وجدان شاہ — ستمبر 12، 2014 5:33 شام
حصارِ ذات کے اندر تلاش کر مجھ کو
پھر اس کے بعد دماغوں پہ فاش کر مجھکو
میں منجمد ہوں کسی کوہِ یقیں کی صورت
مرے جنونِ گماں پاش پاش کر مجھ کو
ترے جہاں میں ذہانت بڑی جسارت ہے
یہی سزا دے کہ نذرِ معاش کر مجھ کو
یہ میرے زاویے تیری ہی دین ہیں جاناں
گزر گیا ہے تیرا غم تراش کر مجھ کو
جو تیرگی ہی مقدر ہے ان دماغوں کا
تو یوں کرو کہ اجالوں کی لاش کر مجھ کو
اگر خوشی کی رفاقت نہیں ملی وجدان
تو ان غموں کے لیے یار باش کر مجھ کو
قیصرانی — ستمبر 12، 2014 5:41 شام
ایک ہی مصرعہ میں کرو اور کر، کچھ کنفیوذنگ لگ رہا ہے

وجدان شاہ — ستمبر 12، 2014 5:43 شام
ایک ہی مصرعہ میں کرو اور کر، کچھ کنفیوذنگ لگ رہا ہے
عزیزی اصلاح کے لئے ہی دی ہے
قیصرانی — ستمبر 12، 2014 5:45 شام
عزیزی اصلاح کے لئے ہی دی ہے
اس بارے تو اساتذہ ہی فرمائیں گے، میں نے تو ایک سرسری نگاہ ڈالی تو یہ بات محسوس ہوئی تھی

سید عاطف علی — ستمبر 12، 2014 5:49 شام
میں منجمد ہوں کسی کوہِ یقیں کی صورت
یہ مصرع بحر کی حد سے متجاوز لگ رہا ہے۔ اور باقی اشعار میں مضمون کا ابلاغ بہت کمزور ہے یا ہو ہی نہیں رہا۔
الفاظ کی نژست اچھی ہے مگر لہجہ کہیں کہیں ٹھیک نہیں ۔لگتا ہے کہ آپ خود بہتر کر سکتے ہیں ۔
وجدان شاہ — ستمبر 12، 2014 5:52 شام
اس بارے تو اساتذہ ہی فرمائیں گے، میں نے تو ایک سرسری نگاہ ڈالی تو یہ بات محسوس ہوئی تھی
تو جانِ جاناں اجالوں کی لاش کرمجھ کو۔۔۔۔۔۔کیسا رہیگا؟؟؟؟
قیصرانی — ستمبر 12، 2014 5:54 شام
تو جانِ جاناں اجالوں کی لاش کرمجھ کو۔۔۔۔۔۔کیسا رہیگا؟؟؟؟
بہتر لگ رہا ہے

الف عین — ستمبر 13، 2014 4:34 صبح
خوب غزل ہے، مزید بہتر ہو سکتی ہے۔ عاطف کے مشورے درست ہیں۔
حصارِ ذات کے اندر تلاش کر مجھ کو
پھر اس کے بعد دماغوں پہ فاش کر مجھکو
۔۔دماغوں پہ فاش کس طرح؟
میں منجمد ہوں کسی کوہِ یقیں کی صورت
مرے جنونِ گماں پاش پاش کر مجھ کو
۔۔تقطیع میں نہیں،
ہوں منجمد کسی کوہِ یقین کی صورت
کیا جا سکتا ہے
ترے جہاں میں ذہانت بڑی جسارت ہے
یہی سزا دے کہ نذرِ معاش کر مجھ کو
۔۔درست
یہ میرے زاویے تیری ہی دین ہیں جاناں
گزر گیا ہے تیرا غم تراش کر مجھ کو
÷۔۔وسرے مصرع میں ’ترا‘ تقطیع ہوتا ہے، مکمل ’تیرا‘ نہیں۔ اچھا شعر ہے، بس ’جاناں‘ اسے عامیانہ بنا رہا ہے کچھ کچھ۔
جو تیرگی ہی مقدر ہے ان دماغوں کا
تو یوں کرو کہ اجالوں کی لاش کر مجھ کو
۔۔دماغوں کا مقدر؟؟ شعر سمجھ میں بھی نہیں آیا اور کرو اور کر کا شتر گربہ تو ہے ہی۔
اگر خوشی کی رفاقت نہیں ملی وجدان
تو ان غموں کے لیے یار باش کر مجھ کو
یار باش کرنا؟ محاورہ نہیں۔
وجدان شاہ — ستمبر 13، 2014 9:20 صبح
اآپ سب مہربانوں کا بہت بہت شکریہ۔۔۔۔صحیح سمت میں رہنمائی فرمائی۔۔۔۔نوازش
عینی مروت — ستمبر 13، 2014 9:38 صبح
یہ میرے زاویے تیری ہی دین ہیں ہمدم
گزر گیا ہے ترا غم تراش کر مجھ کو
واہ!!
محمد اسامہ سَرسَری — ستمبر 19، 2014 11:08 صبح
یہ میرے زاویے تیری ہی دین ہیں جاناں
گزر گیا ہے تیرا غم تراش کر مجھ کو
واہ کیا بات ہے!!
بہت داد قبول فرمائیے۔
وجدان شاہ — ستمبر 20، 2014 3:01 شام
واہ کیا بات ہے!!
بہت داد قبول فرمائیے۔
بہت بہت نوازش جناب