شیرازخان — نومبر 24، 2013 7:26 شام
بڑی کوشش کی مگر یہ دو سادہ سے شعر کسی بحر میں آنے کا نام نہیں لیتے۔۔۔برائے مہربانی کوئی بحر میں لا دے؟؟
میرے کھیتوں میں ہوئی ہے بارش تو دیکھو
وہ دور کے پہاڑ بھی سہانے ہو گئے ہیں
دکھ ایسا کہ نکالا ہو ہمیں اپنے ہی گھر سے
بات اتنی کہ تری محفل سے اٹھائے گئے ہم
سید عاطف علی — نومبر 24، 2013 7:29 شام
بڑی کوشش کی مگر یہ دو سادہ سے شعر کسی بحر میں آنے کا نام نہیں لیتے۔۔۔ برائے مہربانی کوئی بحر میں لا دے؟؟
میرے کھیتوں میں ہوئی ہے بارش تو دیکھو
وہ دور کے پہاڑ بھی سہانے ہو گئے ہیں
دکھ ایسا کہ نکالا ہو ہمیں اپنے ہی گھر سے
بات اتنی کہ تری محفل سے اٹھائے گئے ہم
آپ کسی خاص بحر میں لانا چاہتے ہیں یا یہ کسی بھی بحر میں نہیں آرہے؟
شیرازخان — نومبر 24، 2013 7:36 شام
آپ کسی خاص بحر میں لانا چاہتے ہیں یا یہ کسی بھی بحر میں نہیں آرہے؟
کسی بھی بحر میں آ جائیں بس معنی تبدیل نہ ہوں اور الفاظ تقریبن ملتے جلتے ہی ہوں۔۔۔۔!!
سید عاطف علی — نومبر 24، 2013 7:53 شام
مرے کھیتوں کی بارش کو تو دیکھو
وہ پربت بھی سہانے ہو گئے ہیں
غالباً ۔ یہ بحر ۔ مفاعیلن مفاعیلن فعولن ہے۔
دوسرے شعر میں شاعر کا مافی الضمیر مجھ پر واضح نہیں ہو رہا ۔
شیرازخان — نومبر 24، 2013 8:15 شام
مرے کھیتوں کی بارش کو تو دیکھو
وہ پربت بھی سہانے ہو گئے ہیں
غالباً ۔ یہ بحر ۔ مفاعیلن مفاعیلن فعولن ہے۔
دوسرے شعر میں شاعر کا مافی الضمیر مجھ پر واضح نہیں ہو رہا ۔
بہت خوب جناب ۔۔تھوڑا سا معنی واضع نہیں لگ رہا۔۔معنی یہ چھوڑنے ہیں کے اپنے گھر میں خوشحالی ہو تو ہر چیز بھلی لگتی ہے دنیا کے میلے بھلے لگتے ہیں۔۔نہیں تو کچھ اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔دوسرے میں سادا سے معنی میں ہیں کے تری محفل سے کسی نے مجھے اٹھایا ہے اور لگ رہا ہے جیسے مرے اپنے گھر سے کسی نے نکال دیا مجھ کو۔۔۔
سید عاطف علی — نومبر 24، 2013 8:31 شام
بہت خوب جناب ۔۔تھوڑا سا معنی واضع نہیں لگ رہا۔۔معنی یہ چھوڑنے ہیں کے اپنے گھر میں خوشحالی ہو تو ہر چیز بھلی لگتی ہے دنیا کے میلے بھلے لگتے ہیں۔۔نہیں تو کچھ اچھا نہیں لگتا۔۔۔ ۔دوسرے میں سادا سے معنی میں ہیں کے تری محفل سے کسی نے مجھے اٹھایا ہے اور لگ رہا ہے جیسے مرے اپنے گھر سے کسی نے نکال دیا مجھ کو۔۔۔
ایک شعر میں ایک ہی تخیل کو فوکس کیا کیجیےبھائی ۔مصرعوں کو بھی مربوط کیا جاتا ہے ورنہ شعر کا خیال بکھر جاتا ہے۔یہ میری رائے ہے۔
شیرازخان — نومبر 24، 2013 8:46 شام
ایک شعر میں ایک ہی تخیل کو فوکس کیا کیجیےبھائی ۔مصرعوں کو بھی مربوط کیا جاتا ہے ورنہ شعر کا خیال بکھر جاتا ہے۔یہ میری رائے ہے۔
بیشک جناب۔۔معنی تو تشریح کے لحاظ سے لکھے تھے ورنہ تخیل ایک ہی ہےالبتہ مصرعے مربوط نہ ہوں۔۔۔یا شاید سر کھپانے کے بعد کچھ سمجھ نہیں آ رہا مجھے۔۔۔
سید عاطف علی — نومبر 24، 2013 9:01 شام
پھر اسے اسطرح بیان کیا جائے تو کیسا رہے گا ؟
تیری محفل سے اٹھا یا گیا مجھ کو جس دم
یوں لگا جیسے نکالا مجھے گھر سے میرے
اور اس کی بحر یہ ہو گی۔
فاعلاتن فعِلاتن فعِلاتن فعلن۔
شیرازخان — نومبر 24، 2013 9:04 شام
واہ واہ اب خوب ہے جناب۔۔ذرا پہلے کو بھی کچھ نکھار دیجیے عین نوازش۔۔۔۔!!
شیرازخان — نومبر 24، 2013 9:22 شام
کیا یوں بات بنتی ہے ؟ برائے اصلاح
مفاعیلن-مفاعیلن-مفاعیلن-فعولن
مرے کھیتوں میں ہوئی ہے ابھی بارش تو دیکھو
وہ پربت دور کے بھی اب سہانے ہو گئے ہیں
@
سید عاطف علی
الف عین
محمد اسامہ سَرسَری
عظیم — نومبر 25، 2013 5:22 صبح
مرے کهیتوں کی بارش آ کے دیکهو
کہ پربت تک سہانے ہو گئے ہیں
الف عین — نومبر 25، 2013 7:53 صبح
کیا یوں بات بنتی ہے ؟ برائے اصلاح
مفاعیلن-مفاعیلن-مفاعیلن-فعولن
مرے کھیتوں میں ہوئی ہے ابھی بارش تو دیکھو
وہ پربت دور کے بھی اب سہانے ہو گئے ہیں
@
سید عاطف علی
الف عین
محمد اسامہ سَرسَری
عظیم نے مختصر بحر میں کر دیا ہے، ویسے اگر یہی زمین ہو، تو درست نہیں، ’ہوئی‘ کا تلفظ غلط ہے۔ فعلن نہیں، فعو (ہُ ئی) ہوتا ہے، اس طرح
ہوئی ہے میرے کھیتوں میں جو بارش، اس کو دیکھو
کیا جا سکتا ہے
شیزان — نومبر 25، 2013 8:28 صبح
مجھ کو، تجھ کو، اس کو
ان الفاظ کی جگہ مجھے، تجھے یا اسے استعمال کرنا زیادہ مناسب نہیں کیا؟