برائے اصلاح : یوم آزادی کے موقع پر ایک نظم : از: محمد ذیشان نصر ؔ

متلاشی — اگست 14، 2011 4:18 شام
السلام علیکم !
14اگست کے سلسلہ میں میں نے آج ہی ایک نظم لکھی ہے۔ جو آپ کی خدمت بصد احترام بہ نیت اصلاح پیش ہے۔ امید ہے آپ مجھے مایوس نہ کریں گے۔۔۔۔ شکریہ۔
تم ہی کھولو ذرا لب، آزادی ہے کہاں اب؟
تم کو کیسے کہوںپھر؟ میں آزادی مبارک!​

یہ تہذیب وثقافت، کس کی ہے یہ عنایت
چاہے فکر و عمل ہو، یاکہ رسم و روایت
یہ غیروں کی غلامی ، یہ اپنوں سے بغاوت
تو نے سوچا کبھی تو، کیسی ہے یہ محبت
تم ہی کھولو ذرا لب، آزادی ہے کہاں اب؟
تم کو کیسے کہوںپھر؟ میں آزادی مبارک!​
اُلفت ہے نہ امانت، چاہت ہے نہ صداقت
غیرت ہے نہ شرافت، عزت ہے نہ دیانت
شدت ہے یا شرارت، دھوکہ ہے یا عداوت
بربادی کا سماں وہ، ہو جیسے کہ قیامت
تم ہی کھولو ذرا لب، آزادی ہے کہاں اب؟
تم کو کیسے کہوںپھر؟ میں آزادی مبارک!​
یاں کھویا ہے سبھی کچھ، پایا کچھ بھی نہیں تب
تاریکی ہے کیوں اب؟ روشن جو ہے دیا جب
پھر ہو گا یہ ختم کب ؟ آزادی کا سفر اب
یاں کب ہو گا اُجالا؟ ذیشاں ہو گی سحر کب؟
تم ہی کھولو ذرا لب، آزادی ہے کہاں اب؟
تم کو کیسے کہوںپھر؟ میں آزادی مبارک!​

محمد ذیشان نصر
متلاشی
متلاشی — اپریل 5، 2012 11:35 صبح
محترمی جناب محمد وارث صاحب کیا میری مندرجہ بالا نظم بحر میں ہے یا نہیں ؟ از راہ کرم جواب مرحمت فرمائیں۔۔ نوازش ہوگی ۔۔۔
مغزل — اپریل 5، 2012 11:44 صبح
پیارے محمد ذیشان نصر ؔ !
مجھ فاتر العقل کی ناقص رائے کے مطابق تو مندرجہ بالا کلام بحر میں نہیں، بلکہ بحروں میں ہے ۔۔۔
باقی اساتذہ کرام کی رائے ہی صائب ہے ۔۔۔ سو منتظرم
متلاشی — اپریل 5، 2012 11:47 صبح
پیارے محمد ذیشان نصر ؔ مجھ فاتر العقل کی ناقص رائے کے مطابق تو بحر میں نہیں ہے بلکہ بحروں میں ہے ۔۔۔ باقی اساتذہ کرام کی رائے ہی صائب ہے ۔۔۔ سو منتظرم
شکریہ محمود بھائی ۔۔۔ اصل میں وارث صاحب کا کہنا ہے کہ فعلن کی بحر میں کسی بھی فعلن کو فَعِلن یا فع فَ عِ میں توڑا جا سکتا ہے ۔۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ فعلن کی چھ رکنی بحر ہے اور اس میں ہر مصرع میں دو فعلن کو فع فَ عِ میں توڑا گیا ہے ۔۔۔ اس لئے میں پوچھ رہا تھا ۔۔۔ !
مغزل — اپریل 5، 2012 11:49 صبح
شکریہ محمود بھائی ۔۔۔ اصل میں وارث صاحب کا کہنا ہے کہ فعلن کی بحر میں کسی بھی فعلن کو فَعِلن یا فع فَ عِ میں توڑا جا سکتا ہے ۔۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ فعلن کی چھ رکنی بحر ہے اور اس میں ہر مصرع میں دو فعلن کو فع فَ عِ میں توڑا گیا ہے ۔۔۔ اس لئے میں پوچھ رہا تھا ۔۔۔ !
سلامت باشید پیارے ،
عروض کی تو میں ابجد سے بھی نہیں واقف ، محمد وارث ؔ صاحب اور فاتح الدین بشیر محمودؔ بھیا ہی اس بابت درست رہنمائی کرسکیں گے ۔۔۔
متلاشی — اپریل 5، 2012 12:37 شام
جی استاذ محترم جناب محمد وارث صاحب ۔۔۔ ! کیا یہ نظم بحر میں ہے یا نہیں ۔۔۔۔؟
محمد وارث — اپریل 5، 2012 12:59 شام
شکریہ ذیشان صاحب، آپ نے درست سمت اشارہ کیا ہے، اس لحاظ سے یہ نظم وزن میں ہے۔ کہیں کہیں غلط تلفظ بندھا ہے جیسے ختم، اس کو آپ نے تا کی حرکت سے باندھا ہے جب کہ یہ ساکن ہے۔
محمد وارث — اپریل 5، 2012 1:02 شام
چاہے فکر و عمل ہو، یا کہ رسم و روایت
اس مصرعے میں کہ دوحرفی بندھا ہے، اساتذہ کے نزدیک جائز نہیں۔
متلاشی — اپریل 5، 2012 1:03 شام
شکریہ ذیشان صاحب، آپ نے درست سمت اشارہ کیا ہے، اس لحاظ سے یہ نظم وزن میں ہے۔ کہیں کہیں غلط تلفظ بندھا ہے جیسے ختم، اس کو آپ نے تا کی حرکت سے باندھا ہے جب کہ یہ ساکن ہے۔
شکریہ استاذ گرامی ۔۔۔!
متلاشی — اپریل 5، 2012 1:03 شام
چاہے فکر و عمل ہو، یا کہ رسم و روایت
اس مصرعے میں کہ دوحرفی بندھا ہے، اساتذہ کے نزدیک جائز نہیں۔
دوحرفی بندھا سے کیا مراد ہے ؟ برائے مہربانی وضاحت کیجئے ۔۔۔؟
مغزل — اپریل 5، 2012 1:03 شام
شکریہ ذیشان صاحب، آپ نے درست سمت اشارہ کیا ہے، اس لحاظ سے یہ نظم وزن میں ہے۔ کہیں کہیں غلط تلفظ بندھا ہے جیسے ختم، اس کو آپ نے تا کی حرکت سے باندھا ہے جب کہ یہ ساکن ہے۔
چاہے فکر و عمل ہو، یا کہ رسم و روایت
اس مصرعے میں کہ دوحرفی بندھا ہے، اساتذہ کے نزدیک جائز نہیں۔
وارث صاحب غلط تلفظ باندھنے کی وجہ سے بحر پر فرق نہیں پڑتا ؟ یا میں سمجھ نہیں پایا آپ کی بات ۔۔۔
محمد وارث — اپریل 5، 2012 1:05 شام
فرق تو پڑتا ہے محمود صاحب، غلط تلفظ سے یقیناً مصرع یا شعر بے وزن ہو جاتا ہے۔
متلاشی — اپریل 5، 2012 1:07 شام
چاہے فکر و عمل ہو، یا کہ رسم و روایت
اس مصرعے میں کہ دوحرفی بندھا ہے، اساتذہ کے نزدیک جائز نہیں۔
سمجھ گیا استاذ گرامی ۔۔۔ میں ان اغلاط کو درست کرتا ہوں ابھی ۔۔۔! مزید کوئی غلطی ہے تو وہ بھی بتا دیجئے ۔۔۔ شکریہ۔۔۔!
محمد وارث — اپریل 5، 2012 1:07 شام
دوحرفی بندھا سے کیا مراد ہے ؟ برائے مہربانی وضاحت کیجئے ۔۔۔ ؟

دو حرفی مطلب فع یا سبب خفیف یا 2 جب کہ اس کا اصل اور صحیح وزن سبب ثقیل کا ایک ٹکڑا یعنی فَ یا 1 ہے۔
مغزل — اپریل 5، 2012 1:07 شام
فرق تو پڑھتا ہے محمود صاحب، غلط تلفظ سے یقیناً مصرع یا شعر بے وزن ہو جاتا ہے۔
شکریہ وارث صاحب ، یہی جاننا مقصود تھا، وگرنہ مجھے اپنی بات سے رجوع کرنے میں تامل نہ تھا ۔۔۔ جزاک اللہ
متلاشی — اپریل 5، 2012 1:14 شام
اب دیکھیں محترمی استاذ گرامی جناب محمد وارث صاحب!​
تم ہی کھولو ذرا لب، آزادی ہے کہاں اب؟
تم کو کیسے کہوں پھر؟ میں آزادی مبارک!​

یہ تہذیب وثقافت، کس کی ہے یہ عنایت
چاہے فکر و عمل ہو، یا پھر رسم و روایت
یہ غیروں کی غلامی ، یہ اپنوں سے بغاوت
تو نے سوچا کبھی تو، کیسی ہے یہ محبت
تم ہی کھولو ذرا لب، آزادی ہے کہاں اب؟
تم کو کیسے کہوں پھر؟ میں آزادی مبارک!​
اُلفت ہے نہ امانت، چاہت ہے نہ صداقت
غیرت ہے نہ شرافت، عزت ہے نہ دیانت
شدت ہے یا شرارت، دھوکہ ہے یا عداوت
بربادی کا سماں وہ، ہو جیسے کہ قیامت
تم ہی کھولو ذرا لب، آزادی ہے کہاں اب؟
تم کو کیسے کہوں پھر؟ میں آزادی مبارک!​
یاں کھویا ہے سبھی کچھ، پایا کچھ بھی نہیں تب
تاریکی ہے کیوں اب؟ روشن جو ہے دیا جب
پھر ختم یہ ہو گا کب ؟ آزادی کا سفر اب
یاں کب ہو گا اُجالا؟ ذیشاں ہو گی سحر کب؟
تم ہی کھولو ذرا لب، آزادی ہے کہاں اب؟
تم کو کیسے کہوں پھر؟ میں آزادی مبارک!​

محمد ذیشان نصر
الف عین — اپریل 5، 2012 4:49 شام
وارث کی جگہ میں ہی جواب دے دوں۔ وزن میں تو آ گئے ہیں مصرعے، لیکن ’پھر رسم‘ میں ’ر‘ کا دہرایا جانا کانوں کو بھلا نہیں لگتا۔
یا ہو رسم و روایت
کر دو
متلاشی — اپریل 5، 2012 4:50 شام
وارث کی جگہ میں ہی جواب دے دوں۔ وزن میں تو آ گئے ہیں مصرعے، لیکن ’پھر رسم‘ میں ’ر‘ کا دہرایا جانا کانوں کو بھلا نہیں لگتا۔
یا ہو رسم و روایت
کر دو
شکریہ استاذ گرامی بہت بہت !
متلاشی — اپریل 5، 2012 4:51 شام
تم ہی کھولو ذرا لب، آزادی ہے کہاں اب؟
تم کو کیسے کہوں پھر؟ میں آزادی مبارک!​

یہ تہذیب وثقافت، کس کی ہے یہ عنایت
چاہے فکر و عمل ہو، یا ہو رسم و روایت
یہ غیروں کی غلامی ، یہ اپنوں سے بغاوت
تو نے سوچا کبھی تو، کیسی ہے یہ محبت
تم ہی کھولو ذرا لب، آزادی ہے کہاں اب؟
تم کو کیسے کہوں پھر؟ میں آزادی مبارک!​
اُلفت ہے نہ امانت، چاہت ہے نہ صداقت
غیرت ہے نہ شرافت، عزت ہے نہ دیانت
شدت ہے یا شرارت، دھوکہ ہے یا عداوت
بربادی کا سماں وہ، ہو جیسے کہ قیامت
تم ہی کھولو ذرا لب، آزادی ہے کہاں اب؟
تم کو کیسے کہوں پھر؟ میں آزادی مبارک!​
یاں کھویا ہے سبھی کچھ، پایا کچھ بھی نہیں تب
تاریکی ہے کیوں اب؟ روشن جو ہے دیا جب
پھر ختم یہ ہو گا کب ؟ آزادی کا سفر اب
یاں کب ہو گا اُجالا؟ ذیشاں ہو گی سحر کب؟
تم ہی کھولو ذرا لب، آزادی ہے کہاں اب؟
تم کو کیسے کہوں پھر؟ میں آزادی مبارک!​

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DB%8C%D9%88%D9%85-%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D9%88%D9%82%D8%B9-%D9%BE%D8%B1-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%86%D8%B8%D9%85-%D8%A7%D8%B2-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%B0%DB%8C%D8%B4%D8%A7%D9%86-%D9%86%D8%B5%D8%B1-%D8%94.34436/