یاسر علی — جولائی 13، 2020 5:07 صبح
الف عین
محمّد احسن سمیع :راحل:
آزاد نظم
(شاعری)
شَبِ تنہائی میں گھر کے
کسی تاریک کونے میں
تمھاری یاد کا دیپک جلا کر
خون کے ہی آنسوؤں سے
با وضو ہو کر
پیالہ اک
جگر کے خون کا بھر کر
جگر کے خون میں اپنی
ڈبو کر انگلیاں میں نے
سہانے دل کے صفحوں پر
تخیل عشق سے لے کر
تمھاری شاعری کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
الف عین — جولائی 13، 2020 6:36 صبح
تمہاری شاعری؟ شاعر تو اپنی ہی شاعری کر سکتا ہے، دوسروں کی شاعری کس طرح ممکن ہے؟
اس سے پہلے خون جگر کا دہرایا جانا بھی درست نہیں
پیالہ اک
جگر کے خون کا بھر کر
ڈبو کر انگلیاں اس میں
سہانے دل کے صفحوں پر
تخیل عشق سے لے کر
جو میں نے شاعری کی ہے۔۔
.. مجو زہ ترمیم، اس سے پہلے کے مصرعے درست ہیں @
یاسر علی — جولائی 13، 2020 8:31 صبح
بہت بہت شکریہ الف عین صاحب!
ااردو ویب سے بہت مستفید ہو رہا ہوں۔۔
یاسر علی — جولائی 13، 2020 1:22 شام
سر یوں کیسا رہے گا۔
رائے دیجیئے گا۔۔
تخیل عشق سے ہی لے کے
میں نے صرف تم پر
شاعری کی ہے۔۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جولائی 13، 2020 1:49 شام
تخیل عشق سے ہی لے کے
میں نے صرف تم پر
شاعری کی ہے۔۔
’’لے کے‘‘ میرے خیال میں بغیر ضرورتِ شعری، غیر فصیح اور غیر رواں ہے بہ نسبت ’’لے کر‘‘ کے۔
دوسرے یہ کہ ’’ہی‘‘ یہاں بھرتی کا ہے۔
ایک تجویز
تخیل عشق سے لے کر
فقط تم پر ہی میں نے
شاعری کی ہے۔۔۔
دعاگو،
راحلؔ
یاسر علی — جولائی 13، 2020 3:08 شام
بہت بہت شکریہ آپ کے زیر سائیہ بہت کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے۔۔