براہِ اصلاح

آئی کے عمران — اپریل 14، 2017 12:17 شام
ذکرِ اغیار مت کیا کر
اے مرے یار مت کیا کر
کھول کر زلفِ عنبریں کو
دل گرفتار مت کیا کر
بے رخی کر کے،زندگی سے
ہم کو بیزار مت کیا کر
بات کر امن و آشتی کی
ذکرِ تلوار مت کیا کر
آج عرضِ وصال سن لے
روز انکار مت کیا کر
چل قدم سے قدم ملا کے
تیز رفتار مت کیا کر
یاد کر کے اسے تو عمران
درد بیدار مت کیا کر
محمد عظیم الدین — اپریل 14، 2017 2:10 شام
مطلع میں غالباً ’کر‘ چھوٹ گیا ہے شاید یوں لکھنا تھا۔
ذکرِ اغیار مت کیا کر​
اشعار اچھے ہیں۔​
آئی کے عمران — اپریل 14، 2017 3:27 شام
جی بہت بہت شکریہ
میں نے تبدیلی کر دی یے
منت پذیر
الف عین — اپریل 15، 2017 12:18 شام
مبتدی نئی نئی بحروں میں طبع آزمائی نہ کیا کریں تو اچھا ہے۔
محمد ریحان قریشی ہی بحر کے بارے میں کوئی رائے دے سکتے ہیں۔
آئی کے عمران — اپریل 15، 2017 3:59 شام
مبتدی نئی نئی بحروں میں طبع آزمائی نہ کیا کریں تو اچھا ہے۔
محمد ریحان قریشی ہی بحر کے بارے میں کوئی رائے دے سکتے ہیں۔

فاعلاتن مفاعلن فع
میں پہلے بھی اس بحر میں غزلیں لکھ چکا ہوں میرے لیے یہ نئی نہیں تھی
شاید یہ کوئی غیر معروف بحر ہو
محمد ریحان قریشی — اپریل 15، 2017 4:32 شام
گو کہ یہ بحر بھی میں نے اس سے پہلے مستعمل نہیں دیکھی مگر پھر بھی رواں ہے چل جائے گی.
الف عین — اپریل 16، 2017 5:14 صبح
جب افاعیل مقرر کر کے ہی غزل کہی گئی ے تو درست ہی ہو گی۔ میں تقطیع کرنے کی زحمت کیوں کروں۔
کسی لفظ کے تلفظ میں تو گڑبڑ نہیں ہے۔
آئی کے عمران — اپریل 17، 2017 2:13 شام
جب افاعیل مقرر کر کے ہی غزل کہی گئی ے تو درست ہی ہو گی۔ میں تقطیع کرنے کی زحمت کیوں کروں۔
کسی لفظ کے تلفظ میں تو گڑبڑ نہیں ہے۔
جی بحر مقرر کر کے ہی لکھی ہے غلطی تو کوئی نہیں ہے
اشعار پر اگر بات ہو جائے تو‫‫‫‫‫‫‫۔۔۔
اصل میں یہ ایک معروف بحر فاعلاتن مفاعلن فعلن کا زحاف ہے شاید آخری رکن فعلن کا لن گرا کر فع بچا ہے۔
لیکن یہ بحر اتنی مستعمل نہیں ہے۔
الف عین — اپریل 18، 2017 5:18 صبح
غیر مستعمل بحور سے بچیں تو اچھا ہے۔
ویسے کوئی غلطی نہیں ہے، یہ کہہ چکاہوں۔ تقطیع کر کے نہیں دیکھ رہا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%81%D9%90-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.95782/