برائے تنقید و اصلاح: میری پہلی پابندِ بحر غزل از دسمبر 10، 2012

سید اِجلاؔل حسین — فروری 4، 2013 3:21 شام
غزل
سخت کافر جناب تم نکلے
کر کے الفت عذاب تم نکلے
جو بھی دیکھے تھے خواب تم نکلے
سب کو پرکھا جواب تم نکلے
ہم سے وعدے کئے بہاروں کے
اور سوکھے گلاب تم نکلے
وحشتوں نے ہمیں کو گھیر لیا
جب سے جاناں سراب تم نکلے
تم سے نفرت نہ تھی نہ ہونی ہے
کیسے مانیں خراب تم نکلے
تم کو اک عمر پڑھ کے دیکھا ہے
دل کے سارے نصاب تم نکلے
ایک ہی آشیاں بسایا تھا
کر کے خانہ خراب تم نکلے
تم بھی اِجلال ہو بڑے کافر
لے کے کتنے ثواب تم نکلے
----------------
10 دسمبر، 2012
مزمل شیخ بسمل — فروری 4، 2013 7:57 شام
بہت خوب ہے جناب۔
سید اِجلاؔل حسین — فروری 4، 2013 10:42 شام
بہت شکریہ جناب!
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 5، 2013 4:01 صبح
بہت عمدہ جناب۔
سخت کافر جناب تم نکلے
کر کے الفت عزاب تم نکلے
وحشتوں نے ہمہِیں کو گھیر لیا
جب سے جاناں سراب تم نکلے
مندرجہ بالا دونوں شعروں میں شاید ٹائیپو ہے۔ تدوین کررہے ہیں
الف عین — فروری 5، 2013 9:32 صبح
اچھی غزل ہے، اصلاح کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ مقطع دیکھ لیں۔ مجھے معنی سمجھ میں نہیں آ رہے۔
سید اِجلاؔل حسین — فروری 5، 2013 11:27 صبح
بہت عمدہ جناب۔
مندرجہ بالا دونوں شعروں میں شاید ٹائیپو ہے۔ تدوین کررہے ہیں
اچھی غزل ہے، اصلاح کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ مقطع دیکھ لیں۔ مجھے معنی سمجھ میں نہیں آ رہے۔

آپ دونوں حضرات کا بیحد شکریہ۔
واقعی، 'ہمہیں' میں غلطی ہو گئی۔۔۔! شکریہ کہ آپ نے نشان دہی کر دی۔ البتہ، بار بار غور کرنے کے باوجود مطلع میں typo نظر نہ آ سکا۔
"وحشتوں نے ہمیں کو گھیر لیا" میری ناقص رائے میں درست نہیں۔ میں نے دراصل 'ہم ہی' کی تقطیع 'ہمہی' کرنے کی جسارت کی تھی جیسے تمہی کی ہوتی ہے۔ اب پتہ نہیں میں نے سہی کیا کہ غلط۔ اس مسئلہ پر آپ دونو حضرات کی رائے سے مستفیض ہونا چاہوں گا۔
الف عین بھائی، مطلع میں محبوب سے مخاطب ہوں، جو محبت کر کے ظلم پر اتر آیا ہے، اور باعثِ عزاب بن گیا (جبکہ اسے تو باعث رحمت ہونا چاہئے تھا۔) اسی بنا پر اسے 'سخت کافر' کے لقب سے نوازا گیا ہے کہ محبت کرتا بھی ہے اور باعثِ عزاب بھی بنا ہوا ہے۔ آپکی مزید تنقید سر آنکھوں پر!
مزمل شیخ بسمل — فروری 5، 2013 11:58 صبح
آپ دونوں حضرات کا بیحد شکریہ۔
واقعی، 'ہمہیں' میں غلطی ہو گئی۔۔۔ ! شکریہ کہ آپ نے نشان دہی کر دی۔ البتہ، بار بار غور کرنے کے باوجود مطلع میں typo نظر نہ آ سکا۔
"وحشتوں نے ہمیں کو گھیر لیا" میری ناقص رائے میں درست نہیں۔ میں نے دراصل 'ہم ہی' کی تقطیع 'ہمہی' کرنے کی جسارت کی تھی جیسے تمہی کی ہوتی ہے۔ اب پتہ نہیں میں نے سہی کیا کہ غلط۔ اس مسئلہ پر آپ دونو حضرات کی رائے سے مستفیض ہونا چاہوں گا۔
الف عین بھائی، مطلع میں محبوب سے مخاطب ہوں، جو محبت کر کے ظلم پر اتر آیا ہے، اور باعثِ عزاب بن گیا (جبکہ اسے تو باعث رحمت ہونا چاہئے تھا۔) اسی بنا پر اسے 'سخت کافر' کے لقب سے نوازا گیا ہے کہ محبت کرتا بھی ہے اور باعثِ عزاب بھی بنا ہوا ہے۔ آپکی مزید تنقید سر آنکھوں پر!

لفظ "تمہی" میں جو ھ ہے یہ مخلوط التلفظ ہے جس کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔
ہم ہی میں ایسا نہیں ہے۔ اس میں درست لفظ ہمیں (یائے معروف کے ساتھ) استعمال ہوتا ہے۔ میر کا شعر دیکھیں:
تھا وہ تو رشکِ حورِ بہشتی ہمیں میں میرؔ
سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا
ہمیں بمعنی "ہم ہی" ہے۔
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 5، 2013 3:47 شام
لفظ "تمہی" میں جو ھ ہے یہ مخلوط التلفظ ہے جس کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔
ہم ہی میں ایسا نہیں ہے۔ اس میں درست لفظ ہمیں (یائے معروف کے ساتھ) استعمال ہوتا ہے۔ میر کا شعر دیکھیں:
تھا وہ تو رشکِ حورِ بہشتی ہمیں میں میرؔ
سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا
ہمیں بمعنی "ہم ہی" ہے۔
شکریہ مزمل شیخ بسمل بھائی۔
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 5، 2013 3:48 شام
آپ دونوں حضرات کا بیحد شکریہ۔
واقعی، 'ہمہیں' میں غلطی ہو گئی۔۔۔ ! شکریہ کہ آپ نے نشان دہی کر دی۔ البتہ، بار بار غور کرنے کے باوجود مطلع میں typo نظر نہ آ سکا۔
الف عین بھائی، مطلع میں محبوب سے مخاطب ہوں، جو محبت کر کے ظلم پر اتر آیا ہے، اور باعثِ عزاب بن گیا (جبکہ اسے تو باعث رحمت ہونا چاہئے تھا۔) اسی بنا پر اسے 'سخت کافر' کے لقب سے نوازا گیا ہے کہ محبت کرتا بھی ہے اور باعثِ عزاب بھی بنا ہوا ہے۔ آپکی مزید تنقید سر آنکھوں پر!
لفظ عذاب ذ کے ساتھ۔
الف عین — فروری 5، 2013 5:20 شام
مطلع کا میں نے کب کہا تھا سید اِجلاؔل حسین مقطع کا مفہوم سمجھ میں نہ آنے کا کہا تھا!!
سید اِجلاؔل حسین — فروری 6، 2013 4:31 شام
لفظ عذاب ذ کے ساتھ۔
اوہ! لگتا ہے شفٹ دبانا رہ گیا! بہت شکریہ محمد خلیل الرحمٰن بھائی!
سید اِجلاؔل حسین — فروری 6، 2013 4:47 شام
مطلع کا میں نے کب کہا تھا سید اِجلاؔل حسین مقطع کا مفہوم سمجھ میں نہ آنے کا کہا تھا!!

الف عین بھائی،
میری جہالت کی بھی کوئی حد نہیں ہے!بے حد شرمندہ ہوں، جلدی میں تھا۔۔ اور جلدی میں مقطع کو مطلع پڑھ گیا اور جلدی جلدی جواب ارسال کر کے گھر سے نکل گیا! آپ نے درست فرمایا۔۔۔ مقطع واقعی بس خانہ پری کے لئے اُس وقت جو سمجھ میں آیا تھا، لکھ دیا تھا۔ اللہ نے چاہا، جلد اسے تبدیل کر کے آپ سے رجوع کروں گا۔
ایک بار پھر معافی مانگتا ہوں! امید ہے درگزر فرمائیں گے۔ :oops:
سید اِجلاؔل حسین — فروری 6، 2013 10:39 شام
استادِ محترم الف عین بھائی،
مقطع یہ کیسا رہے گا:
تم سے اجلال تھیں امیدیں مگر​
کیسے بگڑے نواب تم نکلے!​
الف عین — فروری 7، 2013 9:52 صبح
اچھا مقطع ہے۔ اگر یوں کر دیں تو
تم سے اجلال تھی امید بہت
تو زیادہ رواں ہو جاتا ہے۔
سید اِجلاؔل حسین — فروری 7، 2013 10:21 صبح
اچھا مقطع ہے۔ اگر یوں کر دیں تو
تم سے اجلال تھی امید بہت
تو زیادہ رواں ہو جاتا ہے۔

بالکل یہی مصرع مجھے بھی اپیل کر رہا تھا مگر رات بھر کی بےخوابی نے ذہن کو کند کر دیا تھا اور نہ جانے کیوں تقظیع میں غلطی ہو رہی تھی حالانکہ پڑھنے میں درست ہی لگ رہا تھا۔
بیحد شکریہ!
سید اِجلاؔل حسین — فروری 7، 2013 10:47 صبح
الف عین بھائی صاحب،
ایک اور زحمت دینا چاہوں گا۔ یہ شعر:
ہم سے وعدے کئے بہاروں کے
اور سوکھے گلاب تم نکلے
اس طرح ہو سکتا ہے۔۔۔
ہم سے وعدے کئے بہاروں کے
اور سوکھا گلاب تم نکلے
یا​
ہم سے وعدہ کیا بہاروں کا
اور سوکھا گلاب تم نکلے
دراصل یہ میری پہلی غزل تھی۔۔۔ بحر سے نئی نئی آشنائی تھی، اور' وعدے' میں 'ع' کی تقطیع میں غلطی ہو گئی تھی۔ پہلے یہی شعر ہوں کہا تھا:​
ہم سے کر کے وعدے بہاروں کے
ایک سوکھا گلاب تم نکلے
شکریہ!​

الف عین — فروری 8، 2013 11:14 صبح
نہیں، وہی روپ درست اور بہتر ہے، سوکھے گلاب والا، ’تم‘ کے ساتھ ’سوکھے‘ ہی آنا چاہئے۔، سوکھا نہیں۔ اور ’وعدے‘ ہی بہتر ہے۔
سید اِجلاؔل حسین — فروری 8، 2013 11:51 صبح
نہیں، وہی روپ درست اور بہتر ہے، سوکھے گلاب والا، ’تم‘ کے ساتھ ’سوکھے‘ ہی آنا چاہئے۔، سوکھا نہیں۔ اور ’وعدے‘ ہی بہتر ہے۔

بہت شکریہ اعجاز بھائی!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C-%D9%BE%D8%A7%D8%A8%D9%86%D8%AF%D9%90-%D8%A8%D8%AD%D8%B1-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D8%B2-%D8%AF%D8%B3%D9%85%D8%A8%D8%B1-10%D8%8C-2012.59503/