سخن آرائی — فروری 15، 2020 4:01 شام
کوئی اگر ہے میرا تو مجھ سا دکھائی دے
الفت کا رنگ ہو تو پھر گہرا دکھائی دے
اٹی ہیں میری آنکھیں زمانوں کی دھول سے
ہے معجزہ کہ اب ترا چہرا دکھائی دے
اس عہدِ نو بہار نے لوٹا مِرا سکوں
آنکھوں کو کوئی نقش پرانا دکھائی دے
لازم ہے دردِ دل پہ نظر کا شعور بھی
آنکھیں ہوں اشکبار تو پھر کیا دکھائی دے
گریہ سے میری آسماں ہوا جو لال لال
دنیا کو تیری گال کا غازہ دکھائی دے
یہ عشق ہی امیر جو تیرے سفر کا ہو
ہر ذرہ تجھ کو یار کا رستہ دکھائی دے
تمام اساتذہ کرام سے اصلاح کی درخواست ہے
الف عین — فروری 16، 2020 7:28 صبح
مطلع کا دوسرا مصرع بحر سے خارج ہے، 'تو پھر' صرف تُپِ تقطیع ہوتا ہے مفہوم واضح نہیں ہو رہا ورنہ کچھ متبادل مشورہ دے سکتا تھا
اسی طرح
گریہ سے میری آسماں ہوا جو لال لال
میں ہوا' تشدید کے ساتھ ہی وزن میں آتا ہے' ہوا جو لال لال' کو' ہوتا ہے لال لال ' یا 'جو سرخ ہو گیا' یا اس قسم کے فقرے سے بدل دیں
باقی اشعار سب درست ہیں بلکہ اچھے ہیں
سخن آرائی — فروری 16، 2020 2:13 شام
مطلع کا دوسرا مصرع بحر سے خارج ہے، 'تو پھر' صرف تُپِ تقطیع ہوتا ہے مفہوم واضح نہیں ہو رہا ورنہ کچھ متبادل مشورہ دے سکتا تھا
آپ کی عنایت اور توجہ پر انتہائی مشکور ہوں
اگر استاذ محترم مطلع کو اس طرح بدل دیا جائے کہ
ہونٹوں پہ پیاس، ہاتھ میں دریا دکھائی دے
کوئی اگر ہے میرا تو مجھ سا دکھائی دے
سخن آرائی — فروری 16، 2020 2:15 شام
گریہ سے میری آسماں ہوا جو لال لال
میں ہوا' تشدید کے ساتھ ہی وزن میں آتا ہے' ہوا جو لال لال' کو' ہوتا ہے لال لال ' یا 'جو سرخ ہو گیا' یا اس قسم کے فقرے سے بدل دیں
باقی اشعار سب درست ہیں بلکہ اچھے ہیں
اگر اس کو اس طرح کر دیں کہ
گریہ سے میری آسماں جو سرخ پڑ گیا
دنیا کو تیری گال کا غازہ دکھائی دے
الف عین — فروری 18، 2020 4:25 صبح
تیری گال پر غور نہیں کیا تھا، گال اور غازہ دونوں مذکر ہیں، تیرے گال کا... ہونا چاہیے۔ اسی طرح گریہ بھی مذکر ہے، گریہ سے میرے... ہونا تھا۔ پڑنا زیادہ تر پیلا کے ساتھ آتا ہے، چہرہ پیلا پڑ گیا، سرخ نہیں پڑتا
پہلا مصرع درست تو ہو گیا لیکن آسماں کا آخری الف کا اسقاط اچھا نہیں لگ رہا۔
گریہ سے میرے سرخ فلک ہو گیا ہے جو
الف عین — فروری 18، 2020 4:28 صبح
آپ کی عنایت اور توجہ پر انتہائی مشکور ہوں
اگر استاذ محترم مطلع کو اس طرح بدل دیا جائے کہ
ہونٹوں پہ پیاس، ہاتھ میں دریا دکھائی دے
کوئی اگر ہے میرا تو مجھ سا دکھائی دے
دو لخت اب بھی لگ رہا ہے اگرچہ تکنیکی سقم سے پاک ہو گیا ہے
سخن آرائی — فروری 18، 2020 6:07 صبح
دو لخت اب بھی لگ رہا ہے اگرچہ تکنیکی سقم سے پاک ہو گیا ہے
ہونٹوں پہ پیاس ہاتھ میں دریا دکھائی دے
کوئی تو ہو جو دہر میں مجھ سا دکھائی دے
سخن آرائی — فروری 18، 2020 6:15 صبح
تیری گال پر غور نہیں کیا تھا، گال اور غازہ دونوں مذکر ہیں، تیرے گال کا... ہونا چاہیے۔ اسی طرح گریہ بھی مذکر ہے، گریہ سے میرے... ہونا تھا۔ پڑنا زیادہ تر پیلا کے ساتھ آتا ہے، چہرہ پیلا پڑ گیا، سرخ نہیں پڑتا
پہلا مصرع درست تو ہو گیا لیکن آسماں کا آخری الف کا اسقاط اچھا نہیں لگ رہا۔
گریہ سے میرے سرخ فلک ہو گیا ہے جو
آپ کی توجہ ، رہنمائی کا بے حد شکریہ آپ کی رہنمائی سے ہم جیسے قدم قدم چلنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے بہت آسانی اور اطمینانِ قلب کا سبب ہے اللہ تعالی آپ کو آسانیاں عطاء فرمائے
گریہ سے میرے سرخ فلک ہو گیا ہے جو
دنیا کو تیرے گال کا غازہ دکھائی دے
الف عین — فروری 18، 2020 6:51 صبح
اب درست لگ رہے ہیں دونوں اشعار
سخن آرائی — فروری 18، 2020 6:57 صبح
اب درست لگ رہے ہیں دونوں اشعار
بہت بہت شکریہ