برائے تنقید و اصلاح: لذتِ حب خمار سے باہر

سید ذیشان — جولائی 21، 2012 8:23 شام
لذتِ حب خمار سے باہر
وصف جسکا شمار سے باہر
سینچنا باغِ ہستیِ پر شور
چشمِ صد سوگوار سے باہر
عمر اِک چاہے مدعا میرا
شوق پر انتظار سے باہر
اِک نئے باب کا ہوا آغاز
جسم نکلا جو دار سے باہر
میری خودی نے مجھ کو جکڑا تھا
نہ تھی حدِ پکار سے باہر
پیکر اِس پَل کے ہیں گئے اوقات
نکلوں کیونکر مدار سے باہر؟
ایسے مجنوں کہ ہیں لئے پھرتے
دل گریبانِ تار سے باہر
کتنے بکھرے ہیں زندگی کے رنگ؟
ارض کے شاہکار سے باہر
رہتا اندر ہوں شوق نگری کے
وقت کے اختیار سے باہر
سید ذیشان — جولائی 21، 2012 8:26 شام
الف عین محمد وارث
مہدی نقوی حجاز — جولائی 21، 2012 8:30 شام
گریبان تار؟
سید ذیشان — جولائی 21، 2012 8:43 شام
شکریہ جناب نشاندہی کا۔
ابھی خیال آیا کہ محاورہ تار تار ہے۔
مہدی نقوی حجاز — جولائی 21، 2012 9:22 شام
شکریہ جناب نشاندہی کا۔
ابھی خیال آیا کہ محاورہ تار تار ہے۔
قابلی نددارہ
الف عین — جولائی 22، 2012 7:54 صبح
کاپی کر رہا ہوں، اب اگلے ’حملے‘ میں
سید ذیشان — جولائی 22، 2012 8:04 صبح
کاپی کر رہا ہوں، اب اگلے ’حملے‘ میں
بہت شکریہ، انتظار رہے گا۔
اس شعر کو تبدیل کر دیا ہے۔
ایسے مجنوں کہ ہیں لئے پھرتے
دل گریبانِ تار سے باہر
اب یوں ہو گیا ہے۔
ایسے مجنوں دل ہیں لئے پھرتے
لباسِ تار تار سے باہر
الف عین — جولائی 23، 2012 5:02 صبح
باقی باتیں، بعد میں۔ ویسے یہ نیا شعر بحر میں نہیں۔
احمد بلال — جولائی 23، 2012 6:47 صبح
بہت شکریہ، انتظار رہے گا۔
اس شعر کو تبدیل کر دیا ہے۔
ایسے مجنوں کہ ہیں لئے پھرتے
دل گریبانِ تار سے باہر
اب یوں ہو گیا ہے۔
ایسے مجنوں دل ہیں لئے پھرتے
لباسِ تار تار سے باہر
وزن سے عاری ہو گیا ہے
سید ذیشان — جولائی 23، 2012 1:45 شام
باقی باتیں، بعد میں۔ ویسے یہ نیا شعر بحر میں نہیں۔
بہت شکریہ نشاندہی کا۔ اب ایک اور کوشش کرتا ہوں۔ شائد کام بن جائے۔ :)
سید ذیشان — جولائی 23، 2012 1:46 شام
وزن سے عاری ہو گیا ہے
شکریہ بھائی۔ مجھے اندازہ تھا۔ اب نئے سرے سے کوشش کرتا ہوں۔ :)
سید ذیشان — جولائی 23، 2012 10:08 شام
ایسے مجنوں کہ دل لئے پھرتے
جیبِ صد تار تار سے باہر
مہدی نقوی حجاز — جولائی 24، 2012 1:36 صبح
ایسے مجنوں کہ دل لئے پھرتے
جیبِ صد تار تار سے باہر
اب کہ وزن درست ہے شاید۔۔۔ مابقی اساتذہ جانیں،
الف عین — جولائی 24، 2012 8:31 صبح
وزن تو درست ہے۔ لیکن پہلے مصرع میں ’ہیں‘ کے بغیر بات مکمل نہیں ہوتی
سید ذیشان — جولائی 24، 2012 8:40 صبح
وزن تو درست ہے۔ لیکن پہلے مصرع میں ’ہیں‘ کے بغیر بات مکمل نہیں ہوتی
اگر اس طرح کر دیں تو کیسا رہے گا؟
ایسے مجنوں، ہیں دل لئے پھرتے
جیبِ صد تار تار سے باہر
محمد وارث — جولائی 24، 2012 9:08 صبح
میری خودی نے مجھ کو جکڑا تھا
نہ تھی حدِ پکار سے باہر

خودی اور خدا کا ایک ہی وزن ہے اس لیے پہلا مصرعہ بے وزن ہو رہا ہے۔ خود، خودی، خویش، خواب، خواہش ان سب میں واؤ معدولہ ہے جو نہ بولنے میں آتی ہے اور نہ ہی اس کا کوئی وزن ہے۔
احمد بلال — جولائی 24، 2012 9:48 صبح
اگر اس طرح کر دیں تو کیسا رہے گا؟
ایسے مجنوں، ہیں دل لئے پھرتے
جیبِ صد تار تار سے باہر
پہلا مصرعہ اب بہتر ہے۔ دوسرے کو اگر اس طرح کر دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
دامنِ تار تار سے باہر
زیادہ محل گریبان کا یا سینہ کا ہے۔
صد تار تار بھی مجھے صحیح نہیں لگ رہا۔
سید ذیشان — جولائی 24، 2012 10:44 صبح
پہلا مصرعہ اب بہتر ہے۔ دوسرے کو اگر اس طرح کر دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
دامنِ تار تار سے باہر
زیادہ محل گریبان کا یا سینہ کا ہے۔
صد تار تار بھی مجھے صحیح نہیں لگ رہا۔
دامن ویسے گریباں کے نیچے والے حصے کو کہتے ہیں۔ استادِ محترم ہی اس پر کچھ کہہ سکتے ہیں۔
احمد بلال — جولائی 24، 2012 10:50 صبح
دامن ویسے گریباں کے نیچے والے حصے کو کہتے ہیں۔ استادِ محترم ہی اس پر کچھ کہہ سکتے ہیں۔
جی مجھے پتہ ہے۔ میں یہ کہنا چاہ رہ تھا کہ اگر سینہ یا گریبان کو کسی طرح ڈالا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا
سید ذیشان — جولائی 24، 2012 11:30 صبح
خودی اور خدا کا ایک ہی وزن ہے اس لیے پہلا مصرعہ بے وزن ہو رہا ہے۔ خود، خودی، خویش، خواب، خواہش ان سب میں واؤ معدولہ ہے جو نہ بولنے میں آتی ہے اور نہ ہی اس کا کوئی وزن ہے۔
بہت شکریہ وارث بھائی۔ اس کا خیال نہیں رہا۔ اب درست کرتا ہوں۔ :)
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%84%D8%B0%D8%AA%D9%90-%D8%AD%D8%A8-%D8%AE%D9%85%D8%A7%D8%B1-%D8%B3%DB%92-%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1.52889/