برائے اصلاح۔۔مری پرواز سے آگے فلک ہے

نمرہ — اگست 28، 2012 1:42 شام
مری پرواز ہے اوجِ فلک تک
مری پرواز سے آگے فلک ہے
نظر ہی اک ہے آئینہ جہاں میں
کہ منظر تب ہے ناظر جب تلک ہے
بھروسا غیر پر کیونکر کریں ہم؟
ابھی تک اپنی ہستی پر ہی شک ہے
ہر اس قریے میں پہنچے جستجو میں
نظر آئی جہاں اپنی جھلک ہے
یہ دیوانہ ہی سچ کہتا ہو شاید
نہ لہجے میں حلاوت ، نے کھنک ہے
بھلا کیوں ڈر نہ ہو ظلمت کو مجھ سے؟
مری مٹی میں تاروں کی چمک ہے
قرۃالعین اعوان — اگست 28، 2012 2:10 شام
واہ!
احمد بلال — اگست 28، 2012 2:14 شام
اعلی غزل ہے۔
"مری مٹی میں تاروں کی چمک ہے" خوب کہا ہے۔​
الف عین — اگست 29، 2012 3:59 صبح
عروضی غلطی تو کوئی نہیں، بہتری کی بہر حال گنجائش ہے۔
مزمل شیخ بسمل — اگست 29، 2012 8:11 صبح
بہت ہی عمدہ غزل ہے۔ داد قبول میری جانب سے۔ :)
سید ذیشان — اگست 30، 2012 5:14 شام
داد قبول لیجئے۔ بہت اچھی غزل ہے!
عاطف بٹ — اگست 30، 2012 5:51 شام
واہ، بہت خوب۔
الف عین — ستمبر 8، 2012 10:51 صبح
مری پرواز ہے اوجِ فلک تک
مری پرواز سے آگے فلک ہے
اگر پہلے مصرع میں ’تری‘ کر دیا جائے تو مطلب واضح ہو جاتا ہے۔
نظر ہی اک ہے آئینہ جہاں میں
کہ منظر تب ہے ناظر جب تلک ہے
//خیال اچھا ہے، لیکن لہجہ رواں نہیں
نظر ہی ہے وہ آئینہ جہاں میں
سے بہتر ہو سکتا ہے۔
بھروسا غیر پر کیونکر کریں ہم؟
ابھی تک اپنی ہستی پر ہی شک ہے
//درست
ہر اس قریے میں پہنچے جستجو میں
نظر آئی جہاں اپنی جھلک ہے
//اس کو یوں کہو تو بات مزید بن جائے
ہر اس رستے پہ لے گئی تیری امید
نظر آئی جہاں اپنی جھلک ہے
یہ دیوانہ ہی سچ کہتا ہو شاید
نہ لہجے میں حلاوت ، نے کھنک ہے
//درست
بھلا کیوں ڈر نہ ہو ظلمت کو مجھ سے؟
مری مٹی میں تاروں کی چمک ہے
//درست
اس میں محض ایک بحر استعمال کی جائے، زیادہ تر
مفاعلن مفاعلن مفاعلن فعو/ل
ہے۔ اس میں ہی ڈھالنے کی کوشش کرو۔
نمرہ — ستمبر 9، 2012 4:18 شام
کیا یہ مصرعہ مفاعیلن مفاعیلن فعولن میں ہے ' ہر اس رستے پہ لے گئی تیری امید'؟ پہلے دو اشعار کی اصلاح تو سمجھ میں آ گئی ہے۔
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 9، 2012 6:12 شام
کیا یہ مصرعہ مفاعیلن مفاعیلن فعولن میں ہے ' ہر اس رستے پہ لے گئی تیری امید'؟ پہلے دو اشعار کی اصلاح تو سمجھ میں آ گئی ہے۔

اسکا آخری رکن ’’مفاعیل‘‘ مقصور ہے۔ یعنی ’’مفاعیلن مفاعیلن مفاعیل‘‘ ایک ساکن زائد ہے۔ اس طرح بھی جائز ہے۔
نمرہ — ستمبر 10، 2012 11:46 صبح
اسکا آخری رکن ’’مفاعیل‘‘ مقصور ہے۔ یعنی ’’مفاعیلن مفاعیلن مفاعیل‘‘ ایک ساکن زائد ہے۔ اس طرح بھی جائز ہے۔
جی، تسبیغ کی تو اجازت ہے اس بحر میں۔
میرا سوال یہ ہے کہ اس کی تقطیع کچھ یوں نہیں ہو گی کیا؟
ہر اس رستے پہ لے گئی تیری امید
ہ-رس-رس-تے پ-لے-گ-ئی ت-ری-ا-می-د
اس طرح تو یہ مفاعیلن مفاعیلن فعولن/ مفاعیل میں نہیں آئے گا۔ کیا 'گئی' کو تقطیع کرتے ہوئے 'گی' شمار کیا جائے گا؟
الف عین — ستمبر 10، 2012 12:06 شام
تقطیع یوں ہو گی
ہرُس رستے۔ پہو گئی تے۔رِام می (د)
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 10، 2012 12:30 شام
جی، تسبیغ کی تو اجازت ہے اس بحر میں۔
میرا سوال یہ ہے کہ اس کی تقطیع کچھ یوں نہیں ہو گی کیا؟
ہر اس رستے پہ لے گئی تیری امید
ہ-رس-رس-تے پ-لے-گ-ئی ت-ری-ا-می-د
اس طرح تو یہ مفاعیلن مفاعیلن فعولن/ مفاعیل میں نہیں آئے گا۔ کیا 'گئی' کو تقطیع کرتے ہوئے 'گی' شمار کیا جائے گا؟

تقطیع استاد جی نے کردی ہے.
آپ نے تیری کو تری پڑھا اسلئے الجھ گئیں.
یہ تیری ہی لکھنے میں آئے گا اور دوسری "ی" تقطیع میں گرے گی.
نوٹ: یہاں زحاف تسبیغ نہیں قصر ہے.
شام — ستمبر 10، 2012 12:37 شام
تقطیع یوں ہو گی
ہرُس رستے۔ پہو گئی تے۔رِام می (د)
سمجھ نہیں آئی
الف عین — ستمبر 11، 2012 3:27 صبح
ہو گئی کو بر وزن ہوگی باندھنا جائز ہے۔ یہاں ہوگی کے وزن پر ہے۔
پہ ہو گی تے
مفاعیلن
نمرہ — ستمبر 11، 2012 1:35 شام
یہاں زحاف تسبیغ نہیں قصر ہے.
تصحیح کرنے کا شکریہ، میرا خیال تھا کہ یہ بھی تسبیغ ہے۔
نمرہ — ستمبر 11، 2012 1:44 شام
ہو گئی کو بر وزن ہوگی باندھنا جائز ہے۔ یہاں ہوگی کے وزن پر ہے۔
پہ ہو گی تے
مفاعیلن
مجھے یہی الجھن تھی۔ اب تو اس پوری غزل کی اصلاح ہو گئی ہے، بہت شکریہ آپ کی توجہ کا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%94%DB%94%D9%85%D8%B1%DB%8C-%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%B2-%D8%B3%DB%92-%D8%A2%DA%AF%DB%92-%D9%81%D9%84%DA%A9-%DB%81%DB%92.53846/