توقیر عالم — مئی 3، 2016 3:18 شام
دل لبھانے کا سامان کیا جاے
مشکل زندگی کو آسان کیا جاے
دے کر درسِ انسانیت بھول گیے
اُن فرشتوں کو انسان کیا جاے
جو طالبِ دیدارِ یارہیں اب
ان کی موت کا فرمان کیا جاے
روز روز کےتانوں سے آچھا ہے تقی
مر کے آج ان کو پریشان کیا جاے
محمد ریحان قریشی — مئی 4، 2016 10:57 صبح
موزوں نہیں لگ رہا جناب.
توقیر عالم — مئی 4، 2016 11:00 صبح
شعری کی الف ب تک کا نہیں پتا جناب موزوں کیسے لگے
محمد ریحان قریشی — مئی 4، 2016 11:01 صبح
میرے خیال میں تو ابهی آپ کو شاعری زیادہ سے زیادہ پڑهنی چاہیے تا کہ طبیعت موزوں ہو جائے.
توقیر عالم — مئی 4، 2016 11:06 صبح
بیاں گر تیرا بے باک نہ ہوتا
مندِ قیس گریباں چاک نہ ہوتا
تجھ کو لے ڈوبا خیال ِصنم
وگرنہ تو رستے کی خاک نہ ہوتا
گر امیرِ شہر کرتا لحاظ شریعیت
شہر کا قصہ المناک نہ ہوتا
توقیر عالم — مئی 4، 2016 11:07 صبح
میرے خیال سے تو ابهی آپ کو شاعری زیادہ سے زیادہ پڑهبی چاہیے تا کہ طبیعت موزوں ہو جائے.
بہتر محترم
توقیر عالم — مئی 4، 2016 11:08 صبح
بیاں گر تیرا بے باک نہ ہوتا
مندِ قیس گریباں چاک نہ ہوتا
تجھ کو لے ڈوبا خیال ِصنم
وگرنہ تو رستے کی خاک نہ ہوتا
گر امیرِ شہر کرتا لحاظ شریعیت
شہر کا قصہ المناک نہ ہوتا
منند
محمد ریحان قریشی — مئی 4، 2016 11:37 صبح
بیاں گر تیرا بے باک نہ ہوتا
مندِ قیس گریباں چاک نہ ہوتا
تجھ کو لے ڈوبا خیال ِصنم
وگرنہ تو رستے کی خاک نہ ہوتا
گر امیرِ شہر کرتا لحاظ شریعیت
شہر کا قصہ المناک نہ ہوتا
یہ بهی غیر موزوں ہے.