براہِ اصلاح

آئی کے عمران — اپریل 6، 2017 9:59 صبح
احباب! السلام علیکم
ایک غزل کے ساتھ حاضر ہوا ہوں امید ہے آپ اپنی قیمتی آرا سے نوازیں گے‫.
کوئی گلہ لبوں پہ نہ لانے کی ٹھان لی
یوں زندگی سے ہم نے نبھانے کی ٹھان لی
اک داستان غم کی، سناتا ہے ہر کوئی
سو ہم نے درد اپنا چھپانے کی ٹھان لی
اشکوں نے تو ذرا، اثر اس پر نہیں کیا
مایوس ہو کے خون بہانے کی ٹھان لی
دل بن گیا ہے اپنا، ٹھکانہ بتان کا
سو ہم نے سومنات یہ ڈھانے کی ٹھان لی
وہ بھولتا نہیں ہے،تری چشمِ نیم وا
عمران کو شراب پلانے کی ٹھان لی
محمد عظیم الدین — اپریل 6، 2017 10:49 صبح
اشکوں نے تو ذرا، اثر اس پر نہیں کیا
مایوس ہو کے خون بہانے کی ٹھان لی
خوب ہے جناب، اصلاح سے قبل داد قبول کیجیے۔
آئی کے عمران — اپریل 6، 2017 12:34 شام
بہت بہت شکریہ جناب بہت نوازش
الف عین — اپریل 7، 2017 7:56 صبح
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے۔ ان دو اشعار کو پھر دیکھو،
اشکوں نے تو ذرا، اثر اس پر نہیں کیا
مایوس ہو کے خون بہانے کی ٹھان لی
÷÷÷ کچھ واضح نہیں ہوا۔ کس کا خون، کیا محبوبہ کا ہی قتل کر ڈالا؟؟؟ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری!!
دل بن گیا ہے اپنا، ٹھکانہ بتان کا
سو ہم نے سومنات یہ ڈھانے کی ٹھان لی
بتاں تو مستعمل ہوتا ہے اردو میں لیکن بغیر اضافت بتان نہیں۔ اسے بدل دیں، ’بتوں‘ کر کے۔ جیسے
دل بن ۔۔۔۔ بتوں کا اب
محمد عظیم الدین — اپریل 7، 2017 8:00 صبح
کس کا خون، کیا محبوبہ کا ہی قتل کر ڈالا؟؟؟ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری!!
:D:D جناب کیا حس مزاح ہے۔ آئی کے عمران بھائی، برا مت مانیے گا، محترم الف عین کہ یہ جملہ پڑھ کر بے اختیار ہنسی نکل گئی۔
آئی کے عمران — اپریل 7، 2017 11:06 صبح
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے۔ ان دو اشعار کو پھر دیکھو،
اشکوں نے تو ذرا، اثر اس پر نہیں کیا
مایوس ہو کے خون بہانے کی ٹھان لی
÷÷÷ کچھ واضح نہیں ہوا۔ کس کا خون، کیا محبوبہ کا ہی قتل کر ڈالا؟؟؟ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری!!
دل بن گیا ہے اپنا، ٹھکانہ بتان کا
سو ہم نے سومنات یہ ڈھانے کی ٹھان لی
بتاں تو مستعمل ہوتا ہے اردو میں لیکن بغیر اضافت بتان نہیں۔ اسے بدل دیں، ’بتوں‘ کر کے۔ جیسے
دل بن ۔۔۔۔ بتوں کا اب

بہت بہت شکریہ محترم الف عین صاحب
خون بہانے سے میرا مطلب تھا کہ اشکوں کے بدلے خون
‫‫ کیا آنکھوں سے خون بہانے والی بات درست نہیں،؟
جی بہت نوازش مجھے معلوم نہیں تھا کہ بتان کو بغیر اضافت کے باندھنا درست نہیں
آپ کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے بدل دیتا ہوں
امید ہے آپ اسی طرح اصلاح فرماتے رہیں گے۔
ڈاکٹرعامر شہزاد — اپریل 7، 2017 11:08 صبح
کوئی گلہ لبوں پہ نہ لانے کی ٹھان لی
یوں زندگی سے ہم نے نبھانے کی ٹھان لی

اک داستان غم کی، سناتا ہے ہر کوئی
سو ہم نے درد اپنا چھپانے کی ٹھان لی
بہت خوب بھیا ۔ زبردست
آئی کے عمران — اپریل 7، 2017 11:09 صبح
:D:D جناب کیا حس مزاح ہے۔ آئی کے عمران بھائی، برا مت مانیے گا، محترم الف عین کہ یہ جملہ پڑھ کر بے اختیار ہنسی نکل گئی۔
کوئی بات نہیں عظیم الدین بھائی بات ہنسی والی ہی تھی۔
آئی کے عمران — اپریل 7، 2017 11:13 صبح
بہت خوب بھیا ۔ زبردست

بہت بہت شکریہ بھائی
Anas naz — اپریل 7، 2017 11:26 صبح
احباب! السلام علیکم
ایک غزل کے ساتھ حاضر ہوا ہوں امید ہے آپ اپنی قیمتی آرا سے نوازیں گے‫.
کوئی گلہ لبوں پہ نہ لانے کی ٹھان لی
یوں زندگی سے ہم نے نبھانے کی ٹھان لی
اک داستان غم کی، سناتا ہے ہر کوئی
سو ہم نے درد اپنا چھپانے کی ٹھان لی
اشکوں نے تو ذرا، اثر اس پر نہیں کیا
مایوس ہو کے خون بہانے کی ٹھان لی
دل بن گیا ہے اپنا، ٹھکانہ بتان کا
سو ہم نے سومنات یہ ڈھانے کی ٹھان لی
وہ بھولتا نہیں ہے،تری چشمِ نیم وا
عمران کو شراب پلانے کی ٹھان لی
محمد ریحان قریشی — اپریل 7، 2017 12:20 شام
خون بہانے سے میرا مطلب تھا کہ اشکوں کے بدلے خون
‫‫ کیا آنکھوں سے خون بہانے والی بات درست نہیں،؟
درست تو ہے مگر ذہن اس طرف بھی جا سکتا ہے جس طرف جناب الف عین نے اشارہ کیا ہے۔ اسے بدل ہی دیں تو اچھا ہوگا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%81%D9%90-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.95643/