برائے تنقید ۔۔۔ اور بھی لاکھ درمیاں تھی بات۔

بشارت گیلانی — جنوری 5، 2014 5:19 صبح
حسن سے عشق تک کہاں تھی بات۔
اور بھی لاکھ درمیاں تھی بات۔
٭٭٭
کچھ ہمیں بات جاں سے بڑھ کر تھی۔
کچھ اُسے راندگیِٔ جاں تھی بات۔
٭٭٭
ہم عبث سوچتے رہے غمِ یار۔
کب کوئی بات میں نہاں تھی بات۔
٭٭٭
اک نظر بھر کے اس نے دیکھا تھا۔
رہ گئی پھر وہیں جہاں تھی بات۔
٭٭٭
شرح و تفسیرِ گفتگو کچھ تھی۔
اور لہجے سے کچھ عیاں تھی بات۔
٭٭٭
آپ کو ایک جنبشِ لب تھی۔
اور ادھر ایک آسماں تھی بات۔
٭٭٭
یوں تو کہنے کو بات تھی لیکن۔
کہنا چاہو تو امتحاں تھی بات۔
٭٭٭
لا سے الا تلک سفر کیا تھا۔
ابدیت سی بیکراں تھی بات۔
شاہد شاہنواز — جنوری 5، 2014 7:05 شام
حسن سے عشق تک کہاں تھی بات۔
اور بھی لاکھ درمیاں تھی بات۔
٭٭٭
کچھ ہمیں بات جاں سے بڑھ کر تھی۔
کچھ اُسے راندگیِٔ جاں تھی بات۔

٭٭٭
ہم عبث سوچتے رہے غمِ یار۔
کب کوئی بات میں نہاں تھی بات۔

٭٭٭
اک نظر بھر کے اس نے دیکھا تھا۔
رہ گئی پھر وہیں جہاں تھی بات۔
٭٭٭
شرح و تفسیرِ گفتگو کچھ تھی۔
اور لہجے سے کچھ عیاں تھی بات۔

٭٭٭
آپ کو ایک جنبشِ لب تھی۔
اور ادھر ایک آسماں تھی بات۔

٭٭٭
یوں تو کہنے کو بات تھی لیکن۔
کہنا چاہو تو امتحاں تھی بات۔

٭٭٭
لا سے الا تلک سفر کیا تھا۔
ابدیت سی بیکراں تھی بات۔
سرخ کیے گئے شعر مجھے غیر واضح اور مبہم محسوس ہوتے ہیں۔ نظر ثانی کرکے دیکھئے ۔۔۔
بشارت گیلانی — جنوری 6، 2014 4:31 صبح
جی ضرور۔
بہت شکریہ۔
الف عین — جنوری 6، 2014 6:57 صبح
بہت خوب۔ ابہام میں حسن تو محسوس ہو رہا ہے
بشارت گیلانی — جنوری 6، 2014 9:37 صبح
ذرہ نوازی ہے۔ قصداّ بھی یک گونہ ابہام رکھا، مجھے اس میں ایک لطافت کا احساس رہتا ہے۔
مزمل شیخ بسمل — جنوری 6، 2014 10:35 صبح
شرح و تفسیرِ گفتگو کچھ تھی۔
اور لہجے سے کچھ عیاں تھی بات۔
صدقا!!
بہت خوب۔ مزید کلام کا انتظار رہے گا۔
بشارت گیلانی — جنوری 6، 2014 5:54 شام
شکریہ۔ اے خدا بسملِ محفل کو شکیبائی دے!
محمد یعقوب آسی — جولائی 2، 2014 10:26 شام
فی زمانہ ابہام کی کئی صورتیں گِنوائی جا رہی ہیں اور ان کی وکالت بھی کی جا رہی ہے، تاہم ابہام ابہام ہے اور اگر یہ ارادی ہو تو پھر قاری کہیں گم ہو جاتا ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE-%D8%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA-%D8%AA%DA%BE%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%94.70892/