فاخر — اکتوبر 10، 2018 11:05 صبح
ایک مطلع دو شعر
فاخرؔ ،نئی دہلی
مجھ سے یوں جدا رہنا ، مجھ سے ماسوا رہنا
تیرا یہ تغافل ہے ، مجھ سے یوں خفا رہنا
میں سمجھ رہا ہوں سب ، میں بھلا سکوں گا کب
پاس آکے یوں بالکل ، تیرا باحیار ہنا
یاد تیری آتی ہے ، آنکھ بھیگ جاتی ہے
اے صنم گزارش ہے، تم کہ با وفا رہنا
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 10، 2018 11:19 صبح
ایک مطلع دو شعر
فاخرؔ ،نئی دہلی
مجھ سے جدا رہنا ، مجھ سے ماسوا رہنا
تیرا یہ تغافل ہے ، مجھ سے یوں خفا رہنا
میں سمجھ رہا ہوں سب ، میں بھلا سکوں گا کب
پاس آکے یوں بالکل ، تیرا باحیار ہنا
یاد تری آتی ہے ، آنکھ بھیگ جاتی ہے
اے صنم گزارش ہے، تم کہ با وفا رہنا
پہلا مصرع بحر میں نہیں۔ شاید کوئی ٹائپو ہے
فاخر — اکتوبر 10، 2018 11:25 صبح
پہلا مصرع بحر میں نہیں۔ شاید کوئی ٹائپو ہے
شکریہ محترم !!! خلیل صاحب !!! لفظ ’’یوں‘‘ ٹائپ سے چھوٹ گیا تھا اس کو اب درج کردیا ہوں ۔پورا مصرع یوں ہے؏
’’ مجھ سے یوں جدا رہنا ، مجھ سے ماسوا رہنا ‘‘ اب مصرعہ مکمل ہوگیا ۔
منذر رضا — اکتوبر 10، 2018 11:56 صبح
میں استاد تو نہیں ہوں۔۔۔۔شاعر بھی نہیں ہوں۔۔۔
لیکن سچ کہوں تو لاجواب غزل۔۔۔۔
جذبات کی غمازی کرتی ہے۔۔۔۔
سلامت رہیے۔۔۔۔۔
کیا خوب کہا۔۔۔۔
اے صنم گزارش ہے ، تم کہ باوفا رہنا
واہ۔۔۔۔
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 10، 2018 12:00 شام
اچھے اشعار ہیں۔
اے صنم گزارش ہے، تم کہ با وفا رہنا
اس مصرع کو نثر کریں تو یوں بنتا ہے
اے صنم! تم
سے گزارش ہے کہ باوفا رہنا۔
فاخر — اکتوبر 10، 2018 12:30 شام
میں استاد تو نہیں ہوں۔۔۔۔شاعر بھی نہیں ہوں۔۔۔
لیکن سچ کہوں تو لاجواب غزل۔۔۔۔
جذبات کی غمازی کرتی ہے۔۔۔۔
سلامت رہیے۔۔۔۔۔
کیا خوب کہا۔۔۔۔
اے صنم گزارش ہے ، تم کہ باوفا رہنا
واہ۔۔۔۔
جزاک اللہ پسندیدگی پر تہہ دل سے شکریہ !!!
فاخر — اکتوبر 10، 2018 12:31 شام
اچھے اشعار ہیں۔
اس مصرع کو نثر کریں تو یوں بنتا ہے
اے صنم! تم سے گزارش ہے کہ باوفا رہنا۔
جزاک اللہ شکریہ !!!
فاخر — اکتوبر 10، 2018 1:00 شام
مکمل غزل ملاحظہ فرمائیں !!
غزل
افتخار فاخرؔ ،نئی دہلی
مجھ سے یوں جدا رہنا ، مجھ سے ماسوا رہنا
تیرا یہ تغافل ہے ، مجھ سے یوں خفا رہنا
میں سمجھ رہا ہوں سب ، میں بھلا سکوں گا کب
پاس آکے یوں بالکل ، تیرا باحیا رہنا
یاد تیری آتی ہے ، آنکھ بھیگ جاتی ہے
اے صنم گزارش ہے، تم سے ، با وفا رہنا
زندگی میں آفت ہو ، ہر طرف مصیبت ہو
اس گھڑی میں میری جاں ، تم ہی نا خدا رہنا
ساز ہو سراپا تم ، سوز بھی سراپا تم
میرے شعر کا فن ہو ، بن کے باصفا رہنا
منذر رضا — اکتوبر 10، 2018 1:03 شام
مکمل غزل ملاحظہ فرمائیں !!
لاجواب @افتخاررحمانی فاخر
غزل
افتخار فاخرؔ ،نئی دہلی
مجھ سے یوں جدا رہنا ، مجھ سے ماسوا رہنا
تیرا یہ تغافل ہے ، مجھ سے یوں خفا رہنا
میں سمجھ رہا ہوں سب ، میں بھلا سکوں گا کب
پاس آکے یوں بالکل ، تیرا باحیا رہنا
یاد تیری آتی ہے ، آنکھ بھیگ جاتی ہے
اے صنم گزارش ہے، تم سے ، با وفا رہنا
زندگی میں آفت ہو ، ہر طرف مصیبت ہو
اس گھڑی میں میری جاں ، تم ہی نا خدا رہنا
ساز ہو سراپا تم ، سوز بھی سراپا تم
میرے شعر کا فن ہو ، بن کے باصفا رہنا
فاخر — اکتوبر 11، 2018 8:28 صبح
اس غزل پر الف عین صاحب کی توجہ مطلوب تھی
الف عین صاحب
الف عین — اکتوبر 13، 2018 6:45 صبح
مجھ سے یوں جدا رہنا ، مجھ سے ماسوا رہنا
تیرا یہ تغافل ہے ، مجھ سے یوں خفا رہنا
مجھ سے ماسوا؟ سمجھ میں نہیں آیا
میں سمجھ رہا ہوں سب ، میں بھلا سکوں گا کب
پاس آکے یوں بالکل ، تیرا باحیا رہنا
بے ربطی محسوس ہو رہی ہے 'میں کیا سمجھ رہا ہوں؟ '
یاد تیری آتی ہے ، آنکھ بھیگ جاتی ہے
اے صنم گزارش ہے، تم سے ، با وفا رہنا
شتر گربہ ہے، پہلے مصرع میں تیری، دوسرے میں تم!
یاد کیا بے وفا کی نہیں آ سکتی؟
زندگی میں آفت ہو ، ہر طرف مصیبت ہو
اس گھڑی میں میری جاں ، تم ہی نا خدا رہنا
ٹھیک ہے
ساز ہو سراپا تم ، سوز بھی سراپا تم
میرے شعر کا فن ہو ، بن کے باصفا رہنا
با صفا کا تعلق؟
فاخر — اکتوبر 13، 2018 4:21 شام
بہت بہت شکریہ الف عین صاحب !!! درست امور کی نشاندہی فرمائی آئندہ اس پر خیال رہے گا۔