برائے اصلاح: ہرچند بہت غم ہیں مگر غم تو نہیں ہے

عاطف ملک — جولائی 5، 2017 4:46 شام
مزید تک بندیاں اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں تنقیدی و اصلاحی آراء کی امید کے ساتھ پیش کر رہا ہوں۔

ہرچند بہت غم ہیں مگر غم تو نہیں ہے
ہوں ہوش میں۔۔۔۔۔ یہ ہوش کا عالم تو نہیں ہے
پیتا ہوں غمِ ہجر بھلانے کو، مگر کیوں؟
مے نوشی غمِ ہجر کا مرہم تو نہیں ہے
گر اشکِ لہو دل پہ گرے ہیں تو گرے جائیں
رویا تو نہیں، آنکھ مری نم تو نہیں ہے
سیلاب کی موجوں میں یہ دل ڈوب رہا ہے
پر کیسے؟ یہ برسات کا موسم تو نہیں ہے!
کیوں جب بھی ملا مجھ کو فقط درد ملا ہے
دکھ درد کی رُت ابدی و پیہم تو نہیں ہے
اک لمحے کے دیدار پہ ہو صبر تو کیونکر
وہ ایک تجلی بھی مگر کم تو نہیں ہے
عاطف تو نہ مل پائے گا پھر بھی کوئی ڈھونڈو
جسم ایسا کہیں خاک میں مدغم تو نہیں ہے
ٹیگ نامہ:
الف عین
محمد وارث
محمد ریحان قریشی
محمدابوعبداللہ — جولائی 5، 2017 4:58 شام
بہت خوب
محمد تابش صدیقی — جولائی 5، 2017 5:12 شام
اعلیٰ جناب۔ لاجواب۔
مے نوشی غمِ ہجر کا مرہم تو نہیں ہے
اساتذہ سے استفسار ہے کہ کیا مے نوشی کی ی گرائی جا سکتی ہے؟
عباد اللہ — جولائی 5، 2017 5:18 شام
واہ واہ بہت عمدہ
دکھ درد کی رُت ابدی و پیہم تو نہیں ہے
ابدی کا تلفظ محلِ نظر ہے !
محمد ریحان قریشی — جولائی 5، 2017 7:08 شام
اعلیٰ جناب۔ لاجواب۔
اساتذہ سے استفسار ہے کہ کیا مے نوشی کی ی گرائی جا سکتی ہے؟
جدید شعرا تو کسی بھی 'ی' کو گرانے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتے مگر تکنیکی طور پر عربی و فارسی الاصل الفاظ کی 'ی' گرائی نہیں جا سکتی.
محمد عدنان اکبری نقیبی — جولائی 6، 2017 6:37 صبح
اک لمحے کے دیدار پہ ہو صبر تو کیونکر
وہ ایک تجلی بھی مگر کم تو نہیں ہے
ماشاءاللہ بھائی ۔اللہ کریم سلامت رکھیں۔
محمد وارث — جولائی 6، 2017 8:39 صبح
لاجواب غزل ڈاکٹر صاحب!
عاطف ملک — جولائی 6، 2017 11:12 صبح
اعلیٰ جناب۔ لاجواب۔
شکریہ تابش بھائی :)
اساتذہ سے استفسار ہے کہ کیا مے نوشی کی ی گرائی جا سکتی ہے؟
آہِ سرد!!!!!!!
واہ واہ بہت عمدہ
ابدی کا تلفظ محلِ نظر ہے !
نوازش عباداللہ بھائی :)
متبادل سوچتا ہوں!
جدید شعرا تو کسی بھی 'ی' کو گرانے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتے مگر تکنیکی طور پر عربی و فارسی الاصل الفاظ کی 'ی' گرائی نہیں جا سکتی.
بہت بہتر ریحان بھائی!
ماشاءاللہ بھائی ۔اللہ کریم سلامت رکھیں۔
بہت شکریہ عدنان بھیا :)
لاجواب غزل ڈاکٹر صاحب!
متشکرم!
اگر ہو سکے تو ان اشعار کے متبادل مصرعوں کے حوالے سے رہنمائی فرما دیجیے :)
پیتا ہوں غمِ ہجر بھلانے کو، مگر کیوں؟
مے نوشی غمِ ہجر کا مرہم تو نہیں
پیتے ہیں غمِ ہجر مٹانے کو، مگر کیوں؟
یہ مے ہے، غمِ ہجر کا مرہم تو نہیں ہے
کیوں جب بھی ملا مجھ کو فقط درد ملا ہے
دکھ درد کی رُت ابدی و پیہم تو نہیں ہے
مصرعِ ثانی
دکھ درد کا یہ دور بھی پیہم تو نہیں ہے
یا
یہ دورِ بلیّات بھی پیہم تو نہیں ہے
محمد ریحان قریشی
عباد اللہ بھائی
محمد ریحان قریشی — جولائی 6، 2017 11:45 صبح
دکھ درد کا یہ دور بھی پیہم تو نہیں ہے
یہ بہت اچھا ہے.
الف عین — جولائی 6، 2017 4:49 شام
اب تک اغلاط سدھاری جا چکیں، اس لیے میرے کہنے کو بچا ہی نہیں۔ صرف واہ واہ کر سکتا ہوں!!
اپنا ہی ایک مصرع یاد آ گیا
کچھ کہنے کو بچا نہیں، پھر بھی کچھ تو ہے۔۔۔۔
وہ یہ کہ ’پیہم‘ کا لفظ مجھے کچھ غلط لگ رہا ہے۔ تسلسل کی حد تک تو درست ہے۔ لیکن دائمی کے معنوں میں مجے شک ہے۔ بھلے ہی لغت میں یہ معنی بھی دئے ہوں، لیکن استعمال میں تو محض مسلسل کے معنوں میں آتا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DB%81%D8%B1%DA%86%D9%86%D8%AF-%D8%A8%DB%81%D8%AA-%D8%BA%D9%85-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%85%DA%AF%D8%B1-%D8%BA%D9%85-%D8%AA%D9%88-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%92.97457/