بن ضرورت کے کون آتا ہے

loneliness4ever — نومبر 19، 2015 6:36 صبح
السلام علیکم معزز احباب
امید اور دعا ہے اہل فورم خیر سے ہونگے
اور فقیر کی جسارت برداشت کرنے کو تیار ہونگے
احباب اور اساتذہ کی توجہ اور اصلاحی نگاہ کا طالب ہوں
امید ہے عنایت کا سلسلہ فقیر کے نام رہے گا
بن ضرورت کے کون آتا ہے
گیت خلوت کا گھر سناتا ہے
آگ تو محض اک ذریعہ ہے
گھر تو انسان ہی جلاتا ہے
غم بھلا کتنا ہی بڑا کیوں ہو
دل اسے بھول بھی تو جاتا ہے
گزرا کل آج بھی نہیں گزرا
وقت ملتے ہی پھر رلاتا ہے
عام سی بات کا ہو چرچا کیوں
دل تو اکثر ہی ٹوٹ جاتا ہے
فاعلاتن مفاعلن فعلن
توجہ کا طالب
س ن مخمور
loneliness4ever — نومبر 19، 2015 6:44 صبح
عزیز اور محترم اساتذہ
الف عین ، محمد یعقوب آسی ، محمد اسامہ سَرسَری ، مزمل شیخ بسمل، محمد خلیل الرحمٰن
دیگر احباب
ابن رضا ، کاشف اسرار احمد ،@ادب دوست ، راحیل فاروق
سید عاطف علی ، فاروق احمد بھٹی ،@فاتح
معذرت ان تمام احباب سے جن کے نام بندہ لکھنے سے رہ گیا
اللہ آباد و بے مثال رکھے تمام احباب و اساتذہ کو ۔۔۔۔ آمین
محمد تابش صدیقی — نومبر 19، 2015 6:45 صبح
بہت خوب۔
شاعری کا پوسٹ مارٹم تو اساتذہ ہی کریں گے۔
کیا بات ہے۔
گزرا کل آج بھی نہیں گزرا
وقت ملتے ہی پھر رلاتا ہے
اکمل زیدی — نومبر 19، 2015 6:54 صبح
گزرا کل آج بھی نہیں گزرا
خوب ہے ...بس تھوڑا سا یہ واضح کردیں اس مصرے میں آج بھی ہے یا آج ابھی ہے .. ...کہیں الف مس تو نہیں ہوگیا یا ایسے ہی ہے...
loneliness4ever — نومبر 19، 2015 7:00 صبح
خوب ہے ...بس تھوڑا سا یہ واضح کردیں اس مصرے میں آج بھی ہے یا آج ابھی ہے .. ...کہیں الف مس تو نہیں ہوگیا یا ایسے ہی ہے...

اکمل زیدی صاحب آداب !! فقیر ممنون ہے اس درجہ توجہ پانے پر
خوب توجہ دلائی یہ ’’ بھی ‘‘ ہی لکھا ہے اور اگر یوں قابل قبول نہیں
تو اس بھی کو ’’ تک ‘‘ سے بدلا جا سکتا ہے ورنہ ’’آج بھی ‘‘ کو
’’ اب تلک ‘‘ سے بدلا جا سکتا ہے
loneliness4ever — نومبر 19، 2015 7:02 صبح
بہت خوب۔
شاعری کا پوسٹ مارٹم تو اساتذہ ہی کریں گے۔
کیا بات ہے۔

پوسٹ مارٹم ہی کی تو آس لگائے بیٹھا ہوں ۔۔۔ :D
آپ کی آمد، توجہ اور پسندیدگی پر فقیر ممنون و مسرور ہے
امید ہے عنایت کا یہ سلسلہ مستقل رہے گا
سید عاطف علی — نومبر 19، 2015 7:29 صبح
لفظی طور پر بن ضرورت کے بعد "کے" کا استعمال اگرچہ اتنا خاص عیب نہیں البتہ مجرد "بن ضرورت" زیادہ بہتر لگتا ہے خصوصاً شعر ی زبان میں ۔ اور معنوی اعتبار سے مطلع دونوں مصرعوں سے واضح اور بلند ہونا چاہیے مجھے کچھ کمی محسوس ہوئی۔۔
باقی اشعار میں معمولی لفظی بہتری کی گنجائش ہے مثلا کتنا کا الف گرتا ہوا محسوس ہو رہا ہے چھوٹی بحر میں ایسے لہجے کو بہت سنبھا ل کر رکھا جاتا ہے ۔ ۔
گزرا کل مین بھی یہی بات ہے اور معنوی لطافت بھی کم ہے۔
آخری شعر اچھا ہے ۔ اور کیوں کی جگہ کیا رکھا جائے تع سوسرا مصرع ذرا زیادہ چمک سکتا ہے ۔
مجموعی غزل بہر حال اچھی ہے ۔ ۔ ۔
شکیب — نومبر 19، 2015 8:24 صبح
خوب غزل کہی ہے بھائی۔
آگ تو محض اک ذریعہ ہے
گھر تو انسان ہی جلاتا ہے
زبردست۔
غم بھلا کتنا ہی بڑا کیوں ہو
تھوڑا odd سا لگ رہا ہے۔
دستخط:
دل کا ایسا اچھا ہوں
جیسے اب تک بچہ ہوں
اچھا اور بچہ کا قافیہ؟
اوور آل غزل بہت پسند آئی۔ زورِ قلم والا مصرع میری طرف سے۔:)
کاشف اسرار احمد — نومبر 19، 2015 8:52 صبح
بن ضرورت کے کون آتا ہے
گیت خلوت کا گھر سناتا ہے
مطلع دو لخت سا محسوس ہو رہا ہے۔ پہلے مصرع میں ضرورت کا ذکر ہے تو دوسرا مصرع گیت سنا رہا ہے! تُک سمجھ نہیں آیا بھائی !
آگ تو محض اک ذریعہ ہے
گھر تو انسان ہی جلاتا ہے
میرے خیال میں "ذریعہ" کے بجائے "سبب" زیادہ رواں لفظ ہوتا۔
غم بھلا کتنا ہی بڑا کیوں ہو
دل اسے بھول بھی تو جاتا ہے
روانی کی کمی ہے۔ ذرا سی محنت سے شعر بہتر ہو سکتا ہے۔ الفاظ اور ان کی نشست دونوں پر غور کریں۔
گزرا کل آج بھی نہیں گزرا
وقت ملتے ہی پھر رلاتا ہے
لفظ" گزرا " کی تکرار ایسی بھلی نہیں لگی۔ یہاں بھی بہتری آ سکتی ہے۔
عام سی بات کا ہو چرچا کیوں
دل تو اکثر ہی ٹوٹ جاتا ہے
"عام باتوں کا تذکرہ کیا ہو؟"۔۔ ایک تجویز جسے آپ مسترد بھی کر سکتے ہیں۔
کل ملا کر ایک اچھی کوشش ہے۔ ذرا سی محنت سے اور نکھر سکتی ہے۔
محمد یعقوب آسی — نومبر 19، 2015 9:56 صبح
سید عاطف علی اور کاشف اسرار احمد کی آراء بہت متوازن اور مفید ہیں۔ امید ہے کہ صاحبِ کلام توجہ فرمائیں گے۔
شعر میں بالعموم اور غزل میں بالخصوص ہر سطح پر جمالیات کی بہت اہمیت ہے۔ لفظیات، اصوات، قوافی، معانی، معاملہ بندی، مضمون آفرینی اور جتنے عناصر غزل کے ہیں، کوشش یہ ہونی چاہئے وہاں "چلے گا یار" کو جگہ نہ دی جائے۔ شعر کہنا ہم نے اختیار کیا ہے ہم پر ڈالا نہیں گیا؛ جب ایک عمل اختیار کیا ہے تو اس میں اپنی صلاحیتوں کی حد تک تکمیل کی کوشش لازم ٹھہری۔
محمد یعقوب آسی — نومبر 19، 2015 10:27 صبح
اپنی گزارشات غزل کے اشعار کے ساتھ شامل کر دی ہیں۔
بن ضرورت کے کون آتا ہے
گیت خلوت کا گھر سناتا ہے
دوسرے شعروں کی نسبت مطلع کہنا ہے میرے لئے تو ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ یہ آپ کی غزل کا بقول شخصے "مکھڑا" ہے۔ ایک شاعر رُخ زیبا کی محبوبیت اور جمالیات سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا، نہ کرنا چاہئے۔ قاری کی توجہ یہاں جذب نہیں ہو گی تو وہ بقیہ غزل کو بھی توجہ سے نہیں پڑھے گا۔
آگ تو محض اک ذریعہ ہے
گھر تو انسان ہی جلاتا ہے
اس میں ایک تو اظہار کی کمزوری ہے اور دوسرے ایک خلافِ واقعہ امر قطعیت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ "انسان ہی"؟ آتش زنی اور آتش زدگی میں کسی ایک کو قطعی طور پر خارج کرنا مقصود ہے تو اس کا جواز لے کے آئیے۔ پہلا مصرع یہاں محض مصرع برائے مصرع رہ گیا۔ لفظ ذریعہ کی بجائے اگر بہانہ ہوتا تو شاید مصرع کچھ سنبھل جاتا۔ فرض کیجئے یہ شعر یوں ہوتا:
آگ تو محض اک بہانہ ہے
گھر تو انسان خود جلاتا ہے
مضمون کچھ بدل گیا ہے، دیکھ لیجئے گا۔

غم بھلا کتنا ہی بڑا کیوں ہو
دل اسے بھول بھی تو جاتا ہے
یہاں زبان اور روزمرہ کا مسئلہ آن پڑا۔ بھلا بمعنی چاہے یا خواہ؟ اسے بھلے کہتے ہیں بھلا نہیں کہتے۔ دوسرا مصرع "بھول بھی تو جاتا ہے" کا تقاضا ہے کہ پہلے مصرعے کے مضمون سے مطابقت پیدا کی جائے۔
گزرا کل آج بھی نہیں گزرا
وقت ملتے ہی پھر رلاتا ہے
"گزرا کل" یہاں انگریزی سے ترجمے والے اسلوب کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں تھی۔ کل کا غم یا بے کلی یا کیفیت آج بھی قائم ہے۔ لفظ "گزرا" کس لئے؟ صوتیت میں الف کے دب جانے سے ثقالت در آئی۔ وقت ملنے کی شرط کیوں؟ یا تو کہئے وقت بے وقت، یا کچھ مضبوط اظہاریہ لائیے۔ آپ ایک عام سی بات کو خاص اور بہت خاص بات کو عام بنا کر بھی پیش کر سکتے ہیں، مگر آپ کو کوئی غیر ملفوظ جواز لانا ہو گا، قاری کو ایک بات کہے بغیر سجھانی ہو گی۔
عام سی بات کا ہو چرچا کیوں
دل تو اکثر ہی ٹوٹ جاتا ہے
دل ٹوٹنا عام سی بات نہیں ہے صاحب! اس کا تو ادراک بھی شاید دل گزشت سے مشروط ہے، ویسے نہیں پتہ چلتا کہ یہ کتنا بڑا سانحہ ہوتا ہے!۔ "عام سی بات" سے یہاں آپ کی مراد اگر "اکثر" ہے تو وہ اگلے مصرعے میں آ گیا۔ "اکثر ہی" کی لفظیات اہلِ ذوق پر گراں گزر سکتی ہے۔ پہلے مصرعے میں مقصود آپ کا غالباً یہ ہے اتنا چرچا کیوں، مگر اس کے بیان میں چھوٹی بحر آڑے آ گئی۔

چھوٹی بحر میں لکھنا مشکل ہوتا ہے۔ اور اگر آپ ایک بات کامیابی سے کر جاتے ہیں تو اس کی بندش بہت چست ہوتی ہے اور ایک خوش ذوق قاری کو لمبی بحر کی نسبت زیادہ مضبوطی سے اپنی گرفت میں لیتی ہے۔ تاہم یہ اصولِ قطعی نہیں؛ اس کا انحصار بھی آپ کی فکری لسانی فنی مہارت اور چابک دستی پر ہے۔
دعاؤں کا طالب رہا کرتا ہوں۔
فاروق احمد بھٹی — نومبر 19، 2015 11:31 صبح
بہت خوب مخمور بھائی اچھی کاوش ہے۔ ہماری طرف سے داد قبول فرمائیے۔
اصلاحی و تنقیدی گفتگو تو اساتذہ اور صاحبان علم نے فرما دی۔
loneliness4ever — نومبر 19، 2015 2:00 شام
فقیر تمام احباب کی آمد پر مسرور و ممنون ہے
اور امید کرتا ہے عنایت کا یہ سلسلہ مستقل رہے گا
عزیز اور محترم
محمد یعقوب آسی ، کاشف اسرار احمد ، سید عاطف علی
کی قیمتی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے فقیر کی عقل جہاں تک پہنچی
وہ ایک مرتبہ پھر خدمت میں حاضر ہے

اب ترے بعد کون آتا ہے
گیت خلوت کا گھر سناتا ہے
آگ تو محض اک بہانہ ہے
گھر تو انسان خود جلاتا ہے
غم کی پرواہ کس نے کرنی ہے
دل اسے بھول بھی تو جاتا ہے
دور مجھ سے تو ہو گیا ایسے
ساتھ رہ کر بھی یاد آتا ہے
سانحہ روز کا ہے چرچا کیا
دل تو کہتے ہیں ٹوٹ جاتا ہے
ایک احساس ہے محبت کا
وقت بے وقت جو رلاتا ہے
وقت اچھا ہو یا برا سید
وہ تو آخر گزر ہی جاتا ہے
جاسمن — نومبر 19، 2015 2:05 شام
آگ تو محض اک ذریعہ ہے
گھر تو انسان ہی جلاتا ہے
غم بھلا کتنا ہی بڑا کیوں ہو
دل اسے بھول بھی تو جاتا ہے
گزرا کل آج بھی نہیں گزرا
وقت ملتے ہی پھر رلاتا ہے
بہت خوب!
محمد یعقوب آسی — نومبر 19، 2015 3:20 شام
عزیز اور محترم
محمد یعقوب آسی ، کاشف اسرار احمد ، سید عاطف علی
کی قیمتی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے فقیر کی عقل جہاں تک پہنچی
وہ ایک مرتبہ پھر خدمت میں حاضر ہے

ایسی بھی کیا جلدی! کچھ دن اپنے شعروں کے ساتھ گزارئیے۔ ان کو دیکھئے، پرکھئے! آپ کے شعر آپ پر بہت کچھ کھولیں گے۔
محمد یعقوب آسی — نومبر 19، 2015 3:23 شام
غم کی پرواہ کس نے کرنی ہے
دل اسے بھول بھی تو جاتا ہے

اردو میں "پرواہ" نہیں "پروا" ہے۔
سید عاطف علی — نومبر 19، 2015 3:37 شام
اردو میں "پرواہ" نہیں "پروا" ہے۔
میرے خیال میں دونوں ٹھیک ہیں کہ لا پروائی کے بجائے لا پرواہی لکھا اور بولا جاتا ہے اگرچہ کہنے بولنے میں اتنا خاص خیال ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔ سو شعر میں ٹھیک کہا جاسکتا ہے ۔
شعر میں "کس نے " کرنی البتہ اچھا نہیں لگے گا ۔کس کو کرنی ہوناچاہیے۔یا پھر کون کرتا ہے ۔
محمد یعقوب آسی — نومبر 19، 2015 4:13 شام
میرے خیال میں دونوں ٹھیک ہیں کہ لا پروائی کے بجائے لا پرواہی لکھا اور بولا جاتا ہے اگرچہ کہنے بولنے میں اتنا خاص خیال ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔ سو شعر میں ٹھیک کہا جاسکتا ہے ۔
شعر میں "کس نے " کرنی البتہ اچھا نہیں لگے گا ۔کس کو کرنی ہوناچاہیے۔یا پھر کون کرتا ہے ۔

میرے محدود علم کے مطابق: پنجابی والے "پرواہ" کہتے ہیں، اردو والے "پروا"۔
"نے" اور "کو" کا مسئلہ بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔ اچھے خاصے معروف شعرا اور نثر نگار بھی اب "کو" کی جگہ "نے" لکھنے لگے ہیں۔
تحفظات میرے بھی قریب قریب وہی ہیں، جو آپ کے ہیں۔
مگر ۔۔ ۔۔ بات وہی ہے نقارخانے والی۔ اپنا کام ہے نشان دہی کر دینا، شاعر جانے اور اس کی ترجیحات جانیں۔
الف عین — نومبر 19، 2015 4:53 شام
دو باتیں مزید میری طرف سے۔
گیت تو خوشی کا ہونا چاہئے، اگر خلوت منفی چیز مانی جائے تو یہ نوحہ ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ بیان م یں ’گھر سنانا‘ چہ معنی دارد؟
غم بھلا کتنا ہی بڑا کیوں ہو
یہ تو الٹی بات ہو گئی، کہنا یہ تھا کہ غم کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D9%86-%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA-%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D9%88%D9%86-%D8%A7%D9%93%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92.85974/