برائے اصلاح۔۔۔۔۔

عینی خیال — ستمبر 30، 2012 6:08 صبح
تمہارے شہر کا موسم بہت اُداس سا ہے
ہرا ضرور ہے ہر پیڑ پر اُداس سا ہے
الجھ رہی ہیں ہوائیں نجانے کیوں ان سے
ہر ایک پھول کا دل جب بجھا اُداس سا ہے
گزر رہی ہے کھٹن مرحلوں سے رات میری
ہے چاندنی تو بہت چاند پر اُداس سا ہے
میں چاہتی ہو ں تیرے پیار کی حدت ہر دم
یہ میرا شوق اور تیرا کرم اُداس سا ہے
سمجھے سکے گا کوئی کیسے دل کا حال خیال
یہ اُس کا شہر ہے اور رابطہ اُداس سا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 30، 2012 6:22 صبح
تمہارے شہر کا موسم بہت اُداس سا ہے
ہرا ضرور ہے ہر پیڑ پر اُداس سا ہے
الجھ رہی ہیں ہوائیں نجانے کیوں ان سے
ہر ایک پھول کا دل جب بجھا اُداس سا ہے
گزر رہی ہے کھٹن مرحلوں سے رات میری
ہے چاندنی تو بہت چاند پر اُداس سا ہے
میں چاہتی ہو ں تیرے پیار کی حدت ہر دم
یہ میرا شوق اور تیرا کرم اُداس سا ہے
سمجھے سکے گا کوئی کیسے دل کا حال خیال
یہ اُس کا شہر ہے اور رابطہ اُداس سا ہے۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
اداس سا ہے تو آپنے ردیف باندھا ہے جو کہ بہت خوب ہے۔۔۔ پر قافیہ کیا ہے اس غزل کا؟
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 30، 2012 8:17 صبح
تمہارے شہر کا موسم بہت اُداس سا ہے
ہرا ضرور ہے ہر پیڑ پر اُداس سا ہے
الجھ رہی ہیں ہوائیں نجانے کیوں ان سے
ہر ایک پھول کا دل جب بجھا اُداس سا ہے
گزر رہی ہے کھٹن مرحلوں سے رات میری
ہے چاندنی تو بہت چاند پر اُداس سا ہے
میں چاہتی ہو ں تیرے پیار کی حدت ہر دم
یہ میرا شوق اور تیرا کرم اُداس سا ہے
سمجھے سکے گا کوئی کیسے دل کا حال خیال
یہ اُس کا شہر ہے اور رابطہ اُداس سا ہے۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
اداس سا ہے تو آپنے ردیف باندھا ہے جو کہ بہت خوب ہے۔۔۔ پر قافیہ کیا ہے اس غزل کا؟

قافیہ تو ہے ہی نہیں۔ :confused:
پھر ہوئی شین الف میم خدا خیر کرے۔ :)
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 30، 2012 8:26 صبح
قافیہ تو ہے ہی نہیں۔ :confused:
پھر ہوئی شین الف میم خدا خیر کرے۔ :)
ہم بھی تو اسی واسطے ڈر کر سہم گئے تھے کہ پھر سے شین الف میم شروع نہ ہو جاوے
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 30، 2012 8:47 صبح
ہم بھی تو اسی واسطے ڈر کر سہم گئے تھے کہ پھر سے شین الف میم شروع نہ ہو جاوے

نہیں جناب۔ یہ اصلاح سخن ہے۔ :)
امید کرتا ہوں یہ اشعار نزول کے نہ ہونگے۔ (y)
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 30، 2012 8:51 صبح
نہیں جناب۔ یہ اصلاح سخن ہے۔ :)
امید کرتا ہوں یہ اشعار نزول کے نہ ہونگے۔ (y)
نزول کے نہ ہوئے تو کم از کم انزال کے تو ہوں گے ہمیں تو در ہر صورت بچ کر رہنا چاہئے کہ کہیں ہم ہی گرفتار نہ ہو جائیں۔۔
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 30، 2012 8:56 صبح
نزول کے نہ ہوئے تو کم از کم انزال کے تو ہوں گے ہمیں تو در ہر صورت بچ کر رہنا چاہئے کہ کہیں ہم ہی گرفتار نہ ہو جائیں۔۔
میاں اتنا ڈر ڈر کر چلوگے تو کیا بنے گا تمہارا؟ منہ پھٹ ہونا بہتر ہے زمانے میں۔ :unsure:
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 30، 2012 8:57 صبح
میاں اتنا ڈر ڈر کر چلوگے تو کیا بنے گا تمہارا؟ منہ پھٹ ہونا بہتر ہے زمانے میں۔ :unsure:
یہ بھی خوب کہی۔۔۔ کیا کریں عادت سے جو مجبور ہیں۔۔۔
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 30، 2012 8:59 صبح
یہ بھی خوب کہی۔۔۔ کیا کریں عادت سے جو مجبور ہیں۔۔۔

عادت ہی ہے نا۔ بدل ڈالو۔ :heehee:
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 30، 2012 9:07 صبح
عادت ہی ہے نا۔ بدل ڈالو۔ :heehee:
بدل کر کیا کریں متبادل میں ذلت بازو پھیلائے کھڑی ہے۔۔۔
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 30، 2012 9:09 صبح
بدل کر کیا کریں متبادل میں ذلت بازو پھیلائے کھڑی ہے۔۔۔

بدنام اگر ہوگے تو کیا نام نہ ہوگا؟
چلو خیر مذاق کیتا مے۔
دل پے نہ لئیں;)
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 30، 2012 9:10 صبح
بدنام اگر ہوگے تو کیا نام نہ ہوگا؟
چلو خیر مذاق کیتا مے۔
دل پے نہ لئیں;)
ہم بھی تو مذاق ہی کیے ہیں ورنہ ہم کب سے معاملات زندگی پر اتنی دقیق نظر رکھنے لگے؟؟!
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 30، 2012 9:13 صبح
ہم بھی تو مذاق ہی کیے ہیں ورنہ ہم کب سے معاملات زندگی پر اتنی دقیق نظر رکھنے لگے؟؟!

ہی ہی ہی ہی ( مقدس کا بھائی بنتے ہوئے) :grin:
ویسے دقیق نظر نہ رکھنا ہی بہتر ہے۔
بےحسی بھی نعمت ہے بھائی۔
عینی خیال — ستمبر 30، 2012 9:14 صبح
ذرا مجھے ردیف کا بتا دیں پلیز۔۔۔۔۔
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 30، 2012 9:18 صبح
ہی ہی ہی ہی (@مقدس کا بھائی بنتے ہوئے) :grin:
ویسے دقیق نظر نہ رکھنا ہی بہتر ہے۔
بےحسی بھی نعمت ہے بھائی۔
تو غنی ہے مگر اتنی نہ شرائط تیری
بے حسی جو کہ ہمیں راس نہ آئی لے لے
احمد فراز سے معذرت کے ساتھ
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 30، 2012 9:21 صبح
ذرا مجھے ردیف کا بتا دیں پلیز۔۔۔ ۔۔

اُداس سا ہے​
یہ ردیف ہے جو ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں اسی طرح بار بار آئے گی بنا کسی تبدیلی کے۔​
قافیہ وہ ہے جو ردیف سے پہلے آتا ہے اور ہم آواز ہوتا ہے۔​
جیسے​
تم،​
گم،​
خم​
یا​
گلستان، شبستان، دبستان،​
اسی طرح​
سجا، بسا، صبا، ہوا وغیرہ​
یا​
نکلنا، سنبھلنا، مچلنا، پھسلنا۔​
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 30، 2012 9:23 صبح
اُداس سا ہے​
یہ ردیف ہے جو ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں اسی طرح بار بار آئے گی بنا کسی تبدیلی کے۔​
قافیہ وہ ہے جو ردیف سے پہلے آتا ہے اور ہم آواز ہوتا ہے۔​
جیسے​
تم،​
گم،​
خم​
یا​
گلستان، شبستان، دبستان،​
اسی طرح​
سجا، بسا، صبا، ہوا وغیرہ​
یا​
نکلنا، سنبھلنا، مچلنا، پھسلنا۔​
کیا آسان وضاحت فرمائی ہے۔۔۔ ہم تو ابھی ایک مضمون لکھنے جا رہے تھے۔۔۔ مگر آپ کے مراسلے کے بعد اب کوئی حاجت نہ رہی۔
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 30، 2012 9:26 صبح
کیا آسان وضاحت فرمائی ہے۔۔۔ ہم تو ابھی ایک مضمون لکھنے جا رہے تھے۔۔۔ مگر آپ کے مراسلے کے بعد اب کوئی حاجت نہ رہی۔

یار مہدی، لمبی چوڑی وضاحتوں سے جی گھبراتا ہے میرا۔ ابھی کچھ دن پہلے محمد بلال اعظم سے بھی یہی کہہ رہا تھا میں۔ ایک چیز آسان کرکے جب دو لفظوں میں سمجھ آنے والی ہو تو اس کے لئے لمبے چوڑے چکروں بچ جانا بہتر ہے۔
شاکرالقادری — ستمبر 30، 2012 9:31 صبح
تمہارے شہر کا موسم بہت اُداس سا ہے
ہرا ضرور ہے ہر پیڑ پر اُداس سا ہے
الجھ رہی ہیں ہوائیں نجانے کیوں ان سے
ہر ایک پھول کا دل جب بجھا اُداس سا ہے
گزر رہی ہے کھٹن مرحلوں سے رات میری
ہے چاندنی تو بہت چاند پر اُداس سا ہے
میں چاہتی ہو ں تیرے پیار کی حدت ہر دم
یہ میرا شوق اور تیرا کرم اُداس سا ہے
سمجھے سکے گا کوئی کیسے دل کا حال خیال
یہ اُس کا شہر ہے اور رابطہ اُداس سا ہے۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
ماشأ اللہ اچھی کوشش ہے ۔۔۔۔۔ مشق سخن جاری رہے تو موجودہ خامیاں بھی دور ہو سکتی ہیں لیکن حالیہ صورت بھی اس بات کی غماز ہے کہ آنے والے دنوں میں عینی اچھی شاعرہ بن کر ابھرے گی
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 30، 2012 9:33 صبح
ماشأ اللہ اچھی کوشش ہے ۔۔۔ ۔۔ مشق سخن جاری رہے تو موجودہ خامیاں بھی دور ہو سکتی ہیں لیکن موجودہ صورت بھی اس بات کی غماز ہے کہ آنے والے دنوں میں عینی اچھی شاعرہ بن کر ابھرے گی

جی استاد جی ہم نے تو انہیں پہلے ہی کہہ دیا کہ بہت اچھی شاعرہ بننے کی اہل ہیں محترمہ۔ اب آپ کی تائید بھی حاصل ہوگئی تو کوئی شک و شبہ نہیں رہا۔ :applause:
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94.54915/