برائے اصلاح کچھ لائینیں

عائد — اگست 27، 2016 12:38 صبح
السلام علیکم
برائے اصلاح کچھ لائینیں اس خوش فہمی کے ساتھ شاید انہیں غزل کہا جا سکے
ہے اگر یہ تری خوشی تو کیا
میں نہیں تیری زندگی تو کیا
تیرے رسوا کو زندگی سے اب
کوئی شکوہ اگر ہو بھی تو کیا
میرا اتنا سوال ہے تم سے
جو ملو تم کبھی کبھی تو کیا
میری وحشت نے بھیس بدلا ہے
لگے تجھ کو یہ شاعری تو کیا
خوشی ہے تو برا نہیں عائد
تیری قسمت میں ہے کمی تو کیا
arifkarim — اگست 27، 2016 1:00 صبح
محفل پر خوش آمدید عائد تعارف سیکشن میں اپنا تعارف بھی کروا دیں۔
عائد — اگست 27، 2016 1:02 صبح
جی سر معذرت کے ساتھ ابھی کروا دیتا ہوں
الف عین — اگست 27، 2016 6:04 صبح
خوش آمدید۔
خوش فہمی حقیقت ہے۔ یہ مکمل غزل ہے۔ بس کچھ معمولی سے اسقام ہیں۔
تیرے رسوا کو زندگی سے اب​
کوئی شکوہ اگر ہو بھی تو کیا​
دوسرا مصرع۔ ’ہو بھی‘ محض ’ہُبی‘ تقطیع ہوتا ہے۔ یہ غلط ہے
اور
خوشی ہے تو برا نہیں عائد​
تیری قسمت میں ہے کمی تو کی​
سمجھ میں نہیں آ سکا۔ ’خُشی‘ کی ’ی‘ کا اسقاط بھی اچھا نہیں لگتا، یعنی محض ’خُشَ‘ وزن میں آتا ہے
محمد وارث — اگست 27، 2016 6:26 صبح
خوب غزل ہے زاہد صاحب۔
عائد — اگست 27، 2016 7:18 صبح
خوش آمدید۔
خوش فہمی حقیقت ہے۔ یہ مکمل غزل ہے۔ بس کچھ معمولی سے اسقام ہیں۔
تیرے رسوا کو زندگی سے اب
کوئی شکوہ اگر ہو بھی تو کیا
دوسرا مصرع۔ ’ہو بھی‘ محض ’ہُبی‘ تقطیع ہوتا ہے۔ یہ غلط ہے
اور
خوشی ہے تو برا نہیں عائد
تیری قسمت میں ہے کمی تو کی​
سمجھ میں نہیں آ سکا۔ ’خُشی‘ کی ’ی‘ کا اسقاط بھی اچھا نہیں لگتا، یعنی محض ’خُشَ‘ وزن میں آتا ہے
تہہ دل سے شکر گزار ہوں آپکا
سر میں نے کچھ ایسے کوشش کی تھی
فاعلاتن مفاعلن فَعۡلن
تیرے رسوا ک زندگی سے اب
کوئی شکوہ اگر ہُ بی تو کیا
اگر یہ عیب ہے تو یوں کر لوں؟
شکوہ ہو بھی اگر کوئی تو کیا
یا پھر یوں
ہو بھی شکوہ اگر کوئی تو کیا
باقی آپ بہتر رہنمائی فرمائیں گے
فَعِلاتن مفاعلن فَعۡلن
خُ شِ ہے تو برا نہیں عائد
تری قسمت میں ہے کمی تو کیا
اگر ایسے کر لیا جائے
فاعلاتن مفاعلن فَعۡلن
خُش ہوں میں تو برا نہیں عائد
اپنے آپ کو تسلی دینے کی کوشش کی ہے کہ میں برا نہیں اسی میں خوش ہوں اور اگر قسمت خراب ہو تو اچھے اچھے خراب ہو جاتے ہیں قسمت میں کمی ہے اسکا مجھ پہ کچھ فرق نہیں پڑا
عائد — اگست 27، 2016 7:18 صبح
خوب غزل ہے زاہد صاحب۔
بہت شکریہ سر ⚘
الف عین — اگست 27، 2016 7:25 شام
ہو بھی شکوہ اگر کوئی تو کیا​
بہتر اور درست مصرع ہے۔
لیکن خوش ہوں والا شعر اب بھی پسند نہیں آیا۔ ہلی بات تو یہ کہ شاعر کو ہر جگہ اپنا مفہوم واضح کرنے کی کیا ضرورت۔ اور اگر معنی وہ ہوں بھی جو بتائے گئے ہیں، تب بھی
تیری قسمت میں ہے کمی تو کیا
کی بجائے
اپنی قسمت میں ہے کمی تو کیا
ہونا چاہئے​
عائد — اگست 27، 2016 8:18 شام
ہو بھی شکوہ اگر کوئی تو کیا​
بہتر اور درست مصرع ہے۔
لیکن خوش ہوں والا شعر اب بھی پسند نہیں آیا۔ ہلی بات تو یہ کہ شاعر کو ہر جگہ اپنا مفہوم واضح کرنے کی کیا ضرورت۔ اور اگر معنی وہ ہوں بھی جو بتائے گئے ہیں، تب بھی
تیری قسمت میں ہے کمی تو کیا
کی بجائے
اپنی قسمت میں ہے کمی تو کیا
ہونا چاہئے​
بہت شکر گزار ہوں انشاءاللہ اسے بہتر کرنے کی کوشش کرونگا ⚘
عائد — اگست 28، 2016 9:52 صبح
ہو بھی شکوہ اگر کوئی تو کیا​
بہتر اور درست مصرع ہے۔
لیکن خوش ہوں والا شعر اب بھی پسند نہیں آیا۔ ہلی بات تو یہ کہ شاعر کو ہر جگہ اپنا مفہوم واضح کرنے کی کیا ضرورت۔ اور اگر معنی وہ ہوں بھی جو بتائے گئے ہیں، تب بھی
تیری قسمت میں ہے کمی تو کیا
کی بجائے
اپنی قسمت میں ہے کمی تو کیا
ہونا چاہئے​
سر یہ ایک چھوٹی سی کوشش کی ہے بہتر کہنے کی
تجھے چاہوں گا میں، اگر تجھ میں
ہے وفاؤں کی کچھ کمی تو کیا
دید کا سکہ بھیک میں دے کر
تو مٹا دے یہ تشنگی تو کیا
یہ خوشی ہے برا نہیں ہوں میں
میری قسمت میں ہے کمی تو کیا
الف عین — اگست 28، 2016 7:19 شام
آخری شعر تو وہی ہے جس کا کہہ چکا ہوں کہ وضاحت تم کو خود کرنی پڑے گی۔ دوسرے اشعار درست تو لگتے ہیں، لیکن ردیف کے حساب سے سوال بھی کھڑے کرتے ہیں۔ بطور خاص جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔
تجھے چاہوں گا میں، اگر تجھ میں​
ہے وفاؤں کی کچھ کمی تو کیا​
اگر تجھ میں۔۔ یعنی کہنا یہ ہونا چاہیے کہ اگر تجھ میں یہ خوبی ہوگی تو میں تجھے چاہوں گا۔ لیکن یہاں دوسرے مصرع میں یہ کہا گیا ہے کہ تجھ میں وفا نہ ہونے کے باوجود چاہوں گا۔ ’ہو‘ وفاؤں میں کمی تو بہتر ہو سکتا ہے۔ اس لئے پہلا مصرع یوں ہوتا تو بہتر تھا کہ تجھ کو میں ہر حال میں چاہوں گا، تجھ میں وفاؤں کی کمی کے باوجود۔
دوسرے شعر میں بھی
دید کا سکہ بھیک میں دے کر​
تو مٹا دے یہ تشنگی تو کیا
اس کے بعد کیا؟ یہ واضح نہیں۔​
عائد — اگست 28، 2016 9:17 شام
آخری شعر تو وہی ہے جس کا کہہ چکا ہوں کہ وضاحت تم کو خود کرنی پڑے گی۔ دوسرے اشعار درست تو لگتے ہیں، لیکن ردیف کے حساب سے سوال بھی کھڑے کرتے ہیں۔ بطور خاص جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔
تجھے چاہوں گا میں، اگر تجھ میں
ہے وفاؤں کی کچھ کمی تو کیا
اگر تجھ میں۔۔ یعنی کہنا یہ ہونا چاہیے کہ اگر تجھ میں یہ خوبی ہوگی تو میں تجھے چاہوں گا۔ لیکن یہاں دوسرے مصرع میں یہ کہا گیا ہے کہ تجھ میں وفا نہ ہونے کے باوجود چاہوں گا۔ ’ہو‘ وفاؤں میں کمی تو بہتر ہو سکتا ہے۔ اس لئے پہلا مصرع یوں ہوتا تو بہتر تھا کہ تجھ کو میں ہر حال میں چاہوں گا، تجھ میں وفاؤں کی کمی کے باوجود۔
دوسرے شعر میں بھی
دید کا سکہ بھیک میں دے کر
تو مٹا دے یہ تشنگی تو کیا
اس کے بعد کیا؟ یہ واضح نہیں۔​
جی محترم 100% درست فرمایا آپ نے انشاءاللہ وقت اور محنت بہتری لائیں گے
سلامت رہیں
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 1، 2016 4:41 صبح
بہت خوب عائد صاحب!! محفل میں خوش آمدید!!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%8C%DA%BA.91629/