برائے اصلاح۔ شکوہ ہے مرے لب پہ جو اک تیرہ شبی کا

محمد عبدالرؤوف — مئی 31، 2022 5:32 شام
الف عین ، محمّد احسن سمیع :راحل: ، یاسر شاہ
شکوہ ہے مرے لب پہ جو اک تیرہ شبی کا
ہے دہر میں باعث وہ مری کم لقبی کا
پانی کو ترستا ہو جوں گم گشتہِ صحرا
یوں تجھ سے تعلق ہے مری تشنہ لبی کا
پھر میرا جفا جُو لگا مَلنے کفِ افسوس
دیکھا جو نظارہ سا مری جاں بلبی کا
ہائے جو محبت کی زباں سے نہیں واقف
لاحق یہ مجھے عشق ہوا کیسے غبی کا
تو جو نہ میسر ہو اجالوں میں تو اے دوست
ٹوٹے نہ کبھی زور مری تیرہ شبی کا
ارشد چوہدری — مئی 31، 2022 6:29 شام
بہت خوب مگر تھوڑی مشکل ہے
محمد عبدالرؤوف — جون 1، 2022 3:43 صبح
بہت خوب مگر تھوڑی مشکل ہے
پسند فرمانے کا بہت شکریہ۔۔
جی ہاں ذرا مشکل ہو گئی لیکن جان بوجھ کے ایسا ہرگز نہیں کیا۔ ویسے میری کوشش تو یہی رہتی ہے کہ آسان آسان الفاظ و تراکیب استعمال ہوں۔
الف عین — جون 1، 2022 3:59 صبح
باقی اشعار تو درست ہیں، بس مطلع کی کم لقبی سمجھ میں نہیں آئی
محمد عبدالرؤوف — جون 1، 2022 8:06 صبح
باقی اشعار تو درست ہیں، بس مطلع کی کم لقبی سمجھ میں نہیں آئی
یعنی کہ میں جو تیرہ شبی کا رونا روتا رہتا ہوں یہ دنیا میں میری کم لقبی(بدنامی، رسوائی) کا باعث بن گیا ہے۔
اگر شعر اپنا مطلب واضح نہیں کر رہا تو پھر کسی اور طور پر سوچنے کی کوشش کرتا ہوں۔
محمد عبدالرؤوف — جون 1، 2022 8:06 صبح
امین شارق ، اشرف علی ، صریر پسند فرمانے کا بہت بہت شکریہ، سلامت رہیں
یاسر شاہ — جون 4، 2022 6:28 صبح
تو جو نہ میسر ہو اجالوں میں تو اے دوست
ٹوٹے نہ کبھی زور مری تیرہ شبی کا
واہ۔
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے۔
محمد عبدالرؤوف — جون 4، 2022 6:35 صبح
واہ۔
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے۔
بہت شکریہ یاسر بھائی۔۔ آپ کی حوصلہ افزائی کیا خوب حوصلہ افزا ہے، سلامت رہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%94-%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81-%DB%81%DB%92-%D9%85%D8%B1%DB%92-%D9%84%D8%A8-%D9%BE%DB%81-%D8%AC%D9%88-%D8%A7%DA%A9-%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%81-%D8%B4%D8%A8%DB%8C-%DA%A9%D8%A7.118511/