بس کر اب خواب دکھانے والے (بحرِ رمل)

نوید ناظم — اپریل 16، 2017 6:52 شام
بس کر اب خواب دکھانے والے
وہ نہیں لوٹ کے آنے والے
مر گیا کوئی گلی میں اُس کی
یوں نبھاتے ہیں نبھانے والے
رک تو جا، پوچھ تو لے پھر ان سے
مجھ کو محفل سے اٹھانے والے
اک نظر میرے قفس پر بھی ہو
اے پرندوں کو اڑانے والے
تجھ کو ویرانی دعا دیتی ہے
دشت سے ہاتھ ملانے والے
آنکھ خیرہ ہو گئی سورج کی
رخ سے زلفوں کو ہٹانے والے
روشنی میں تُو ہمیشہ کھیلے
جا، مِرے گھر کو جلانے والے
نوید ناظم — اپریل 16، 2017 6:54 شام
محترم سر الف عین
دیگر اساتذہءِ کرام
عاطف ملک — اپریل 16، 2017 7:09 شام
مر گیا کوئی گلی میں اُس کی
یوں نبھاتے ہیں نبھانے والے
واہ نوید بھائی کیا بات ہے۔۔۔خوب کہی۔
داد قبول کیجیے۔
اس غزل میں تسکینِ اوسط نامی بلا تو نہیں ہے؟؟
یہ اپنے علم کیلیے پوچھ رہا ہوں کیونکہ مجھے تسکینِ اوسط کا بالکل علم نہیں ہے
بس کر اب خواب دکھانے والے

آنکھ خیرہ ہو گئی سورج کی
یہ مصرعے پڑھنے میں دقت ہو رہی ہے۔
تقطیع کیسے کی جائے ان کی؟؟
الف عین — اپریل 17، 2017 4:53 صبح
نہیں یہ فاعلاتن مفاعلن فعلن نہیں، فاعلاتن فعلاتن فعلن ہے۔
یہ مصرع تو بحر سے خارج ہی ہے
آنکھ خیرہ ہو گئی سورج کی
بحر میں تب آتا ہے جب ہو گئی کو ’ہُگئی‘ تقطیع کریں جو غلط ہے۔
تکنیکی طور پر باقی اشعار خوب ہیں۔
اس کے مفہوم کو جس طرح میں سمجھا ہوں، اس میں ’ان کی محفل‘ کا شمول ضروری ہے
رک تو جا، پوچھ تو لے پھر ان سے
مجھ کو محفل سے اٹھانے والے
نوید ناظم — اپریل 17، 2017 1:02 شام
نہیں یہ فاعلاتن مفاعلن فعلن نہیں، فاعلاتن فعلاتن فعلن ہے۔
یہ مصرع تو بحر سے خارج ہی ہے
خیرہ ہو گئی سورج کی
بحر میں تب آتا ہے جب ہو گئی کو ’ہُگئی‘ تقطیع کریں جو غلط ہے۔
تکنیکی طور پر باقی اشعار خوب ہیں۔
اس کے مفہوم کو جس طرح میں سمجھا ہوں، اس میں ’ان کی محفل‘ کا شمول ضروری ہے
رک تو جا، پوچھ تو لے پھر ان سے
مجھ کو محفل سے اٹھانے والے
بہت شکریہ سر۔۔۔
آنکھ خیرہ ہو گئی سورج کی
بحر میں تب آتا ہے جب ہو گئی کو ’ہُگئی‘ تقطیع کریں جو غلط ہے۔
مصرع بدل دیا۔۔۔ اب دیکھیے گا آپ
آنکھ سورج کی نہ چندھیا جائے
رخ سے زلفوں کو ہٹانے والے
اس کے مفہوم کو جس طرح میں سمجھا ہوں، اس میں ’ان کی محفل‘ کا شمول ضروری ہے
رک تو جا، پوچھ تو لے پھر ان سے
مجھ کو محفل سے اٹھانے والے
سر بالکل یہی مفہوم ہے۔۔۔۔ ' ان کی' کر دیا۔
رک تو جا، پوچھ تو لے پھر ان سے
ان کی محفل سے اٹھانے والے
نوید ناظم — اپریل 17، 2017 1:17 شام
واہ نوید بھائی کیا بات ہے۔۔۔خوب کہی۔
داد قبول کیجیے۔
اس غزل میں تسکینِ اوسط نامی بلا تو نہیں ہے؟؟
یہ اپنے علم کیلیے پوچھ رہا ہوں کیونکہ مجھے تسکینِ اوسط کا بالکل علم نہیں ہے
یہ مصرعے پڑھنے میں دقت ہو رہی ہے۔
تقطیع کیسے کی جائے ان کی؟؟
نوازش!:)
تسکینِ اوسط پر محمد ریحان قریشی بھائی روشنی ڈالیں تو ہی بات بنے گی۔
''بس کر اب خواب دکھانے والے'' اس کی تقطیع شاید ایسے ہو' اگر کچھ غلطی ہوئی تو اساتذہ رہنمائی فرما دیں گے۔
بس ک رب خوا = فاعلاتن
ب د کھا نے = فعلاتن
والے = فعلن
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 17، 2017 1:33 شام
بڑے لوگوں کی بڑی باتیں۔شاندار نوید بھائی
الف عین — اپریل 18، 2017 5:16 صبح
اب درست ہو گئے ہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B3-%DA%A9%D8%B1-%D8%A7%D8%A8-%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8-%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92-%D8%A8%D8%AD%D8%B1%D9%90-%D8%B1%D9%85%D9%84.95825/