برائے اِصلاحِ

شیرازخان — اگست 23، 2013 2:09 شام
غزل
اک لالچ بُری بَلا ہے
اک چاہت بُری بَلا ہے
اندازہ نہیں کسی کو
دل کتنی بڑی بَلا ہے
یہ جو یاد کی لگی ہے
یہ بھی ہتھکڑی بَلا ہے
شبِ غم نہیں مگر یہ
کوئی سَر پھری بَلا ہے
یہ مانے مری بَلا ہی
کہ وہ کونسی بَلا ہے
دشمن بھی رہے پناہ میں
ایسی مفلسی بَلا ہے
ہم سے ہی چمٹ رہی ہے
لگتا ہے نئی بَلا ہے
ہے ہر اک بَلا ،بَلا کی
گویا آخری بَلا ہے
سب لیکن مری بَلا سے
جو شیرؔ از کی بَلا ہے
Back to Conversion Tool
شیرازخان — اگست 23، 2013 2:16 شام
@مہدی نقوی حجازالف عین آسی مرزا مزمل شیخ بسمل
مزمل شیخ بسمل — اگست 23، 2013 2:19 شام
مطلعے میں کسی ایک مصرعے کا قافیہ بدلو پہلے۔
شیرازخان — اگست 23، 2013 2:29 شام
مطلعے میں کسی ایک مصرعے کا قافیہ بدلو پہلے۔
کیا یوں جائز نہیں؟؟؟؟؟؟؟
مزمل شیخ بسمل — اگست 23، 2013 2:42 شام
کیا یوں جائز نہیں؟؟؟؟؟؟؟

نہیں جائز۔ اگر جائز ہوتا تو بدلنے کا نہیں کہتا جناب۔ :)
شیرازخان — اگست 23، 2013 3:05 شام
نہیں جائز۔ اگر جائز ہوتا تو بدلنے کا نہیں کہتا جناب۔ :)
جناب بحر کے بارے کیا کہتے ہیں؟؟؟؟
مزمل شیخ بسمل — اگست 23، 2013 3:11 شام
جناب بحر کے بارے کیا کہتے ہیں؟؟؟؟

شبِ غم نہیں مگر یہ
کوئی سَر پھری بَلا ہے
// پہلا مصرع بحر میں نہیں۔
یہ مانے مری بَلا ہی
کہ وہ کونسی بَلا ہے
//یہ اور کہ کو یے اور کے کے برابر بندھنا اچھا نہیں لگتا۔
دشمن بھی رہے پناہ میں
ایسی مفلسی بَلا ہے
//پناہ کو ”پنا“ باندھنا بالکل غلط ہے۔
محمد اسامہ سَرسَری — اگست 23، 2013 6:07 شام
پناہ کو ”پنا“ باندھنا بالکل غلط ہے۔
اور پنہ؟ جیسے راہ کو رہ اور شاہ کو شہ؟
مزمل شیخ بسمل — اگست 23، 2013 6:36 شام
اور پنہ؟ جیسے راہ کو رہ اور شاہ کو شہ؟

پہلی بات تو یہ کہ پناہ لکھ کر یا ماہ اور شاہ لکھ کر مہ اور شہ باندھنا بھی غلط ہے۔ جس طرح سے لفظ کو باندھا ہے اسی طرح لکھنا بھی ضروری ہے۔ :)
دوسری بات یہ کہ پناہ کو پنہ وغیرہ کا استعمال اساتذہ سے منقول نہیں۔ اگر آپ کی نظر میں ہو تو آگاہ کیجئے گا۔ تاکہ میرے علم میں اضافہ ہو سکے۔:)
محمد اسامہ سَرسَری — اگست 23، 2013 6:50 شام
پہلی بات تو یہ کہ پناہ لکھ کر یا ماہ اور شاہ لکھ کر مہ اور شہ باندھنا بھی غلط ہے۔ جس طرح سے لفظ کو باندھا ہے اسی طرح لکھنا بھی ضروری ہے۔ :)
دوسری بات یہ کہ پناہ کو پنہ وغیرہ کا استعمال اساتذہ سے منقول نہیں۔ اگر آپ کی نظر میں ہو تو آگاہ کیجئے گا۔ تاکہ میرے علم میں اضافہ ہو سکے۔:)
نہیں بھئی میرے علم میں تو نہیں ہے۔
مزمل شیخ بسمل — اگست 23، 2013 6:52 شام
نہیں بھئی میرے علم میں تو نہیں ہے۔

تو ہم آپ کی ہی بات مان لیتے ہیں۔ :) :)
محمد اسامہ سَرسَری — اگست 23، 2013 7:00 شام
تو ہم آپ کی ہی بات مان لیتے ہیں۔ :) :)
میری بات کی تو خیر کوئی وقعت نہیں، البتہ ذاتی خیال یہی ہے کہ پنہ باندھنا ٹھیک ہو، جیسے نگاہ سے نگہ۔
شیرازخان — اگست 23، 2013 8:08 شام
شبِ غم نہیں مگر یہ
کوئی سَر پھری بَلا ہے
// پہلا مصرع بحر میں نہیں۔
یہ مانے مری بَلا ہی
کہ وہ کونسی بَلا ہے
//یہ اور کہ کو یے اور کے کے برابر بندھنا اچھا نہیں لگتا۔
دشمن بھی رہے پناہ میں
ایسی مفلسی بَلا ہے
//پناہ کو ”پنا“ باندھنا بالکل غلط ہے۔

یہ مانےمری بَلا ہی
کہ وہ کونسی بَلا ہے
//یہ اور کہ کو یے اور کے کے برابر بندھنا اچھا نہیں لگتا۔
دراصل یوں ہے "اب جانےمری بَلا ہی"
باقی میں کوشش کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔شکریہ
شیرازخان — اگست 23، 2013 8:45 شام
شبِ غم نہیں مگر یہ
کوئی سَر پھری بَلا ہے
// پہلا مصرع بحر میں نہیں۔
یہ مانے مری بَلا ہی
کہ وہ کونسی بَلا ہے
//یہ اور کہ کو یے اور کے کے برابر بندھنا اچھا نہیں لگتا۔
دشمن بھی رہے پناہ میں
ایسی مفلسی بَلا ہے
//پناہ کو ”پنا“ باندھنا بالکل غلط ہے۔

یہ جو یاد کی لگی ہے
یہ بھی ہتھکڑی بَلا ہے
جناب یہاں پر "یہ" موزوں ہے کہ نہیں؟؟؟؟
مزمل شیخ بسمل — اگست 23، 2013 10:18 شام
یہ جو یاد کی لگی ہے
یہ بھی ہتھکڑی بَلا ہے
جناب یہاں پر "یہ" موزوں ہے کہ نہیں؟؟؟؟

یہاں بھی یے کھینچ کر پڑھا ہے۔ یِ یک حرفی ہے۔
شیرازخان — اگست 23، 2013 10:35 شام
یہاں بھی یے کھینچ کر پڑھا ہے۔ یِ یک حرفی ہے۔
یعنی "یہ" اور "کہ" کو کبھی بھی "فا" کے وزن پہ نہیں باندھ سکتے؟؟؟
محمد اسامہ سَرسَری — اگست 23، 2013 11:12 شام
یہاں بھی یے کھینچ کر پڑھا ہے۔ یِ یک حرفی ہے۔
یعنی "یہ" اور "کہ" کو کبھی بھی "فا" کے وزن پہ نہیں باندھ سکتے؟؟؟
”یہ“ کو ہجائے بلند کے طور پر بھی برتا جاسکتا ہے۔
غالب کا شعر:
اے نو آموزِ فنا ہمتِ دشوار پسند!
سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا
شیرازخان — اگست 26، 2013 5:34 شام
یہاں بھی یے کھینچ کر پڑھا ہے۔ یِ یک حرفی ہے۔

جناب کوشش کی ہے رہنمائی کا منتظر ہوں؟؟؟؟
اک لالچ بُری بَلا ہے
اک چاہت بڑی بَلا ہے
اک آگے کھڑی بَلا ہے
اک پیچھے پڑی بَلا ہے
ہم کو یاد کی لگی ہے
جو بھی ہتھکڑی بَلا ہے
غم کی شب نہیں مگر یہ
کوئی سَر پھری بَلا ہے
دشمن کی بھی خیر یا رب
دشمن کے نہ پیش آئے
ایسی مفلسی بَلا ہے
تھک جائے یہ زندگی تو
اک بھٹکی ہوئی بلا ہے
ہے ہر اک بَلا ،بَلا کی
گویا آخری بَلا ہے
سب کی سب مری بَلا سے
مہنگائی نئی بَلا ہے
اب جانے مری بَلا ہی
جو شیرؔ از کی بَلا ہے
الف عین @محمد اسامہ سَرسَری@مہدی نقوی حجاز@
محمد اسامہ سَرسَری — اگست 26، 2013 6:20 شام
ماشاءاللہ اب بہت اچھی ہوگئی ہے۔ باقی اصلاح تو استاد صاحب ہی فرمائیں گے۔
شیرازخان — اگست 27، 2013 6:14 شام
الف عین @مہدی نقوی حجاز@
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%90%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%D9%90.67051/