فرحان محمد خان — اگست 10، 2017 7:56 شام
انکارِ محبت ہی آغازِ محبت ہے
اصرار بہت کرنا اندازِ محبت ہے
الفاظ بہت سے ہیں خاموشی کے دامن میں
سب جانتے چُپ رہنا اک رازِ محبت ہے
احباب کو اب تک بھی معلوم نہیں شاید
کے آنسو فقط آنسو آوازِ محبت ہے
یہ آہ و فغاں اپنے سینے سے جو اُٹھتی ہے
کیوں لوگ یہ کہتے ہیں کے سازِ محبت ہے
یہ درد غنیمت ہے جو ساتھ تو رہتا ہے
دیتا ہے مزہ غم بھی اعجازِ محبت ہے
فرحان محمد خان — اگست 10، 2017 7:57 شام
سر
الف عین
دیگر اساتذہءِ کرام
عرفان سعید — اگست 10، 2017 8:12 شام
اسرار بہت کرنا اندازِ محبت ہے
کیا "اصرار"تو نہیں یہاں؟
کے آنسو فقط آنسو آوازِ محبت ہے
"کہ" کا محل تو نہیں؟
محمد خلیل الرحمٰن — اگست 10، 2017 8:30 شام
نیز
ہماری صلاح
الفاظ بہت سے ہیں دامن میں خموشی کے
کیا جانیے چُپ رہنا اِک رازِ محبت ہے
فرحان محمد خان — اگست 10، 2017 8:37 شام
جی اصرار ہی ہے شکریہ نشاندہی کی

الف عین — اگست 11، 2017 6:31 شام
کہ کو بطور ’کے‘ استعمال کرنا مجھے پسند نہیں۔
خلیل میاں کی ’صلاح‘ کے بعد یہ مصرع
سب جانتے چُپ رہنا اک رازِ محبت ہے
کا مفہوم کچھ بدل جاتا ہے، ایسا لگ رہا ہے۔
اگر
سب جان کے چُپ رہنا اک رازِ محبت ہے
کر دیا جائے تو بہتر
کے آنسو فقط آنسو آوازِ محبت ہے
کے الفاظ بھی بدلیں
فرحان محمد خان — اگست 11، 2017 6:42 شام
کہ کو بطور ’کے‘ استعمال کرنا مجھے پسند نہیں۔
خلیل میاں کی ’صلاح‘ کے بعد یہ مصرع
سب جانتے چُپ رہنا اک رازِ محبت ہے
کا مفہوم کچھ بدل جاتا ہے، ایسا لگ رہا ہے۔
اگر
سب جان کے چُپ رہنا اک رازِ محبت ہے
کر دیا جائے تو بہتر
کے آنسو فقط آنسو آوازِ محبت ہے
کے الفاظ بھی بدلیں
جی بہتر سر
فرحان محمد خان — اگست 11، 2017 7:12 شام
کہ کو بطور ’کے‘ استعمال کرنا مجھے پسند نہیں۔
خلیل میاں کی ’صلاح‘ کے بعد یہ مصرع
سب جانتے چُپ رہنا اک رازِ محبت ہے
کا مفہوم کچھ بدل جاتا ہے، ایسا لگ رہا ہے۔
اگر
سب جان کے چُپ رہنا اک رازِ محبت ہے
کر دیا جائے تو بہتر
کے آنسو فقط آنسو آوازِ محبت ہے
کے الفاظ بھی بدلیں
سر باقی اشعار
الف عین — اگست 12، 2017 5:21 شام
فرحان محمد خان — اگست 17، 2017 8:30 صبح
احباب کو اب تک بھی معلوم نہیں شاید
آنسو کا چٹخنا بھی آوازِ محبت ہے
یہ آہ و فغاں اپنے سینے سے جو اُٹھتی ہے
نادان سمجھتے ہیں یہ سازِ محبت ہے