برائے اصلاح۔۔۔تُجھ کو کھویا نہ تُجھ کو پا ہی سکے

محمل ابراہیم — مارچ 23، 2022 3:06 شام
الف عین
سید عاطف علی
ظہیر احمد ظہیر
یاسر شاہ
محمّد احسن سمیع :راحل: و دیگر اساتذہ
السلام علیکم۔۔۔۔۔
تجھ کو کھویا نہ تُجھ کو پا ہی سکے
نہ ٹھہر ہی سکے نہ جا ہی سکے
درد تو بے شمار تھا لیکن
نہ وہ سمجھے نہ ہم بتا ہی سکے
ضرب کاری تھی دل کو چیر گئی
زخم دل پھر بھی ہم دکھا نہ سکے
چھوڑ جانے کی بات کہہ تو دی
سچ تو یہ ہے اُنہیں بھلا نہ سکے
کیسے کہہ دوں کہ مل گیا سب کچھ
جو تھا مطلوب ہم وہ پا نہ سکے
ساتھ اشکوں کے بہہ گیا سب کچھ
خواب آنکھوں میں ہم بچا نہ سکے
زندگی دیکھ اک ترے خاطر
دکھ سہے،جان پر چھڑا نہ اسکے
تتلیاں پھول پر نثار ہوئیں
ایک ہم ہیں جو جاں لُٹا نہ سکے
قلب تو سیپ ہے مگر افسوس
ایک موتی بھی ہم بنا نہ اسکے
جس کو دیکھو وہی تھا خندہ زن
اور ہم ہیں کہ مسکرا نہ سکے
اے سحؔر! چھوڑ ایسے ویسوں کو
کیا ہے جو تو انہیں بھلا نہ سکے
سید عاطف علی — مارچ 23، 2022 3:25 شام
واہ بھئی سحر بٹیا ۔ یہ غزل بھی خوب کہی۔مجھے پسند آئی ۔
درد تو بے شمار تھا لیکن
درد تو بے شمار تھے ۔ کر دیجیے یا ۔درد تو بے حساب تھا ۔ کر دیجیے ۔ بے شمار تھا عجیب سا ہی لگ رہا ہے ہمیں تو ۔غلط تو نہیں کہیں گے کہ بات تو ظاہر ہو جاتی ہے لیکن زبان و بیان کا اصل لطف زائل ہو جاتا ہے ۔
چھوڑ جانے کی بات کہہ تو دی
کہہ تو دی سے بہتر ہے کہ یوں کہیے ۔کہہ تو دی بات چھوڑ جانے کی ۔ اگر چہ کوئی خاص غلطی نہیں لیکن بیان قدرے بہتر ہو جاتا ہے ۔ اشکوں میں بہنے والے مصرعے میں بھی کچھ یوں ہی ہے ۔
تتلیاں پھول پر نثار ہوئیں
کیوں کہ دوسرے مصرع میں جاں لٹانے کا مضمون بندھا ہے اس کی مناسبت سے بہتر ہوتا کہ شمع و پروانے کی تمثیل لائی جاتی ۔ اس سے شعر میں زیادہ جان پڑتی ۔
خیر غلط تو بہر حال اسے بھی نہیں کہتا میں ۔آپ کی صوابدید ہے ۔ شعر پھر بھی اچھا ہی ہے ۔
صابرہ امین — مارچ 23، 2022 3:45 شام
بہت اچھے اشعار محمل ابراہیم ۔ ڈھیروں داد
یاسر شاہ — مارچ 23، 2022 4:39 شام
و علیکم السلام
ما شاء الله خوب بہن -بلکہ بہت خوب-
ترمیم کی کچھ خاص ضرورت نہیں -
محمد عبدالرؤوف — مارچ 23، 2022 4:50 شام
بہت خوب سحر بہن
خورشیداحمدخورشید — مارچ 23، 2022 4:52 شام
ضرب کاری تھی دل کو چیر گئی
زخم دل پھر بھی ہم دکھا نہ سکے
ساتھ اشکوں کے بہہ گیا سب کچھ
خواب آنکھوں میں ہم بچا نہ سکے
بہت خوب!
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 23، 2022 7:23 شام
مطلع اور اس سے اگلے شعر کے بعد ردیف کیوں تبدیل ہو گئی؟
سید عاطف علی — مارچ 23، 2022 8:15 شام
مطلع اور اس سے اگلے شعر کے بعد ردیف کیوں تبدیل ہو گئی؟
بہتر ہو گا کہ انہیں دو الگ غزلوں کی شکل دے دی جائے کچھ اشعار شامل کر کے ۔
محمل ابراہیم — مارچ 24، 2022 3:08 صبح
بہت اچھے اشعار محمل ابراہیم ۔ ڈھیروں داد
متشكرم :giggle:
محمل ابراہیم — مارچ 24، 2022 3:12 صبح
واہ بھئی سحر بٹیا ۔ یہ غزل بھی خوب کہی۔مجھے پسند آئی ۔
درد تو بے شمار تھے ۔ کر دیجیے یا ۔درد تو بے حساب تھا ۔ کر دیجیے ۔ بے شمار تھا عجیب سا ہی لگ رہا ہے ہمیں تو ۔غلط تو نہیں کہیں گے کہ بات تو ظاہر ہو جاتی ہے لیکن زبان و بیان کا اصل لطف زائل ہو جاتا ہے ۔
کہہ تو دی سے بہتر ہے کہ یوں کہیے ۔کہہ تو دی بات چھوڑ جانے کی ۔ اگر چہ کوئی خاص غلطی نہیں لیکن بیان قدرے بہتر ہو جاتا ہے ۔ اشکوں میں بہنے والے مصرعے میں بھی کچھ یوں ہی ہے ۔
کیوں کہ دوسرے مصرع میں جاں لٹانے کا مضمون بندھا ہے اس کی مناسبت سے بہتر ہوتا کہ شمع و پروانے کی تمثیل لائی جاتی ۔ اس سے شعر میں زیادہ جان پڑتی ۔
خیر غلط تو بہر حال اسے بھی نہیں کہتا میں ۔آپ کی صوابدید ہے ۔ شعر پھر بھی اچھا ہی ہے ۔
شکریہ سر۔۔۔پہلے پہل میرے ذہن میں شمع پروانے کی تمثیل ہی آئی تھی مگر میں اسے کہہ نہیں سکی۔۔۔میں پھر سے کوشش کرتی ہوں
محمل ابراہیم — مارچ 24، 2022 3:12 صبح
و علیکم السلام
ما شاء الله خوب بہن -بلکہ بہت خوب-
ترمیم کی کچھ خاص ضرورت نہیں -
بہت شکریہ سر
محمل ابراہیم — مارچ 24، 2022 3:13 صبح
شُکریہ
محمل ابراہیم — مارچ 24، 2022 3:13 صبح
ضرب کاری تھی دل کو چیر گئی
زخم دل پھر بھی ہم دکھا نہ سکے
ساتھ اشکوں کے بہہ گیا سب کچھ
خواب آنکھوں میں ہم بچا نہ سکے
بہت خوب!
پسندیدگی پر شکریہ قبول کریں
محمل ابراہیم — مارچ 24، 2022 3:17 صبح
مطلع اور اس سے اگلے شعر کے بعد ردیف کیوں تبدیل ہو گئی؟
سر یہ تو بہت بڑی غلطی ہے نہ جانے اتنی بار پڑھنے کے بعد بھی مجھے نظر کیوں نہیں آئی۔غزل کے ابتدائی دو چار اشعار میں نے بہت پہلے لکھے تھے اور باقی کل:X3:
محمل ابراہیم — مارچ 24، 2022 3:18 صبح
بہتر ہو گا کہ انہیں دو الگ غزلوں کی شکل دے دی جائے کچھ اشعار شامل کر کے ۔
جی سر میں ترمیم کے ساتھ حاضر ہوتی ہوں
الف عین — مارچ 24، 2022 4:09 صبح
جی سر میں ترمیم کے ساتھ حاضر ہوتی ہوں
میں بھی بعد میں پھر دیکھتا ہوں، فی الحال عاطف بھائی کے مشوروں پر غور کرو
محمل ابراہیم — مارچ 24، 2022 6:31 صبح
میں بھی بعد میں پھر دیکھتا ہوں، فی الحال عاطف بھائی کے مشوروں پر غور کرو
جی سر ٹھیک ہے
محمل ابراہیم — مارچ 24، 2022 1:34 شام
الف عین سید عاطف علی
سر نظر ثانی کی درخواست گزار ہوں___
ہم نے کھویا جو، پھر وہ پا نہ سکے
جو گنوایا اسے کما نہ سکے
درد تو بے شمار تھے لیکن
وہ نہ سمجھے؟ کہ ہم بتا نہ سکے؟
ضرب کاری تھی دل کو چیر گئی
زخم دل پھر بھی ہم دکھا نہ سکے
کہہ تو دی بات چھوڑ جانے کی
سچ تو یہ ہے اُنہیں بھلا نہ سکے
کیسے کہہ دوں کہ مل گیا سب کچھ
جو تھا مطلوب ہم وہ پا نہ سکے
بہہ گیا ساتھ اشک کے سب کچھ
خواب آنکھوں میں ہم بچا نہ سکے
زندگی دیکھ اک ترے خاطر
دکھ سہے،جان پر چھڑا نہ سکے
شمع پر دیکھو مر مٹا کرمک
يا
ہو گیا شمع پر نثار پتنگ
ایک ہم ہیں جو جاں لُٹا نہ سکے
قلب تو سیپ ہے مگر افسوس
ایک موتی بھی ہم بنا نہ سکے
جس کو دیکھو وہی تھا خندہ زن
اور ہم ہیں کہ مسکرا نہ سکے
اے سحؔر! چھوڑ ایسے ویسوں کو
کیا ہے جو تو انہیں بھلا نہ سکے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%94%DB%94%DB%94%D8%AA%D9%8F%D8%AC%DA%BE-%DA%A9%D9%88-%DA%A9%DA%BE%D9%88%DB%8C%D8%A7-%D9%86%DB%81-%D8%AA%D9%8F%D8%AC%DA%BE-%DA%A9%D9%88-%D9%BE%D8%A7-%DB%81%DB%8C-%D8%B3%DA%A9%DB%92.118286/