آئی کے عمران — مئی 1، 2017 5:29 صبح
اے کاتبِ تقدیر بتا لکھی ہوئی ہے
کوئی مرےدکھ کی بھی دوا لکھی ہو ئی ہے
مجنوں کے قبیلے سے تعلق ہے ہمارا
سو دشت نوردی کی سزا لکھی ہوئی ہے
آ تھام مرا ہاتھ بِنا فال نکالے
میری تو ہتھیلی پہ وفا لکھی ہوئی ہے
بھیجا ہے ہمیں ترکِ تعلق کا خط اس نے
خوش رہنے کی آخر پہ دعا لکھی ہوئی ہے
یہ راز کسی کو نہیں معلوم ہے عمران
کب کیسے کہاں اپنی قضا لکھی ہوئی ہے
محمد عظیم الدین — مئی 1، 2017 5:36 صبح
بھیجا ہے ہمیں ترکِ تعلق کا خط اس نے
خوش رہنے کی آخر پہ دعا لکھی ہوئی ہے
کیا کہنے عمران صاحب، بہت خوب
الف عین — مئی 1، 2017 7:10 صبح
واہ، اچھی غزل ہے۔ مطلع ہی اگر دوسرا کہہ سکو تو بہتر ہے۔ پہلے مصرع میں ردیف بے مصرف ہے۔
آخر پہ درست ہو گا یا ’آخر میں‘؟
امان زرگر — مئی 1، 2017 7:26 صبح
ایک مشورہ،
اے کاتبِ تقدیر شفا لکھی ہوئی ہے
کوئی مرے دکھ کی بھی دوا لکھی ہو ئی ہے
آئی کے عمران — مئی 1، 2017 12:14 شام
کیا کہنے عمران صاحب، بہت خوب
بہت بہت شکریہ محمد عظیم الدین صاحب
بہت نوازش
آئی کے عمران — مئی 1، 2017 12:19 شام
واہ، اچھی غزل ہے۔ مطلع ہی اگر دوسرا کہہ سکو تو بہتر ہے۔ پہلے مصرع میں ردیف بے مصرف ہے۔
آخر پہ درست ہو گا یا ’آخر میں‘؟
بہت بہت شکریہ محترم الف عین صاحب ،بہت بہت ممنون ہوں آپ کا
کوشش کرتا ہوں اگر کوئی اور مطلع ہو جائے
میں اور پہ کے بارے میں آپ ہی رہنمائی کریں۔
آئی کے عمران — مئی 1، 2017 12:21 شام
ج
ایک مشورہ،
اے کاتبِ تقدیر شفا لکھی ہوئی ہے
کوئی مرے دکھ کی بھی دوا لکھی ہو ئی ہے
محترم امان اللہ صاحب بہت بہت شکریہ آپ کا مشورہ اچھا لگا۔
الف عین — مئی 2، 2017 3:35 شام
امان اللہ صاحب کی ترمیم قبول کر لو۔ اچھی ہے ماشاء اللہ