یہاں اکثر ملا صاحب
بشر ہم کو خدا صاحب
جدا ہم اہل حاجت سے
ہمارا اک خدا صاحب
ہماری مفلسی ایماں
ہمارا اک خدا صاحب
فقیروں کا یہی نعرہ
برے کا بھی بھلا صاحب
مجھے سونے نہیں دیتی
خموشی کی صدا صاحب
خموشی بے خطائوں کی
رہی ان کی خطا صاحب
فقیروں کی یہ محفل ہے
یہاں سب کا بھلا صاحب
زماں ظاہر کا دیوانہ
زماں سے ہم جدا صاحب
یہی کل درس ِ درویشی
عدو کو بھی دعا صاحب
حسد کا ہی نتیجہ ہے
سدا حاسد جلا صاحب
کریں سجدہ بھلا کس کو
یہاں ہر اک خدا صاحب
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بنا انساں
مسلماں کب ہوا صاحب
طالب دعا
س ن مخمور
امر تنہائی