بغرضِ اصلاح

منذر رضا — جنوری 11، 2019 3:16 شام
السلام علیکم۔۔۔اساتذہ سے اصلاح کی درخواست ہے
الف عین
یاسر شاہ
محمد تابش صدیقی
سید عاطف علی
ان سے شکوہ سنا نہیں جاتا
اور ہم سے رہا نہیں جاتا
چھوڑ جینے کی بات کو ہمدم!
اب تو ہم سے مرا نہیں جاتا
ہم کو صیاد نے کیا آزاد
مگر اب تو اڑا نہیں جاتا
واعظوں نے ڈرا دیا اتنا
مجھ سے بادہ پیا نہیں جاتا
سارباں کون ہے، کہ قافلے سے
ایک پل کو رکا نہیں جاتا
فکر میری وہاں بھی جاتی ہے
کہ جہاں تک ہما نہیں جاتا
شکریہ۔۔
الف عین — جنوری 12، 2019 3:00 صبح
سارباں کون ہے، کہ قافلے سے
ایک پل کو رکا نہیں جاتا
قافلے سے رکا نہیں جاتا؟ سمجھ نہیں سکا
باقی اشعار درست ہیں
منذر رضا — جنوری 12، 2019 6:32 صبح
الف عین صاحب۔۔۔۔اس سے میری مراد یہ کہ قافلۂ عشق رکتا نہیں۔۔۔جیسے وہ فراق کا شعر
آج بھی قافلۂ عشق رواں ہے کہ جو تھا
الف عین — جنوری 13، 2019 4:14 صبح
الف عین صاحب۔۔۔۔اس سے میری مراد یہ کہ قافلۂ عشق رکتا نہیں۔۔۔جیسے وہ فراق کا شعر
آج بھی قافلۂ عشق رواں ہے کہ جو تھا
وہ تو درست ہے لیکن قافلے سے اور رکا نہیں جاتا سے یہ مفہوم نہیں نکلتا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%BA%D8%B1%D8%B6%D9%90-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.105021/