہی ہوتی ہے؟؟
میں کچھ ایسا بیان کرنا چاہ رہا تھا
La Alma — نومبر 6، 2016 2:06 شام
ستارے ٹوٹ کر گر نا بھی تو مصیبت ہی ہوتی ہے؟؟
میں کچھ ایسا بیان کرنا چاہ رہا تھا
کچھ گرانا ہی ہے تو آسمان گرا لیں .
آسماں اب ٹوٹنے والا ہے سر پر
وہ جفا پر پھر سے مائل ہو رہا ہے
عاطف ملک — نومبر 6، 2016 2:10 شام
کچھ گرانا ہی ہے تو آسمان گرا لیں .
آسماں اب ٹوٹنے والا ہے سر پر
وہ جفا پر پھر سے مائل ہو رہا ہے
بہت بہتر!
عاطف ملک — مارچ 7، 2017 7:34 صبح
استادِ محترم الف عین!
سر،
یہ غزل آپ کی اصلاح چاہتی ہے.
شوق اب وحشت میں داخل ہو رہا ہے
خستگی میں لطف حاصل ہو رہا ہے
زخم کھائے دل کی طاقت ہی عجب ہے
سینہِ خنجر بھی گھائل ہو رہا ہے
جس کی غم خواری متاعِ جاں تھی میری
وہ ستم کاروں میں شامل ہو رہا ہے
اک قیامت ٹوٹنے والی ہے سر پر
وہ جفا پر پھر سے مائل ہو رہا ہے
جلوہ فرما وہ ہیں تو یہ سوختہ دل
شعلہ بن بن شمعِ محفل ہو رہا ہے
تیرے نقشِ پا کی ہے سب مہربانی
راستہ رشکِ منازل ہو رہا ہے
عشق ہے یا کوئی الہامی صحیفہ
سینہِ عاطف پہ نازل ہو رہا ہے
الف عین — مارچ 7، 2017 3:42 شام
بہت خوب۔ بس روانی کی بہتری کے لیے اسے دیکھو
جلوہ فرما وہ ہیں تو یہ سوختہ دل
شعلہ بن بن شمعِ محفل ہو رہا ہے
تو کا طویل کھنچنا
اور ’بن بن‘ اچھا نہیں لگ رہا ہے کم از کم مجھے۔
عاطف ملک — مارچ 7، 2017 6:23 شام
زہے نصیب۔۔۔۔۔یہ میرا پہلا "بہت خوب" ہے :in-love:
بہت شکریہ استاد محترم!
بس روانی کی بہتری کے لیے اسے دیکھو
جلوہ فرما وہ ہیں تو یہ سوختہ دل
شعلہ بن بن شمعِ محفل ہو رہا ہے
تو کا طویل کھنچنا
اور ’بن بن‘ اچھا نہیں لگ رہا ہے کم از کم مجھے۔
"بن بن" سے مراد یہ لے رہا ہوں کہ کبھی ادھر کو لپکتا ہے،کبھی ادھر کو۔۔۔۔۔۔اگر یہ درست ہے تو-
"تو" کی طوالت کے لیے بھی کچھ سوچتا ہوں۔
بہتری کیلیے کوشش کرتا ہوں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88%DB%81-%D8%AC%D9%81%D8%A7-%D9%BE%D8%B1-%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D8%A7%D8%A6%D9%84-%DB%81%D9%88-%D8%B1%DB%81%D8%A7-%DB%81%DB%92.92888/