برائے اصلاح : کیوں لڑنے سے پہلے خفا ہو گیا ہے

انس معین — اگست 28، 2019 7:27 شام
سر الف عین عظیم اور دیگر احباب سے اصلاح کی گزارش
تجھے یہ اچانک سے کیا ہو گیا ہے
کیوں لڑنے سے پہلے خفا ہو گیا ہے
سزا لگ رہا ہے جو اک پل بھی جینا
کوئی ہم سے شاید جدا ہو گیا ہے
ہماری پیشانی پے بل تک نہ آیا
ویسے تو وہ بے وفا ہو گیا ہے
یہ رب شناسی کا عالم خدایا
جسے دیکھتا ہوں خدا ہو گیا ہے
گیا کچھ نہیں ہے ترا مسکرا کر
غریبوں کا اس سے بھلا ہو گیا ہے
مریض محبت بھی بچ جائے شاید
تجھے دیکھنا جب دوا ہو گیا ہے
قیامت کا تم کو یقیں کیوں نہ آیا
محبت میں احمد فنا ہو گیا ہے
ارشد چوہدری — اگست 29، 2019 2:23 صبح
مندرجہ ذیل مصرعے وزن میں نہیں ہیں
2-5-6-7-11
عظیم — اگست 29، 2019 7:35 صبح
تجھے یہ اچانک سے کیا ہو گیا ہے
کیوں لڑنے سے پہلے خفا ہو گیا ہے
۔۔۔اچانک سے اچھا نہیں لگ رہا، دوسرا مصرع میں 'کیوں' کا صرف کُ تقطیع ہونا میرے خیال میں درست تو مانا جاتا ہے لیکن بہتر نہیں رہے گا
جو لڑنے سے پہلے خفا... کیا جا سکتا ہے
سزا لگ رہا ہے جو اک پل بھی جینا
کوئی ہم سے شاید جدا ہو گیا ہے
۔۔۔درست اور اچھا ہے
ہماری پیشانی پے بل تک نہ آیا
ویسے تو وہ بے وفا ہو گیا ہے
۔۔۔'پیشانی' کو صرف 'پشانی' تقطیع نہیں کر سکتے، اور دوسرا مصرع بحر سے خارج ہے
یہ رب شناسی کا عالم خدایا
جسے دیکھتا ہوں خدا ہو گیا ہے
۔۔۔پہلے میں شاید کچھ ٹائپ ہونے سے رہ گیا ہے، شاید 'ہے'
گیا کچھ نہیں ہے ترا مسکرا کر
غریبوں کا اس سے بھلا ہو گیا ہے
۔۔۔۔دوسرے مصرع میں 'اس سے' کو ہٹا کر 'لیکن' لے آئیں کہ تنافر بھی دور ہو جائے گا اور شعر بھی اچھا بن جائے گا
مریض محبت بھی بچ جائے شاید
تجھے دیکھنا جب دوا ہو گیا ہے
۔۔۔۔۔یہ شعر بھی درست معلوم ہو رہا ہے، ارشد چوہدری بھائی کو نہ جانے کیوں پہلا مصرع بے معنی لگا
قیامت کا تم کو یقیں کیوں نہ آیا
محبت میں احمد فنا ہو گیا ہے
۔۔۔۔۔احمد کیا آپ کا تخلص ہے؟ شعر دو لخت ہے، دوسرے مصرع میں 'جب' وغیرہ کی کمی ہے
ارشد چوہدری — اگست 29، 2019 11:22 صبح
مریضِ محبّت بھی بچ جائے شائد
تجھے دیکھنا جب دوا ہو گیا
(یہ شعر بے معنی نہیں۔ صرف وزن کا فرق تھا۔ مریض --لفظ فعولن کے وزن پر نہیں اگر (ض) کے نیچے زیر لگا کر (مریضِ محبّت) کر دیا جائے تو فعولن ہو جائے گا۔ صرف یہ فرق ہے
محمد ریحان قریشی — اگست 29، 2019 11:27 صبح
کیوں' کا صرف کُ تقطیع ہونا میرے خیال میں درست تو مانا جاتا ہے
میرے نزدیک تو نادرست ہے۔
محمد ریحان قریشی — اگست 29، 2019 11:36 صبح
مندرجہ ذیل مصرعے وزن میں نہیں ہیں
2-5-6-7-11
گیارہواں درست ہے۔ 'مریضِ محبت' کر کے دیکھیے۔
ارشد چوہدری — اگست 29، 2019 3:55 شام
گیارہواں درست ہے۔ 'مریضِ محبت' کر کے دیکھیے۔
ہاں ریحان بھائی یہی میں نے عرض کیا تھا مریض فعولن کے وزن پر نہیں ۔ اگر مریض کے نیچے زیر لگا دی جائے تو فعولن ہو جائے گا
عظیم — اگست 30، 2019 6:49 صبح
مریضِ محبّت بھی بچ جائے شائد
تجھے دیکھنا جب دوا ہو گیا
(یہ شعر بے معنی نہیں۔ صرف وزن کا فرق تھا۔ مریض --لفظ فعولن کے وزن پر نہیں اگر (ض) کے نیچے زیر لگا کر (مریضِ محبّت) کر دیا جائے تو فعولن ہو جائے گا۔ صرف یہ فرق ہے
جی ہاں، یہ میں بحر سے خارج لکھنے کی بجائے پتا نہیں کیوں بے معنی لکھ گیا تھا
الف عین — اگست 30، 2019 12:35 شام
مطلع یوں بہتر ہے
تجھے یوں اچانک یہ کیا ہو گیا ہے
کہ لڑنے.. الخ
انس معین — اگست 31، 2019 6:21 شام
بہت شکریہ عظیم بھائی .. استاد محترم الف عین صاحب بہتر کرتا ہوں
انس معین — اگست 31، 2019 6:22 شام
احمد کیا آپ کا تخلص ہے؟
جی عظیم بھائی احمد تخلص کرتا ہوں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D9%84%DA%91%D9%86%DB%92-%D8%B3%DB%92-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92-%D8%AE%D9%81%D8%A7-%DB%81%D9%88-%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%92.108230/