رحیم ساگر بلوچ — مئی 20، 2014 3:46 صبح
ﺁﮔﺌﮯ ﮨﻨﺲ ﮐﺮ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺩﺍﺭ
ﺗﮏ
ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺗﺮﮮ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺗﮏ
ﮔﺮﺩﺵ ﺗﻘﺪﯾﺮ ﮐﮯ ﯾﮧ ﮐﮭﯿﻞ
ﮨﯿﮟ
ﺑﻦ ﮔﺌﮯ ﺩﺷﻤﻦ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﯾﺎﺭ ﺗﮏ
ﻣﺮ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ
ﻏﻢ ﻧﮩﯿﮟ
ﮨﻢ ﺟﺌﯿﮟ ﮔﮯ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺍﻇﮩﺎﺭ
ﺗﮏ
ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﻮﺩﺍ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﻣﮩﻨﮕﺎ
ﭘﮍﺍ
ﺁ ﮔﺌﮯ ﺑﮑﻨﮯ ﮐﻮ ﮨﻢ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺗﮏ
ﻭﮦ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﺟﺬﺑﮯ
ﻋﺸﻖ ﮐﮯ
ﻣﺮ ﮔﺌﮯ ﺁ ﮐﺮ ﻟﺐ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﺗﮏ
تیرے بن اپنا نہیں لگتا یہ گھر
ہیں خفا مجھ سے در و دیوار تک
ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ
ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﻣﺮﮮ ﻣﻌﯿﺎﺭ ﺗﮏ
@الف عین
رحیم ساگر بلوچ — مئی 20، 2014 3:50 صبح
مہدی نقوی حجاز — مئی 20، 2014 4:01 صبح
وزن کہیں مجروح نہیں ہوا۔ بیشتر شعر اچھے ہیں۔ مبارک ہو۔
رحیم ساگر بلوچ — مئی 20، 2014 4:08 صبح
وزن کہیں مجروح نہیں ہوا۔ بیشتر شعر اچھے ہیں۔ مبارک ہو۔
جزاک اللہ مہدی نقوی حجاز صاحب اگر کہیں کوئی نقص ہے خیال میں بھی تو اس کی نشاندہی ضرور کریں
محمد اسامہ سَرسَری — مئی 20، 2014 7:15 صبح
خوب صورت غزل ہے۔
بہت سی داد۔
مہدی نقوی حجاز — مئی 20، 2014 7:46 صبح
جزاک اللہ مہدی نقوی حجاز صاحب اگر کہیں کوئی نقص ہے خیال میں بھی تو اس کی نشاندہی ضرور کریں
خیال بھی سارے خوبصورت اور اچھے ہیں، مصرعے کئی ایک جگہ چست نہیں، جو کہ با مرورِ زمان اور تمرینِ بسیار کمال تک پہنچ جائیں گے!
فاتح — مئی 20، 2014 9:13 صبح
اچھی غزل ہے۔ واہ
رحیم ساگر بلوچ — مئی 20، 2014 9:58 صبح
بے حد ممنون ہوں...
جزاک اللہ
فاتح صاحب
محمد اسامہ سرسری صاحب اور
مہدی نقوی حجاز صاحب
الف عین — مئی 26، 2014 11:59 صبح
اچھی غزل ہے، اصلاح کی ضرورت نہیں
رحیم ساگر بلوچ — مئی 26، 2014 12:16 شام
اچھی غزل ہے، اصلاح کی ضرورت نہیں
بابا جانی بہت شکریہ
ایم اے راجا — جون 2، 2014 1:05 شام
واہ بلوچ صاحب واہ بہت عمدہ
رحیم ساگر بلوچ — جون 3، 2014 10:10 صبح
واہ بلوچ صاحب واہ بہت عمدہ
جزاک اللہ